Al-Risala · October 1982

حرام و حلال

Al-Risala, October 1982, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

کہو، آؤ میں تھیں سناؤں کہ تمھارے رب نے تمھارے لئے کیا چیزیں حرام کی ہیں۔ یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے مار نہ ڈالو۔ ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ۔ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو ہلاک نہ کرو جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ مگر حق کے ساتھ۔ باتوں کی تمھیں ہدایت کرتا ہے تاکہ تم سوچو۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ۔ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول میں انصاف کرو۔ ہم کسی شخص پر اتنی ہی ذمہ داری ڈالتے ہیں جتنا اس کے بس میں ہو۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی بات کہو خواہ اپنے رشتہ دار کے خلاف کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا۔ اللہ تمھیں ان کی ہدایت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، اور یہی راستہ میرا سیدھا راستہ ہے۔ تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، کہ وہ اللہ کے راستے سے ہٹا کر تم کو متفرق کر دیں گے۔ اللہ اس کی تم کو ہدایت کرتا ہے تاکہ تم بچو (الانعام ۵۴-۱۵۲) کہو، میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں۔ فحش کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کے لئے اس نے سند نہیں اتاری۔ اور یہ کہ اللہ پر ایسی بات کہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ ہر گروہ کے لئے ایک مدت ہے، پھر جب ان کی مدت آ جاتی ہے تو ایک گھڑی کی دیر یا جلدی نہیں ہوتی۔ اے بنی آدم، جب تمھارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیتیں سنائیں تو جو کوئی ڈرے گا اور اصلاح کرلے گا تو اس کے لئے نہ خوف ہے اور اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلائیں گے اور ان سے سرکشی کریں گے تو وہی آگ والے ہیں

جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (الاعراف ۳۶ - ۳۳)

Printed page