اصلاح کا طریقہ
Al-Risala, October 1982, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انھیں غصہ آ جائے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہی اور انھوں نے نماز قائم کی اور وہ اپنے کام باہم مشورہ سے کرتے ہیں۔ اور ان کو ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان پر چڑھائی کی جائے تو وہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو ظلم کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ الزام کے قابل تو وہ ہیں جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتی کرتے ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یقیناً یہ ہمت کے کام ہیں (الشوری ۳۷ - ۳۹)