حج ذریعہ اتحاد
Al-Risala, October 1982, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف وانتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ ان کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اس کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے اتحاد کا ایسا طاقت ور ذریعہ ہونا چاہئے جس میں تمام اختلافات پگھل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کاروایتی ہجوم بن کر رہ گیا ہے نہ کہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع۔ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جوان کی تو جہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگا دے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے۔ دعوتِ امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی۔