Al-Risala · October 1982

شریعت

Al-Risala, October 1982, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمھارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اُف بھی نہ کہو اور نہ انھیں جھڑکو اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو ۔ اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک جاؤ اور کہو کہ اے ہمارے رب ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے مجھ کو پالایب میں چھوٹا تھا۔ تمھارا رب خوب جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے۔ اگر تم نیک بن کر رہو تو وہ پلٹ آنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اور رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو، اور فضول خرچی نہ کرو ۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے

بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اور اگر تمھیں ان سے اعراض کرنا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو تو ان کو نرم جواب دو۔ اور اپنا ہاتھ نہ تو گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ تیرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو کھول دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اسے تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔ بے شک ان کو قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ اور زنا کے قریب نہ جاؤ وہ بے حیائی ہے اور بری اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، اور جو ظلم سے مارا جائے تو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کا حق دیا ہے، پس وہ قتل کرنے میں حد سے نہ نکلیں، اس کی مدد کی جائے اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر جس طرح کہ بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پوری عمر کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور جب ناپ کرو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے۔ اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہ ہو، بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا ہوگی۔ اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے۔ ان میں سے ہر برا کام تیرے رب کے نزدیک یہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے وحی کی ، اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ تم جہنم میں ڈال دئے جاؤ گے ملامت زدہ ہو کر اور بھلائی سے محروم ہو کر (بنی اسرائیل ۳۹ - ۳۹-۲۳)

Printed page