Al-Risala · October 1982

جن کی کوششیں قابل قدر ٹھہریں گی

Al-Risala, October 1982, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم نے انسان کو پیدا کیا پانی کی ایک مخلوط بوند سے تاکہ ہم اس کا امتحان لیں۔ پس ہم نے اس کو سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اس کو راستہ دکھایا، چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا۔ ہم نے انکار کرنے والوں کے لئے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ بے شک نیک لوگ شراب کے ایسے پیالے پیئیں گے جن میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی۔ اس چشمہ سے اللہ کے بندے پیئیں گے، وہ

وہ اس کی شاخیں نکال لیں گے جس طرف چاہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم کو صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر یہ ۔ ہم کو تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا ڈر لگا ہوا ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن تو اللہ نے ان کو اس دن کی آفت سے بچا لیا اور ان کو تازگی اور سرور سے نوازا۔ اور انھوں نے جو صبر کیا اس کے بدلے میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا فرمایا۔ وہاں وہ اونچی مسندوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ نہ ان کو دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ جاڑے کی سردی۔ جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی۔ اور اس کے پھل ہر وقت ان کی دسترس میں ہوں گے اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔ وہ نہایت موزوں انداز سے بھرے اور وہاں ان کو ایک اور شراب کے پیالے پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ یہ اس میں ایک چشمہ ہے جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے۔ اور ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی سن پر رہیں گے۔ تم انھیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دئے گئے وہاں تم جدھر بھی نظر ڈالو گے عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ بے شک یہ تمھارے عمل کا بدلہ ہے اور تمھاری سعی مقبول ہوئی (اللہ ہر) جزا و سزا کا دن جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب تارے بکھر جائیں گے۔ اور جب سمندر پھاڑ دئے جائیں گے۔ اور جب قبریں کھول دی جائیں گی۔ اس وقت ہر آدمی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے اے انسان، کس چیز نے تجھ کو اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھ کو پیدا کیا۔ پھر تجھے درست کیا اور تجھ کو مناسب بنایا۔ جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا ۔ ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جزا اور سزا کو جھٹلاتے ہو۔ حالانکہ تمھارے اوپر نگراں مقرر ہیں ۔ معزز لکھنے والے۔ تمھارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔ بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اور بے شک برے لوگ جہنم میں جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے۔ ہاں، تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب کہ

ایک شخص کے لئے دوسرے کے لئے کچھ کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اور اس دن فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا (الانفطار)

Printed page