اطمینان والی روح
Al-Risala, October 1982, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دار بنایا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزماتا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔ تم لوگ یتیم کے ساتھ عزت کا سلوک نہیں کرتے۔ میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح پڑے ہوئے ہو۔ جب زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ کر دیا جائے گا اور تمھارا رب ظاہر ہو گا اور فرشتے قطار در قطار آئیں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لائی جائے گی، اس دن انسان کو سمجھ آجائے گی۔ مگر اب سمجھ میں آنے کا موقع کہاں۔ آدمی کہے گا، کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے آگے کچھ بھیجا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں۔ اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ اے اطمینان والی روح، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اللہ سے راضی، اللہ تجھ سے راضی۔ شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں (الفجر ۳۰- ۱۵)