اللہ کی نشانیاں
Al-Risala, October 1982, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
تمھارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ، پھر اپنے عرش پر متمکن ہوا۔ وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے ، دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں ۔
آگاہ ، اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور اسی کے لئے حکم فرمانا ۔ بڑی برکت والا ہے ، اللہ جو رب ہے سارے جہان کا ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں خرابی نہ ڈالو اس کی اصلاح کے بعد اور اللہ کو پکارو ڈر کے ساتھ اور امید کے ساتھ۔ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے قریب ہے ۔ اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری لئے ہوئے بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم ان کو کسی مردہ بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں ، پھر ہم اس بادل سے پانی نکالتے ہیں ، اس کے بعد ہم اس سے طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے ، تاکہ تم غور کرو ۔ اور جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے اپنا اپنا سبزہ نکالتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا، اس طرح ہم نشانیوں کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکر کرنے والے ہیں (الاعراف ۵۸-۵۲)