آدمی بدل جاتا ہے
Al-Risala, October 1982, pp. 8–13
By Maulana Wahiduddin Khan
عبدالملک بن مروان ایک اموی خلیفہ تھا، خلیفہ بننے سے پہلے عبدالملک کا شمار بڑے فقہا میں ہوتا وہ زیادہ تر مسجد میں رہتا اور عبادت اور دینی مطالعہ میں مشغول رہتا تھا۔ حتیٰ کہ لوگ اس کو حمامۃ المسجد (مسجد کا کبوتر) کہنے لگے تھے۔ ۶۵ھ میں جب اس کے باپ مروان بن الحکم کا انتقال ہوا تو اس وقت وہ مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا۔ محل کا آدمی اس کے پاس خبر لے کر گیا اور کہا کہ آج سے آپ امیرالمومنین ہیں۔ عبدالملک نے یہ سنا تو فوراً قرآن کو بند کر کے طاق پر رکھ دیا اور کہا:
هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے۔
خلافت کے تخت پر بیٹھنے کے بعد عبدالملک بالکل دوسرا انسان بن گیا۔ اب اس کا سارا وقت دنیا کی چیزوں میں گزرنے لگا۔ یہی وہ اموی خلیفہ ہے جس نے حجاج بن یوسف جیسے ظالم کو گورنر بنا کر اس کو لوگوں کے اوپر مسلط کیا۔ اس نے عبداللہ بن زبیر اور مصعب بن زبیر اور دوسرے بے شمار لوگوں کو قتل کرایا۔ اس نے اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنے کے لئے کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے، وغیرہ عبدالملک نے ایک روز سعید بن مسیب سے کہا "سعید اب میرا یہ حال ہے کہ جب میں کوئی نیک کام کرتا ہوں تو میرے دل کو کوئی خوشی نہیں ہوتی اور جب کوئی برائی کرتا ہوں تو اس کا مجھے کوئی رنج نہیں سعید بن مسیب نے جواب دیا:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تمھارا دل پوری طرح مر چکا ہے۔
یہی ہر اس آدمی کا حال ہوتا ہے جو اوپری سطح پر دین دار نظر آتا ہو مگر وہ اپنی پوری ہستی کے ساتھ دین دار نہ بنا ہو۔ ایسے آدمی کو جب کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اچانک اس کا ظاہری لبادہ اتر جاتا ہے اور اندر کا واقعی انسان ننگا ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ ایک شخص بظاہر دین دار ہے مگر کوئی بُرائی ملتے ہی اس کی دین داری ختم ہو جاتی ہے۔ ایک شخص بہت شریف بنا ہوا ہے لیکن اگر کسی سے اس کو شکایت ہو جائے تو اس کے لئے وہ اچانک ایک ظالم انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص مسکینی کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہ رہا ہے لیکن اگر اس کو دولت مل جائے تو اس کے بعد وہ ایک متکبر انسان کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ ایک شخص لکھنے اور بولنے میں انصاف کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آ جائے جس میں اس کو اختیار حاصل ہو تو وہ ایسے پہلو کی طرف جھک جائے گا جو اس کی ذاتی دل چسپی کا ہو۔ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کرے گا، وغیرہ۔
مطبوعات اسلامی مرکز ۱۹۸۲ سال اشاعت قیمت دو روپیہ پچاس پیسے ناشر مکتبۃ الرسالہ قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ طابع : سیچ کے آفسٹ پرنٹرز۔ لفتم : صاحب! یہ بڑے مزے کی پیروزی ہے
اطمینان والی روح اللہ ایک ہے سب سے اور سب سے بڑا سب سے اوپر سب سے بڑا اللہ کی نشانیاں اصلاح کا طریقہ اسمانوں اور زمین میں کائنات کی پکار عرش عظیم والا کامیاب تجارت ۲۲ نیکی کی حقیقت ۲۲ اللہ کی مہمانی ۲۲ خدا کے پیمبر جنت اور جہنم مولوی طاہر فاروقی ۶۲ فردوس والے ۲۳ سب کچھ اللہ کے لئے ۲۳ ۲۴ جب پھول کھلے ہیں ۱۰ چمن اور بہم ۲۴ مؤمن اللہ کا دوست ہے ۱۱ نماز ۲۴ اچھی نصیحت ۱۲ روزہ عمرہ اور حج ۱۳ اللہ کی بندگی ۱۵ تباہی کس کے لئے نشانیوں کو جھٹلانے والے انصاف کی گواہی رحمان کے بندے اسلامی معاشرت ۲۵ اللہ کی طرف دعوت ۲۶ آخُرت بہتر ہے | ۱۷ | بھروسہ اللہ پر جن کی کوششیں قابلِ قدر ٹھہریں گی | ۱۷ | حکمت کی باتیں جزا و سزا کا دن | ۱۸ | اللہ سے ڈرنے والے خدا کا مقبول دین | ۱۸ | حیاتِ طیبہ
اسلام کے سادہ اور مختصر تعارف کے لئے کتابوں کے ایک سیٹ کی ضرورت عام طور پر محسوس کی جاتی رہی ہے۔ یہ سیٹ بچوں کے لئے درسی نصاب کے طور پر استعمال ہوگا اور اسی کے ساتھ بڑوں کے درمیان اسلام کے تعارفی مطالعہ کے لئے بھی کارآمد ہوگا۔ اس سلسلے میں خدا کے فضل سے پانچ مختصر کتابوں کا ایک سیٹ تیار ہوگیا ہے ۔ یہ سیٹ بالترتیب حسب ذیل ہے :
زیر نظر رسالہ (حیات طیبہ) اس سلسلہ کا تیسرا نمبر ہے۔ فی الحال یہ مکمل سیٹ اردو زبان میں شائع کیا جا رہا ہے ۔ اس کے بعد انشاء اللہ اس کو دوسری زبانوں میں بھی شائع کیا جائے گا۔
حیات طیبہ نامی زیر نظر کتاب تمام کی تمام قرآنی آیتوں کے ترجمہ پر مشتمل ہے۔ کوئی تعبیری یا تشریحی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات کا انتخاب ایک خاص ترتیب سے نقل کیا گیا ہے اور ہر ٹکڑے پر اس کے مضمون کی مناسبت سے ایک مختصر عنوان قائم کر دیا عنوان کے سوا پوری کتاب میں مرتب نے کوئی اور اضافہ نہیں کیا ہے۔ طرح یہ رسالہ اسلام کے تعارف کے لئے ایک مستند اور براہ راست مجموعہ بن گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب کا نام قرآن کی اس آیت سے لیا گیا ہے :
مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنثَى وَهُوَ جو کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَ عورت اور وہ ایمان والا ہو تو ہم اس کو دنیا
لَّنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ میں اچھی زندگی عطا کریں گے اور آخرت میں يَعْمَلُونَ (النحل (۹۷) ان کے اچھے کاموں کے بدلے ان کا اجر عطا کریں گے اس آیت میں حیات طیبہ سے کیا مراد ہے ، اس کی وضاحت آیت کے اگلے ٹکڑے (بأحسن ما كانوا يعملون) سے ہو رہی ہے۔ اس سے مراد حسن عمل کی زندگی ہے۔ صحابہ اور تابعین عام طور پر اس کا یہی مفہوم لیتے تھے جس کی ترجمانی ضحاک کے اس قول سے ہوتی ہے کہ اس سے مراد دنیا میں رزق حلال پر قانع رہنا اور خدا کی عبادت کرنا ہے (ھی الرزق الحلال والعبادة فی الدنیا، تفسیر ابن کثیر)
اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں لگنا اپنے آپ کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنانا جب کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کا خصوصی فیضان ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ کے وقت اس کو قربتِ خداوندی کا تجربہ ہونے لگتا ہے ۔ زندگی کے مشاغل میں پھنسنے کے باوجود وہ خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونے پاتا۔ دنیا کی چیزوں میں اس کو عبرت اور نصیحت کی غذا ملتی ہے ۔ معاملات اور مسائل میں اس کو خدائی طریقہ اختیار کرنے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں اس کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ حق پر قائم رہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اس صراطِ مستقیم پر چلنے لگتا ہے جو خدا کو پسند ہے۔
یہ حیات طیبہ اپنی فکری اور عملی تفصیلات میں کیسی ہوتی ہے اس کو قرآن میں بہت واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں قرآن کی ان آیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن سے اس حیاتِ طیبہ کے مختلف بنیادی پہلو قرآن کے مخصوص اسلوب میں سامنے آتے ہیں۔ اس طرح یہ اقتباسات گویا حیاتِ طیبہ کا تعارف بھی ہیں اور اس کا مستند نمونہ بھی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کتابوں کو ایک مفید دعوتی اور تعلیمی مجموعہ بنائے۔ وحيد الدين ٢٣ مئی ۱۹۸۲