جنت اور جہنم
Al-Risala, October 1982, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے، اور قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں۔ اور صور پھونکا جائے گا پھر بے ہوش ہو جائیں گے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین
میں ہیں مگر جس کو اللہ چاہے، پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی کتاب لا کر رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کر دیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ لوگوں کے عمل سے خوب واقف ہے۔ اور کفر کرنے والے جہنم کی طرف گر وہ در گروہ ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے، کیا تمھارے پاس تمھارے اندر سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو تمھارے رب کی آیتیں سنائیں اور تم کو اس دن کی ملاقات سے ڈرائیں، وہ کہیں گے کیوں نہیں، مگر منکرں کے اوپر خدا کا حکم عذاب ثابت ہو گیا۔ کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے یہ ایک بری جگہ ہے گھمنڈ کرنے والوں کے لئے۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے انھیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا، یہاں تک کہ وہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھولے جائیں گے ، اور اس کے ذمہ دار ان سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، تم بہت اچھے آئے پس داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے۔ اور وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دیا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنائیں، پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد گھیرابنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں۔ اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا کہ ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا (الزمر ۷۵ ۔