حج ایک دعوتی ادارہ
Al-Risala, October 1982, pp. 43–34
By Maulana Wahiduddin Khan
حج ابراهیمی تاریخ کا اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دعوت حق کی جو عالمی منصوبہ بندی کی گئی، اسی کے مختلف مراحل کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی ربانی مشن میں لگائے گا جس میں حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو لگایا، وہ ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام کو اسی طرح جاری رکھے گا جس طرح خدا کے پاک پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔
خدا کے دعوتی منصوبے کی تکمیل کے لئے حضرت ابراہیم اپنے وطن سے نکلے، اسی طرح حاجی بھی اپنے وطن سے نکل کر زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ وہ دین کی خاطر بے وطن ہونے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے بالکل سادۀ اور معمولی زندگی پر قناعت کی اسی طرح حاجی احرام باندھ کر یہ عزم کرتا ہے کہ وہ صرف ناگزیر ضرورت پر اکتفا کرکے اپنی توجہ کو اصل مقصد کی طرف لگائے رہے گا۔ انھوں نے کعبہ کے گرد طواف کرکے خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کو استوار کیا اسی طرح حاجی بھی کعبہ کا طواف کرکے خدا کا وفا دار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ تقاضوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خاندان پر یہ حالت گزری کہ پانی کی تلاش میں وہ صفا و مروہ کے درمیان دوڑے اسی طرح حاجی دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرکے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی خاطر وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے خواہ اس کے گھر والوں پر وہ کیفیت گزر جائے۔ جو ہاجرہ اور اسماعیل پر حضرت ابراہیم کو شیطان نے خدا کے کام سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکیں اسی طرح حاجی علامتی شیطان پر رمی کرکے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی شیطان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اگر اس نے اس کو ورغلایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا کی خاطر بیٹے کی جان تک پیش کرنی پڑی اسی طرح حاجی جانور کو قربان کرکے یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کی خاطر وہ قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ حضرت ابراہیم کا دعوتی مشن آخرت سے آگاہ کرنے کا مشن تھا، چنانچہ حاجی میدان عرفات میں جمع ہوکر میدان حشر کو یاد کرتا ہے تاکہ اس سب سے بڑی حقیقت کی یاد کو وہ اپنے ذہن کا جزو بنائے اور اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے۔ حضرت ابراہیم کو جب جب ان کے رب نے پکارا وہ فوراً حاضر ہوگئے اسی طرح حاجی اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملک لا شريك لك (میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور اقتدار میں تیرا کوئی شریک نہیں) اس طرح حاجی اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر ہر وقت حاضر ہونے کے لئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ دعوت اسلامی کا مرکز ہے اور حج اسلام کے داعیوں کا عالمی اجتماع۔
حج کے موقع پر جو افعال کئے جاتے ہیں وہ سب وہی ہیں جو حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کی یادگار ہیں۔ حج کے مناسک انھیں واقعات کا تمثیلی اعادہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کے درمیان مختلف صورتوں میں پیش آئے۔ حاجی بطور شعار (علامت) انھیں حج کے دنوں میں دہراتا ہے اور اس طرح اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ اسی طرح داعی بن کر رہے گا جس طرح حضرت ابراہیم دنیا میں خدا کے داعی بن کر ان میں سے کچھ دعوتی زندگی کے براہ راست مرحلے ہیں اور کچھ بالواسطہ مرحلے۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بتاتی ہے کہ حج کے یہ مراسم ان کی دعوتی زندگی کا جزو یا ان کے دعوتی سفر کے مراحل تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے حج اور کعبہ کی زیارت محض ایک قسم کی سالانہ مذہبی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوتی شعور اور تبلیغی روح زندہ ہو تو حج کا اجتماع خود بخود دعوتی اہمیت اختیار کرلے گا اور سالانہ دعوتی کانفرنس کے ہم معنی بن جائے گا۔ مگر جب مسلمانوں میں دعوتی روح ختم ہو جائے تو حج اسی طرح ایک بے روح عمل بن کر رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بنا ہوا ہے۔ وہ پتھر کے شیطان پر کنکریاں پھینکتے ہیں مگر زندہ شیطان کو زیر کرنے کے لئے کچھ نہیں وہ علامتی اعمال کو دہراتے ہیں مگر حقیقی اعمال کی ادائگی کے لئے ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں