نماز
Al-Risala, October 1982, pp. 19–1
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری بندگی کر اور نماز قائم کر میری یاد کے لئے (طٰہٰ ۔ نماز قائم کر دن ڈھلے سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے وقت قرآن بے شک فجر کا قرآن مشہود ہوتا ہے۔ اور رات کے وقت تہجد پڑھو، یہ تمھارے لئے نفل ہے، قریب ہے کہ تیرا رب تجھ کو مقام محمود پر اٹھائے (بنی اسرائیل ۷۹ ۔ اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو نصیحت پکڑیں اور صبر کرو اور اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا (ہود ۱۱۵ ۔ کی نگہداشت رکھو، اور بیچ کی نماز کی، اور اللہ کے آگے جھک کر کھڑے ہو (البقرہ ۔
نماز سے فارغ ہو جاؤ تو کھڑے اور لیٹے اور بیٹھے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب تم کو اطمینان ہو جائے تو پھر نماز قائم کرلو، بلا شبہ نماز ایمان والوں پر وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے (النساء۔ پڑھو اس کتاب کو جو تمھاری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے، اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو (العنكبوت۔ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم گنتی کے چند دن ہیں، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہیں ان کے ذمہ فدیہ ہے، ایک روزے کا بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا۔ اور جو اپنی خوشی سے زیادہ دے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔ رمضان کا مہینہ، اس میں قرآن اتارا گیا جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور روشن دلیلیں ہیں راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی۔ پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے تو وہ ضرور اس کا روزہ رکھے۔ اور جو شخص بیمار ہو یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اللہ تمھارے ساتھ آسانی چاہتا ہے وہ تمھارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس بات پر کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دو کہ میں ان سے قریب ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ چاہئے کہ وہ میری پکار پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ سیدھے راستے کو پالیں (البقرہ ۸۶-۱۸۳) اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی در اصل ظالم ہیں (البقره ۲۵۴) جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں ۔ اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کی
راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کر کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں انھیں کے لئے اللہ کا ثواب ہے ان کے رب کے پاسی۔ ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو، اور اللہ بے نیاز اور تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو، احسان جتا کر اور دکھ دے کر اپنی خیرات کو اکارت نہ کر دو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوا کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر جب اس پر زور کا مینہ برسا تو مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں گے اور اللہ منکروں کو سیدھی راہ نہیں اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اور اپنے دلوں کو ثابت کرنے کے خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو بلند زمین پر ہو، اس پر زور کی بارش ہوئی تو وہ دگنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو پھواری ہی کافی ہے۔ اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اس باغ میں اس کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا آ جائے اور اس کے بچے کم زور ہوں، اس وقت باغ پر ایک بگولہ آ پڑے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سوچو۔ اے ایمان والو، اپنے کمائے ہوئے ستھرے مال میں سے خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری چیز چھانٹنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر تمھیں لینا ہو تو تم ہرگز اس کو لینا گوارا نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے خوبیوں والا ہے۔ شیطان تم کو تنگ دستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کی راہ سمجھاتا ہے اور اللہ تم کو وعدہ دیتا ہے اپنی بخشش کا اور فضل کا۔ اور اللہ وسعت والا جاننے والا وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بہت بڑی خوبی مل گئی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (۲۶۱-۲۷۹)