اللہ کی مہمانی
Al-Risala, October 1982, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا انکار کرنے والے یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں، ہم نے انکار کرنے والوں کی مہمانی کے لئے جہنم بنا رکھی ہے۔ کہو، کیا ہم تم کو بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے والے کون ہیں۔ وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں بھٹکتی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کی ملاقات کا یقین نہ کیا۔ ان کے اعمال اکارت ہو گئے، قیامت کے دن ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کا بدلہ جہنم ہے، اس انکار کے
سبب سے جو انھوں نے کیا ، اور انھوں نے میری نشانیوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق اڑایا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا ان کی میزبانی کے لئے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو ، اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لئے روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی ، خواہ ہم اتنی ہی روشنائی اور لے آئیں ۔ کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے ، پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کا امید وار ہو اس کو چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے (الکہف ۱۱۰ - ۱۰۲) مومن کی معاشی زندگی اے ایمان لانے والو جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خرید و فروخت چھوڑ دو ، یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور تم کو کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے کھیل تماشے سے اور تجارت سے ۔ اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (الجمعة ۱۹ - ۱۱)