عرش عظیم والا
Al-Risala, October 1982, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں بے کار پیدا کیا ہے اور تم کو ہماری طرف پلٹنا نہیں پس برتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، کوئی اس کے سوا معبود نہیں، وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے تو اس کے پاس اس کے لئے کوئی دلیل نہیں، اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے، ایسے منکر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اور کہو کہ اے ہمارے رب مغفرت فرما اور رحم کر، تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (المومنون ۱۱۸ - ۱۱۵) محبت اللہ سے بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے سمندروں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے اوپر سے اتارا پھر اس سے زمین کو موت کے بعد زندگی بخشی اور اس نے زمین میں ہر قسم کے جان دار پھیلا دئے اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمانوں اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔ اور لوگوں میں ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر بناتے ہیں، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ کے ساتھ کرنی چاہئے۔ حالانکہ ایمان لانے والے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم دیکھ لیں اس وقت کو جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ ساری قوت اللہ کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ جب کہ پیروی کرنے والوں سے وہ لوگ بے تعلقی ظاہر کریں گے جن کی پیروی کی گئی تھی اور وہ عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے تمام اسباب ٹوٹ جائیں گے اور پیرو کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر دنیا کی طرف لوٹ جانا ملتا تو ہم بھی ان سے بیزاری دکھاتے جس طرح
وہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے کام ان کو حسرت کے لئے دکھائے گا اور وہ ہرگز آگ سے نکل نہ سکیں گے۔ اے لوگو زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں ان میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے وہ تم کو برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کو تم نہیں جانتے (البقرہ ۱۶۹ - ۱۷۳)