Al-Risala · October 1982

رحمان کے بندے

Al-Risala, October 1982, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے الجھیں تو وہ کہہ دیتے ہیں تم کو سلام۔ اور جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو جہنم کے عذاب سے بچالے اس کا عذاب تو لپٹ جانے والا ہے۔ وہ بڑا ہی برا ٹھکانا اور مقام ہے۔ اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا۔ قیامت کے روز اس کو دہرا عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت

کے ساتھ رہے گا۔ الاّ یہ کہ کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنا چاہئے۔ اور وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب وہ کسی لغو چیز پر گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ اور جنہیں اگر ان کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اس پر اندھے بہرے کی طرح نہیں گرتے۔ اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ یہی لوگ بالا خانوں میں جگہ پائیں گے کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور اس میں ان کا استقبال تحیّۃ اور سلام کے ساتھ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ ٹھکانا اور وہ مقام (الفرقان ۷۴- ۴۳) بھروسہ اللہ پر اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ اے ایمان لانے تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں تمھارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔ پس اللہ سے ڈرو جتنا تمھارے بس میں ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمھارے لئے بہتر ہے۔ اور جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تم کو کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تم کو بخش دے گا، اللہ قدرداں اور بردبار ہے۔ وہ حاضر اور غائب کو جاننے والا ہے اور دانا اور زبردست ہے (التغابن ۱۸- ۱۳) حکمت کی باتیں اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر شرک بلا شبہ بڑا ظلم ہے۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھوٹنے میں دو سال لگے، یہ کہ میرا شکر کرو اور اپنے والدین کا، میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک کرو جس کو تم نہیں جانتے تو ان کی بات نہ ماننا، اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اور پیروی اس شخص کے راستہ کی کرو جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو میری طرف پلٹنا ہے ، اُس

وقت میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کر رہے تھے۔ اے بیٹے ، کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ، اللہ اس کو نکال لائے گا وہ لطیف و خبیر ہے۔ نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور بدی سے منع کر اور جو مصیبت پڑے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔ اور لوگوں سے منہ نہ پھیر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان ۱۹ - ۱۳)

Printed page