نشانیوں کو جھٹلانے والے
Al-Risala, October 1982, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شخص میری نصیحت سے منہ پھیرے گا، اس کے لئے ہے تنگ زندگی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا وہ کہے گا کہ اے میرے رب کیوں تو نے مجھ کو اندھا اٹھایا، دنیا میں تو میں آنکھ والا تھا۔ فرمائے گا، ہاں، اسی طرح پہنچی تھیں تمھارے پاس ہماری نشانیاں، پھر تم نے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج تم کو بھلایا جارہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی نشانیاں نہ ماننے والے کو بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت باقی رہنے والا ہے (طہٰ ۷ ۱۲-۱۲۴) انصاف کی گواہی اے ایمان والو اللہ کے لئے کھڑے ہونے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم انصاف کو چھوڑ دو، انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اللہ کا وعدہ ہے ایمان والوں سے اور نیک عمل کرنے والوں سے کہ ان کے لئے بڑی بخشش اور ثواب ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو وہی ہیں دوزخ میں جانے والے (المائدہ ۱۰-۸)