Al-Risala · October 1982

عمرہ اور حج

Al-Risala, October 1982, pp. 1–21

By Maulana Wahiduddin Khan

حج اور عمرہ کو پورا کرو اللہ کے لئے، اور اگر تم روک دئے جاؤ تو جو قربانی میسر آئے اس کو پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص مریض ہو یا اس کو سر کی تکلیف ہو تو اس کے لئے فدیہ ہے روزے رکھنا یا صدقہ دینا یا قربانی کرنا۔ پھر جب تم کو امن ہو جائے

تو جو شخص حج کے ساتھ عمرہ کو ملائے تو اس پر قربانی ہے جو اسے میسر آئے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانہ میں اور سات گھر پہنچ کر، اس طرح وہ پورے دس روزے رکھ لے یہ حکم اس کے لئے ہے جس کا گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ چند معلوم مہینے ہیں، جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے تو اس کے لئے حج کے دوران میں کوئی شہوانی فعل اور کوئی بدعملی اور کوئی لڑائی جھگڑے کی بات جائز نہیں، اور جو نیکی تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور زادِ راہ لے لیا کر لو، سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے پس مجھ سے ڈرو اے عقل والو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، پھر جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس کو اس طرح یاد کرو جیسا کہ اس نے تمہیں سکھایا ہے، ورنہ اس سے پہلے تم بھٹکے ہوئے اس کے بعد طواف کے لئے پھر جہاں سے سب لوگ پھریں اور اللہ سے معافی چاہو، یہ شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ پھر جب اپنے حج کے ارکان پورے کرو تو اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو۔ پس کوئی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں دیدے، اور اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ یہی لوگ اپنی کمائی کے مطابق حصہ پائیں گے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔ اور اللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں، پھر جو شخص دو ہی دن میں جلدی چلا گیا تو اس پر گناہ نہیں اور جو شخص ٹھہر گیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اس کے لئے جو اللہ سے ڈرے، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم سب اسی کے پاس جمع کئے جاؤ گے (البقرہ ۲۰۳ ۔

Printed page