Al-Risala · November 1982

حضرت محمد

Al-Risala, November 1982, pp. 13–16

By Maulana Wahiduddin Khan

جب وقت حضرت محمد صاحب کے ظہور کا ہوا، ملک عرب میں بہت سی مذہبی، مجلسی اور اخلاقی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں، انسانی زندگی کو لوگ کھلونوں کی طرح بے حقیقت سمجھتے تھے۔ ذرا سی بات پر کسی کی جان لے لینا ان کے لئے محض عورتوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا۔ ایک ایک مرد آٹھ آٹھ دس دس بلکہ اس سے بھی زیادہ شادیاں کر سکتا تھا۔ لڑکیوں کا پیدا ہونا بہت برا خیال کیا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو زندہ قبر میں دبا دیا جاتا تھا۔ غلاموں کی تجارت عام تھی۔ شراب خوری کی یہ حالت تھی کہ لوگوں کے گھروں میں گھڑے کے گھڑے بھرے رکھے رہتے تھے۔ لوگ شراب میں بدمست ہو کر بہت سی بے ہودہ کارروائیاں کرتے تھے۔ قمار بازی بہت زوروں پر تھی۔ بت پرستی کا یہ حال تھا کہ ہر ایک گھرانے اور خاندان میں علیحدہ علیحدہ بت موجود تھے۔

عرب کی اس افسوس ناک حالت کا نقشہ مولانا حالی صاحب نے اپنی مشہور نظم مسدس حالی میں خوب کھینچا ہے۔ جب عرب کی یہ حالت تھی تو ضر درہی تھا کہ اس کو دور کرنے کے لئے خدا وند تعالیٰ کے اٹل قانون کے مطابق کوئی اس خاص بندہ آتا اور اس حالت کو دور کرتا۔

چنانچہ قریش قبیلے میں عبد المطلب کے بیٹے عبد اللہ کے ہاں ۲۹ را گست ۵۷۱ء کو حضرت محمد صاحب پیدا ہوئے۔ مگر افسوس کہ ان کے باپ ان کی پیدائش سے چند ماہ پیشتر ہی چو بیس برس کی عمر میں اس جہان سے چل بسے تھے، اور ان کے دادا عبد المطلب نے ان کی پرورش کا انتظام کیا۔ کچھ روز ان کی والدہ حضرت آمنہ نے انہیں اپنا دودھ پلایا پھر ان کو ایک دایہ حلیمہ نامی کے سپرد کر دیا۔ ابھی چھ سال کے ہونے نہ پائے تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ اور کچھ عرصے بعد ان کے دادا بھی انتقال فرما گئے، اب ان کی پرورش ان کے چچا ابو طالب کے ذمے ہوئی۔

ان میں شروع سے ہی غور و فکر کی عادت تھی۔ اکثر چپ چاپ بیٹھے زندگی کے مختلف مسائل سوچا کرتے تھے۔ کے چچا ان کا دل بہلانے اور کچھ کاروبار سکھلانے کی غرض سے ، جب وہ تجارت کے سلسلے میں باہر جاتے تو انہیں اپنے ساتھ قدرت نے ان کے اندر شروع سے ہی راست بازی اور دیانت داری کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ بہت سے لوگ آکر ان سے اپنے جھگڑوں اور تنازعوں کا فیصلہ کراتے تھے۔ ان سفروں میں پہاڑوں اور سمندروں کے نظاروں نے ان کے دل پر خدا کی قدرت کا سکہ خوب بٹھا دیا۔

جب ان کی عمر پچیس برس کی تھی۔ تو انہیں خدیجہ نامی ایک بیوہ نے ان کی شہرت اور دیانت داری کا حال سن کر اور بہت سا مال دے کر تجارت کی غرض سے یمن کی طرف بھیجا۔ انہیں چچا کے ساتھ رہتے رہتے تجارت کا کافی تجربہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے خدیجہ کے مال کو بہت نفع پر فروخت کیا۔ ان کو دو گنی تنخواہ پیش کی گئی۔ اور ان کی خوبیوں سے

متاثر ہو کر خدیجہ نے ان سے شادی کی درخواست کی۔ چنانچہ انھوں نے اپنے چچا ابو طالب کے مشورہ سے خدیجہ کی درخواست منظور کر کے اس سے شادی کر لی۔ اس وقت خدیجہ کی عمر پینتالیس برس کی تھی۔ اور حضرت صاحب پچیس برس کے تھے ۔ پندرہ سال کے بعد حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا ، اور انھیں بہت رنج ہوا۔ ان کی موت کے بعد اکثر حضرت صاحب بہت محبت اور شکر گزاری سے انھیں یاد کیا کرتے تھے۔ حضرت صاحب نے ایک غلام زید نامی کی حالت کم زور دیکھ کر اسے خدیجہ سے مانگ لیا اور فوراً آزاد کر دیا۔ آزادی ملنے پر زید نے اپنے گھر جانا پسند نہیں کیا، بلکہ تمام عمر حضرت محمد صاحب کے پاس رہنے کا فیصلہ کر لیا۔

حضرت صاحب اپنے ہم وطنوں کی جہالت اور خرابیوں کو دیکھ کر ہر وقت اداس رہتے تھے۔ اکثر تنہائی میں اپنا وقت گزارتے اور گڑ گڑا کر خدا کی درگاہ میں دعا کرتے کہ اے خدا، انھیں گناہوں سے بچا اور ان کا دل اپنی طرف پھیر۔ آخر خدا نے ان کے پاک دل کو اپنے نور سے بھر دیا۔ اور یہ محسوس کرنے لگے کہ خدا چاہتا ہے کہ میں اس کا رسول بن کر لوگوں کو اس کی پرستش کی طرف راغب کروں۔ جب ان کی عمر چالیس برس کی تھی۔ اور غار حرا میں بیٹھے ہوئے خدا کے دھیان میں محو تھے، تو اچانک ایک آواز ان کے کان میں پڑی کہ "اے محمد ! اُٹھ اور خدا کا نام لے کر پڑھ ، تجھ پر وہ راستہ کھولا گیا ہے، جس کی تو تلاش میں تھا ۔ یہ آواز سن کر وہ کانپ اٹھے۔ گھبرائے ہوئے اور پسینوں میں تر گھر پہنچے اور سارا قصہ حضرت خدیجہ کو سنایا۔ انھوں نے حضرت کو تسلی دی اور کہا کہ آپ خدا کے رسول ہیں اور آپ کو ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔ کہہ کر وہ ان پر ایمان لائیں۔ اور بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ اور چند لوگوں نے انھیں تسلیم کیا۔ اور ان پر ایمان لے آئے۔

تین سال تک تو حضرت محمد صاحب چپکے چپکے اپنے چند دوستوں اور رشتے داروں کو خدا کا حکم سناتے رہے۔ آخر ایک دفعہ تمام رشتے داروں، دوستوں اور قبیلے والوں کو جمع کر کے ان کو بتلایا کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں اس وحدہ لاشریک کی پرستش کی تلقین کرنے اور برائیوں سے بچانے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ یہ سن کر لوگوں نے بہت شور مچایا۔ اور کہا کہ تو غلط کہتا ہے۔ مگر انھوں نے کچھ پرواہ نہیں کی اور باقاعدہ مختلف مقامات پر وعظ کرنا شروع کر دیا۔ حضرت کے چچا ابو طالب کے پاس جا کر کہا تو اپنے بھتیجے کو سمجھا کہ اس کفر سے باز آئے ورنہ ہم اس کے ساتھ بہت برا سلوک ابو طالب نے بہت سمجھایا کہ بیٹا مفت میں تم کیوں لوگوں سے بیر باندھتے ہو۔ مزے سے زندگی بسر کرو۔ نہ جانے یہ لوگ غصہ میں آ کر کیا کر بیٹھیں ۔ مگر محمدؐ صاحب نے کہا کہ چاہے ادھر کی دنیا اُدھر ہو جائے میں اپنے ارادے سے باز نہیں خدا نے میرے سپرد یہ کام کیا ہے۔ اس کا بجالانا میرا فرض ہے۔ چاہے ایسا کرنے میں میری جان تک بھی جاتی رہے۔ جب ابو طالب کو یہ معلوم ہوا کہ محمدؐ اپنے ارادے میں پہاڑ کی طرح مضبوط ہے تو کہا۔ اچھا کچھ ہی ہو میں تیری حفاظت کروں گا۔ چچا کی زبان سے یہ حوصلہ افزا الفاظ سن کر ان کا جوش بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اور خوب زور سے اپنے مشن کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ اب حضرت صاحب کے پیروؤں کی تعداد روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور ساتھ ہی ساتھ قریشیوں کی مخالفت بھی انھوں نے ان کو طرح طرح کے لالچ دئے۔ دھمکیاں بھی دیں۔ ان کو قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا۔ مگر انھوں نے ان کی

مخالفتوں کی مطلق پر واہ نہ کی ۔ خود حضرت صاحب کے چچا ابولہب اور اس کی بیوی ان کے سخت مخالف ہو گئے ۔ طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے یہاں تک کہ جب وہ صبح کو منہ اندھیرے عبادت کے لئے جنگل میں جاتے تو بچی ان کے راستے میں کانٹے بچھا دیتی اور ان کے پاؤں اور پنڈلیاں زخمی ہو جاتے۔ ایک دفعہ جب یہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک شخص نے ان کے گلے میں پھندا ڈال کر گلا گھونٹنا چاہا۔ مگر حضرت ابو بکر موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے ان کی جان بچائی۔ کھانا کھانے بیٹھتے تو لوگ ان کے کھانے میں کوڑا کرکٹ گرا دیتے۔ کئی دفعہ ان پر گندگی پھینک دیتے۔ ان کی لڑکی کپڑوں پرپانی ڈالی جاتی اور روتی جاتی ۔ مگر یہ کہتے بیٹی کچھ پرواہ نہیں۔ خدا خود میری حفاظت کرے گا۔ اسی طرح ان کے پیروؤں کو بھی لوگ طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے ، ان کو گرم ریت پر لٹا دیتے ۔ ان کی عورتوں کو ننگا کر کے بہت بے عزت کرتے۔ مگر یہ لوگ اعتقاد کے ایسے پکے تھے کہ ہر قسم کا دکھ اٹھا کر بھی اسلام کو نہ چھوڑتے اور ہر حالت میں خدا کا شکر کرتے۔

قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان حبش کے علاقے میں چلے گئے۔ اور وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی کی پناہ لی۔ لیکن وہاں بھی مخالفوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اور بادشاہ سے جا کر کہا کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔ اور ایک نیا دین نکالا ہے۔ جو آپ کے دین کے بھی مخالف ہے۔ انھیں پناہ نہ دو۔ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر سب حال دریافت کیا۔ اور جب جعفر نے بادشاہ کو بتلایا کہ ہم لوگ پہلے جاہل تھے۔ بت پرستی کرتے تھے۔ فحش باتیں بکتے تھے۔ لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے۔ شراب پیتے تھے۔ جوا کھیلتے تھے۔ غرض قسم کی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ خدا نے ہمارے لئے رسول بھیجا۔ اور اس نے ہمیں نیکی کی طرف مائل کیا۔ یہ سن کر نجاشی کے دل پر بہت اچھا اثر ہوا۔ نے کہہ دیا کہ یہ میری پناہ میں آئے ہیں، میں انھیں یہاں سے نکال نہیں سکتا۔ یسن کر مخالفین اپنا سا منھ لے کر واپس چلے گئے ۔ مسلمانوں کے حبش میں چلے جانے کے بعد حضرت صاحب مکہ میں برابر وعظ کرتے رہے۔ اس اثنا میں دو زبردست ہستیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک تو خود ان کے چچا حمزہ جو بہت بار سوخ شخص تھے اور دوسرے عر جو بعد میں حضرت عمرؓ کہلائے۔ حضرت عمرؓ رضہ پہلے ان کے جانی دشمن تھے ۔ اور تلوار گلے میں ڈال کر ان کے قتل کو نکلے تھے۔ شریف کی چند آیتیں سن کر ان کے پیروئن گئے۔ اور چاریاروں میں شمار ہونے لگے۔ جب ان کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کی مخالفت اور کٹی بڑھ گئی۔ انھوں نے مکہ چھوڑ کر طائف میں قیام کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر وہاں کے لوگ پہلے ہی ان کے جب ان کا وعظ سنا تو بہت بر افروختہ ہوئے۔ اور انھیں وہاں سے نکال دیا۔ مکہ والوں نے انھیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ مگر ایک شخص مطعم نامی نے لوگوں کو بہت لعنت ملامت کی اور کہا کہ میں محمد کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اس طرح وہ مکہ میں رہنے لگے۔ مگر شہر لوگ مخالفت سے کب باز آتے تھے۔ انھوں نے مطعم کو بھی تنگ کرنا شروع کر دیا۔ حضرت صاحب نے جب دیکھا کہ میری وجہ سے بے چارے مطعم کو بھی سخت تکلیف دی جاتی ہے تو انھوں 2 کہہ دیا کہ میں اب آپ کی پناہ میں رہنا نہیں خدا میرا محافظ ہے۔ جو ہوگا میں برداشت کروں گا۔ مجھے ہر گز گوارا نہیں کہ میرے سبب سے آپ کو تکلیف ہو۔

اب ان کا وعظ سن کر بہت سے لوگ ان کے پیرو بن کیے۔ فضیل نامی رئیس جو اس ڈر سے کہ ان کا کلام اس کے کان میں نہ پڑ جائے اور اس پر اثر ہو جائے اپنے کان میں روئی ٹھونس لیتا تھا۔ ایک دفعہ جلدی میں ٹھونسنا بھول گیا اور ان کا وعظ سن کر ان کا پیروبن گیا۔ ایک دفعہ جب وہ تاجروں اور جاتریوں کو وعظ کر رہے تھے: تو چند مدینے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ ان کا وعظ سن کر وہ ان کے پیروبن گئے۔ اور اپنے ساتھ اسلام کا واعظ لے گئے۔ وہاں بہت لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر ان کو مدینہ بلایا۔ چنانچہ بہت سے مسلمان مدینے چلے گئے۔ مدینہ والوں نے حضرت صاحب اور مسلمانوں کا بہت تپاک سے استقبال کیا۔ مسلمانوں کو اپنے گھروں پر ٹھہرایا۔ ان کو کاشت کے لیے اپنی زمینیں دے دیں اور ہر طرح پر ان کو برادرانہ حقوق عطا گئے۔

حضرت صاحب نے کچھ روز مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر قبا نامی آبادی میں قیام کیا۔ حضرت علی بھی وہاں وہاں انھوں نے پہلی مسجد نماز کے لئے بنوائی۔ اس کے بننے میں خود آپ نے صحابہ کے ساتھ مل کر مزدوروں کا مدینہ والوں کے زور دینے پر آپ مدینہ گئے۔ اور ارادہ کیا کہ جہاں میری اونٹنی ٹھہر جائے گی وہیں قیام کروں گا۔ چنانچہ حضرت ابوایوب کے مکان کے پاس اونٹنی ٹھہری اور آپ نے وہیں قیام کیا۔ وہاں اگر چہ زمین مفت ملتی تھی مگر آپ نے قیمت دے کر زمین خریدی اور یہاں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ محنت مزدوری کر کے مسجد بنائی۔ اس وقت مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ نماز پڑھنا نصیب ہوا۔ اور جمعہ کا دن جماعت کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے کے لئے مقرر ہوا۔ مسلمانوں کی رہائش اور گزارے کا تسلی بخش انتظام کر کے آں حضرت نے یہودیوں کے ساتھ عہد نامہ کر کے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کر لئے۔ اگر چہ افسوس ہے کہ یہودی لوگ اپنے اقرار پر قائم نہ رہے۔ اور بعد میں مسلمانوں کے مخالفوں کے ساتھ ساز باز کر کے انھیں بہت تکلیف دیتے رہے۔

گو اب مسلمان مدینے میں امن و امان سے رہتے تھے۔ لیکن ان کے دشمنوں کو یہ گوارا نہ تھا۔ کہ وہ اس طرح پر آزادی سے اپنا کام کرتے رہیں، وہ تو چاہتے تھے کہ اگر ان کا بس چلے تو مسلمانوں کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ انھوں نے عبداللہ نامی ایک شخص سے جو مدینے میں رہتا تھا اور دل ہی دل میں حضرت صاحب کا روز افزوں رسوخ دیکھ کر بہت جلتا تھا، خط و کتابت کرنی شروع کی اور اس سے کہا کہ حضرت صاحب کو مدینے سے نکال دے۔ مگر جب وہ کچھ نہ کر سکا تو اس نے اور مخالفوں نے آس پاس کے قبیلوں کو مسلمانوں کے برخلاف بہت بھڑکایا۔ اور یہ سب لوگ بہت سی جمعیت لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ آں حضرت جنگ نہ چاہتے تھے۔ مگر مسلمانوں کی حفاظت کے لئے خدا سے دعا کر کے تین سو آدمی لے کر آگے بڑھے اور ان جاں باز لوگوں نے ایک ہزار آدمیوں کو سخت شکست دی اور بہت سے آدمی قید کر لئے۔ حضرت محمد صاحب نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا اور ضمانت لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس شکست سے مخالفوں کو بہت صدمہ پہنچا۔ اور انھوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کی زبردست تیاریاں شروع کر دیں۔ چنانچہ انھوں نے تین ہزار آدمیوں کی زبردست فوج تیار کی اور بہت سا سامان جنگ جمع کیا بہت سی

عورتیں بھی فوج کے ساتھ ہو لیں۔ یہ فوج مدینے کی طرف روانہ ہوئی۔ حضرت صاحب نہیں چاہتے تھے کہ مقابلہ کیا جائے۔ مگر اور مسلمانوں کے زور دینے پر لڑائی کے لئے تیار ہو گئے۔ ان کے پاس صرف سات سو جوان تھے۔ خوب گھمسان کی لڑائی دشمنوں کے بہت سے آدمی کام آئے۔ خود آنحضرت زخمی ہوئے۔ اس خبر سے مسلمان مایوس ہو گئے اور ان کی فوج میں کھل بلی مچ گئی۔ اس لڑائی کے متعلق تحقیق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ کس کو شکست ہوئی۔ بہر حال طرفین کا سخت نقصان ہوا۔ اس لڑائی میں حضرت صاحب نے اپنے دشمنوں کے لئے دعا مانگی کہ اے خدا انہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔

اس جنگ کے بعد مخالفوں کے حوصلے بڑھا گئے اور انھوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اب ہم اسلام کو بالکل نیست و نابود کر کے چھوڑیں گے۔ کئی قبیلوں کے لوگوں نے مسلمان بننے کا بہانہ کر کے مسلمانوں کے بہت سے واعظوں کو قتل یہودی لوگ بھی اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے۔ چنانچہ چوبیس ہزار فوج تیار ہو گئی۔ مگر خدا کی غیبی طاقت مسلمانوں کی امداد کر رہی تھی اور ان کا حوصلہ بڑھ رہی تھی۔ چنانچہ انھوں نے مدینے کے اس طرف جہاں پہاڑ نہ تھے، ایک خندق کھودنے کا ارادہ کیا۔ جس میں خود حضرت صاحب نے ہاتھ میں پھاوڑہ لے کر مزدوروں کا کام کیا۔ کرنی ایسی ہوئی کہ ایک رات سخت آندھی چلی اور موسلا دھار مینہ برسا۔ اور دشمنوں کے سب خیمے اکھڑ گئے۔ ان پر غضب کا خوف طاری ہو گیا۔ وہ سمجھے کہ خدا کی طرف سے قیامت نازل ہوئی ہے۔ ان میں سخت ابتری پھیل گئی اور سب لوگ اپنا بدھنا بور یا باندھ کر چلتے بنے۔ اس طرح پر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ در حقیقت اسے غیبی امداد ہی سمجھنا چاہئے۔ ورنہ اگر لڑائی ہوتی تو ایک بھی مسلمان نہ بچ سکتا تھا۔

یہودیوں کی شرارتیں برابر جاری تھیں۔ حضرت صاحب تو ہر چند چاہتے تھے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کر کے چین سے مدینے میں رہیں۔ لیکن خندق کی لڑائی میں انھوں نے سخت غداری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی تقریر اور نظموں میں مسلمانوں اور خصوصاً حضرت صاحب کی ہجو کرتے رہتے تھے ۔ مسلمان عورتوں کو وہ آتے جاتے بہت تنگ کرتے تھے۔ ایک دفعہ زینب نامی یہودی عورت نے حضرت صاحب اور بہت سے مسلمانوں کو دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔ حضرت صاحب کو شبہ ہو گیا۔ اور خدا کی مہربانی سے سب کی جان بچ گئی۔ اس سازش میں بہت سے بڑے بڑے یہودی شامل تھے۔ اور کوئی ہوتا تو سب یہودیوں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیتا۔ مگر آنحضرت نے چند سرغنوں کو ہی سزا دینا کافی سمجھا۔

اب سب کو یقین ہو گیا تھا کہ قریش اب خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ کیوں کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ حضرت صاحب کا بھی یہ خیال تھا کہ اب قریش دل چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اس لئے انھوں نے حج کے ارادہ سے مکے جانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ تیرہ چودہ سو مسلمانوں کو ساتھ لے کر کعبے کی زیارت کو روانہ ہوئے۔ اپنے ساتھیوں کو پہلے ہی حکم دے دیا تھا کہ کوئی شخص ہتھیار یا لڑائی کا سامان اپنے ساتھ نہ لے جائے ۔ اور صرف ایک تلوار میان میں

اپنی حفاظت کے لئے رکھے۔ جب وہ مکے کے قریب پہنچے تو قریش کو شبہ ہوا مسلمان کے پر حملہ کرنے آئے ہیں۔ جب قریش کا قاصد ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے کہا کہ تم محض حج کی نیت سے یہاں آئے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ قریش کے ساتھ صلح ہو جائے۔ چنانچہ کچھ قیل و قال کے بعد صلح کی چند شرطیں طے ہوگئیں۔ اور مسلمان بغیر حج کئے واپس آگئے ۔ بعض مسلمانوں نے اس کو بہت برا سمجھا۔ حضرت صاحب نے اس موقع پر صلح کرنا ہی مناسب سمجھا تھا کہ اگر لڑائی ہوتی تو ایک مسلمان بھی زندہ واپس نہ آتا۔ کیوں کہ وہ بالکل جنگ کے لئے تیار تھے۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کہلاتا ہے۔ اس صلح کے بعد مسلمانوں کی طاقت دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ حضرت صاحب نے مختلف مقامات پر اپنے واعظ بھیجے ۔ اور مختلف سلطنتوں کے حکمرانوں کو دعوت اسلام دی۔ کئی سلطنتوں نے اسلام کی بہت قدر کی اور مسلمانوں کو وعظ کرنے کی کھلی اجازت مل گئی۔

قریش کے لوگ صلح تو ضرور کر چکے تھے۔ مگر اسلام کی ترقی انھیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور وہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ جب موقع ملے اسلام کا خاتمہ کردیں۔ چنانچہ وہ برابر چھیڑ چھاڑ کرتے رہے ایک دفعہ انھوں نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ کے آدمی کو عین کعبے میں قتل کر ڈالا۔ آنحضرتؐ نے قاصد بھیجا کہ کیا آپ جدید یہ کے صلح نامے کو برقرار رکھنا قریش نے ٹال مٹول کرنا چاہا۔ اور آخر کہہ دیا کہ وہ صلح نامہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اب آنحضرتؐ نے فیصلہ کیا کہ روز روز کی جھک جھک ٹھیک نہیں ہے۔ اب قریش کو ایسا سبق سکھانا چاہئے کہ آئندہ سر اٹھانے کی جرات نہ کریں۔ چنانچہ انھوں نے زور شور سے مکے پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں۔ اور دس ہزار جرار فوج لے کر سہہ ہجری میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ قریش پر مسلمانوں کا خوف طاری ہو جائے۔ اور وہ بلا جنگ کئے اطاعت قبول کر لیں۔ چنانچہ مکے سے چند میل کے فاصلے پر ڈیرے ڈال دئے۔ اور سب نے اپنے اپنے خیمہ کے سامنے آگ جلادی۔ قریش یہ دیکھ کر کہ اس قدر اسلامی لشکر مکے پر چڑھ آیا ہے ڈر گئے۔ اسلام کا جانی دشمن تھا، گو وہ دل میں اسلام کی روحانی قوت کو محسوس کرتا تھا، قاصد بن کر گیا۔ لیکن حضرت صاحب کے نیک سلوک سے متاثر ہو کر اس نے اپنے قصوروں کی معافی مانگ لی۔ حضرت صاحب نے دریا دلی سے اسے معاف اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس نے واپس جا کر اعلان کر دیا کہ اب اسلام کا مقابلہ کرنا بے سود ہے جو شخص امان چاہتا ہے یا تو میرے گھر میں چلا آئے یا اپنا دروازہ بند کر لے کسی کو ایذا نہیں پہنچے گی۔ اب اسلامی لشکر مختلف طرفوں سے مکے میں داخل ہوا۔ حضرت صاحب نے فوج کے افسروں کو سخت حکم دے دیا کہ مکے والوں پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے۔ آنحضرتؐ نے اپنے رفیقوں کے ساتھ کعبہ میں جا کر نماز پڑھی۔ شہر کے لوگ تھر تھر کانپ رہے تھے کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔ شاید آنحضرتؐ قتل عام کا ہی حکم دے دیں۔ اس لئے بہت سے لوگ شہر سے بھاگ جانے کا انتظام کر رہے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ لوگ اس قدر خوف زدہ ہو رہے ہیں تو آپ نے اعلان کر دیا کوئی مسلمان تلوار نہ چلائے۔ اور کوئی شخص شہر چھوڑ کر نہ جائے۔ آج لڑائی اور انتقام کا دن نہیں ہے بلکہ آج شفقت اور رحمت کا دن ہے۔ میں تمھارا دشمن ہو کر نہیں آیا ہوں۔ اور نہ ہم سے کسی قسم کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔

میں تم سے وہی سلوک کروں گا۔ جو یوسفؑ نے مصر میں اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ میں تم کو جھڑکی تک بھی نہ دوں گا“ یہ اعلان سن کر لوگوں کی جان میں جان آئی۔ اور انھوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ واقعات پیش آئے جن کی مثال شاید ہی دنیا کی تاریخ میں کہیں ملتی ہو۔ ابو سفیان کو جو پہلے مسلمانوں کے خون کا پیاسا تھا، آنحضرتؐ نے مکے میں داخل ہونے سے پہلے ہی معاف کر دیا تھا۔ اس کی بیوی ہندہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کے خاوند نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو گئی۔ اور اپنے خاوند کی داڑھی پکڑ کر اسے جوتیوں سے خوب پیٹا۔ کے منہ پر تھوکا۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ کہ نہ جانے مجھے کیا سزا ملے۔ کیوں کہ اس نے لڑائی میں آنحضرتؐ کے چچا حمزہؓ کی لاش کا پیٹ چاک کر کے اور کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبایا تھا جب وہ آنحضرتؐ کے سامنے آئی تو شرم کے مارے منھ پر نقاب ڈال کر آئی۔ آنحضرتؐ نے کہا۔ اے ہندہ میں خوش ہوں کہ تو اپنے اعمال پر پشیمان ہے۔ تو صرف ایک خدا کی پرستش کیا کر۔ ہرگز جھوٹ نہ بولا کر اور ہمیشہ بدکرداری سے پر ہیز کیا کر۔ یہ کہہ کر اسے بالکل معاف کر دیا۔ پر ایمان لے آئی۔

عکرمہ کو جس نے مکے میں داخل ہوتے ہی دو بے گناہ مسلمانوں کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کی بیوی کی سفارش پر معاف کر دیا۔ اسی طرح ایک شخص ہبار نامی کو جس نے آنحضرتؐ کی لڑکی زینب کو جب کہ وہ حاملہ تھیں، پتھر مار کر ہلاک کر دیا تھا معاف کر دیا۔

طائف کے لوگوں نے جب آنحضرتؐ وہاں گئے تھے تو انھیں پتھر مار مار کر گھائل کر دیا تھا پھر سر اٹھایا۔ ان پر چڑھائی کر کے ان کے قلعے فتح کر لئے۔ اور چھ ہزار فوجیوں کو قید کر لیا۔ لیکن وہاں کے لوگوں کی طرف سے یہ یقین دلانے پر کہ وہ ہمیشہ وفادار رہیں گے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ اور کسی کو بھی مسلمان بننے پر مجبور نہ کیا۔ حالاں کہ اگر وہ چاہتے تو سب کو مسلمان بنا سکتے تھے۔

اب اسلام تمام عرب میں پھیل چکا تھا۔ اور عربوں نے آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تھا۔ آپ نے تمام صنعتوں کے انتظام کی طرف توجہ کی۔ محصول اور لگان کی وصولی کے قواعد بنائے۔ فوجوں کی باقاعدہ ترتیب اور تربیت کا انتظام سرحد کی حفاظت کے لئے چھاؤنیاں بنائیں۔ ہر ایک کے لئے آمدنی کا خاص حصہ زکوٰۃ میں دینا ضروری قرار دیا۔ مختلف قبیلوں کی بغاوتوں کو رفع کرنے کا خاص انتظام کیا۔

آس پاس کی عیسائی حکومتوں کو اسلام کی ترقی بہت ناگوار گزرتی تھی، اور وہ اکثر کچھ نہ کچھ چھیڑ چھاڑ کرتی ان کی سرکوبی کا بھی خوب انتظام کیا اور تمام ارد گرد کے حاکموں کے ساتھ عہد نامے کئے تاکہ تمام ملکوں میں امن و امان قائم رہ سکے۔ اب انھوں نے نہایت دھوم دھام سے حج کی تیاریاں کیں اور اس حج کے موقع پر ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمان شامل ہوئے۔ چند ہی سال میں اسلام کا نام عرب میں پھیل جانا اور مختلف مخالف فرقوں اور قبیلوں کا آنحضرتؐ کا پیروبن جانادراصل ایک معجزہ تھا۔ شاید ہی کسی اور پیغمبر کو اپنی زندگی میں اس قدر کامیابی نصیب ہوئی ہو اس حج کے موقع پر ہر طرف بہشتی نظارہ دکھائی دیتا تھا۔ جہاں چھوٹے بڑے امیر و غریب کی کچھ تمیز نہ تھی۔

انسانی مساوات کا دل کش اور دل فریب منظر تھا۔ اور سب اپنے محبوب کے گرد جمع ہو کر اپنے خالق خداوند تعالیٰ کی پرستش اور عبادت میں مصروف تھے۔

اب میں بائیس سال کی لگاتار محنت اور مخالفوں کی سختیوں اور اذیتوں اور نیز جنگ و جدل وملکی انتظام کی اہم ذمہ داریوں کی وجہ سے آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو شاید ان مشکلات کا کبھی کا شکار ہو گیا مگر انسان آخر انسان ہے اس کی جسمانی طاقتیں آخر جواب دینے لگتی ہیں چنانچہ آپ سلام میں بیمار ہو گئے۔ حضرت عائشہ اور ان کے رفیقوں نے ان کی تیمار داری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ آخری دن مسواک سے منھ صاف کیا۔ اور دو شنبہ کے دن ۸ جون ۶۳۲ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ مسلمانوں کو ان کی جدائی کا بے حد رنج ہوا۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کو بہت بہت دلا سا دیا۔ وہ سب اس واقعہ کو خدا کی مرضی سمجھ کر چھاتی پر پتھر رکھ کر کے بیٹھ گئے۔

آں حضرت کی عادات بہت سیدھی سادی تھیں۔ ہمیشہ موٹا کپڑا استعمال کرتے تھے۔ کرتہ، چادر اور تہ بند کے سوائے اور کپڑا نہ پہنتے تھے۔ خوراک کی سادگی کا تو یہ حال تھا کہ شاید غریب مزدور بھی آج کل ایسی سادہ خوراک نہ جو کا آٹا ہانڈی میں آگ پر چڑھادیا اور اوپر سے کچھ زیتون کا تیل، زیرہ اور کالی مرچیں ڈال دیں اور آپ کا کھانا تیار ہو گیا۔ اکثر کھجوریں کھا کر ہی گزارہ کیا کرتے۔ غرض جو سامنے آتا وہی خدا کا شکر کر کے کھا لیتے تھے۔ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ خود اپنے ہاتھ سے اپنے مکان میں جھاڑو دے لیا کرتے تھے۔ خود دوہ لیا کرتے تھے اور پھٹے پرانے کپڑے خود سی لیا کرتے تھے۔ ان کے مکان میں ایک چار پائی، ایک پانی کی تھیلیا اور ایک بورے کے سوائے اور سامان موجود نہ رہتا تھا۔ ہمیشہ وہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی کوشش کیا کرتے چنانچہ ادائیں عمر میں وہ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ گھر بار کے کام کاج میں اپنی بیویوں کا ہمیشہ ہاتھ بٹاتے تھے ۔ بکریوں کا دودھ دھو لیتے تھے۔ جوتیاں خود گانٹھ لیتے تھے۔ بازار سے سودا سلف خرید لاتے۔ اونٹوں کو باندھ لیتے ۔ اور ان کے آگے چارہ ڈالتے تھے۔ غرض کسی قسم کے کام سے انھیں عار نہ تھی۔ مسلمانوں کے ساتھ مل کر انھوں نے مسجدیں مزدوروں کا کام کیا۔ کھانے سے پہلے اور پیچھے ہاتھ دھوتے اور منھ کو خوب صاف کرتے تھے۔ کیا کرتے تھے۔ بالوں میں ہمیشہ کنگھی کرتے اور کبھی کبھی تیل بھی لگایا کرتے تھے۔

انھوں نے اپنی سادہ زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ کسی قسم کا کام یا پیشہ ذلیل نہیں، بشرطیکہ راست بازی اور دیانت داری کو مد نظر رکھا جائے ۔

مزاج میں انکساری غضب کی تھی۔ کوئی تعظیم کو کھڑا ہوتا تو اسے منع کر دیتے ۔ خواہ کوئی غلام بھی کھانے کو بلاتا تو اس کے ہاں بلا تکلف چلے جاتے اور سب کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے۔ جب کسی مجمع میں جاتے تو سب کے ساتھ مل کر جب کوئی دوسرا بات کرتا تو اس میں ہرگز دخل نہ دیتے تھے۔ اگر کچھ کہنا ضروری ہوتا تو بہت حلیمی اور عاجزی

آپ کا دل دشمنی عداوت ، انتقام ، سخت گیری اور درشت کلامی کے ناپاک جذبات سے پاک تھا۔ اور درگزر کے لئے تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ مکے کی فتح کے وقت بہت سے واقعات سے ظاہر ہوا۔ سچائی، دیانت داری اور الطاف ان کی فطرت کے جزو بن گئے تھے ہر وقت اپنے پیروؤں کو راست بازی کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ ان کی فیاضی بے مثال حتی الامکان کسی کے سوال کو رد نہ کرتے تھے خود تکلیف اٹھا کر اور بھوکا رہ کر دوسروں کے سوال کو پورا کرتے تھے۔ دولت ہر گز جمع نہ کرتے بلکہ جب تک مال تقسیم نہ کر دیتے ان کو چین نہ پڑتا تھا۔ غریب ، یتیم اور محتاجوں کی امداد کو ہر وقت تیار انھوں نے غلاموں کے حقوق آقاؤں پر قائم کئے ۔ اور عورتوں اور بچوں کے حقوق مردوں پر قائم کئے ۔ جب کسی کی بیماری کی خبر سن لیتے تو اس کی بیمار پرسی کے لئے جاتے ۔ جب کوئی فوت ہو جاتا تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاتے ۔ انسان کا تو ذکر کیا وہ بے زبان جانوروں پر بھی بہت ترس کھاتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے جانوروں کی لڑائی کو عرب کے ہر مقام پر بالکل بند کر دیا تھا۔ لاغر جانوروں کو دیکھتے تو کہا کرتے اے لوگو ! کے بارے میں خدا سے ڈرو ۔ مہمان نواز اول درجے کے تھے جب کوئی مہمان آ جاتا تو اپنا کھانا اس کو کھلا دیتے ۔ بہت شیریں زبان تھے ، سب سے بہت نرمی اور ملائمت سے گفتگو کرتے تھے۔ آپ ہر گز کسی کو بددعا نہیں دیتے تھے۔ خداوند تعالیٰ کی بخشش و رحمت پر ایسا زبردست اعتقاد رکھتے تھے کہ بڑی بڑی مصیبتوں میں حوصلہ نہ ہارتے تھے۔ اسی وجہ سے مٹھی بھر آدمیوں سے دشمنوں کے ٹڈی دل کا مقابلہ کامیابی سے کرتے رہے۔ غارِ ثور میں جب جا کر ابو بکر کے ساتھ چھپے تھے تو دشمنوں کی آہٹ سن کر ابو بکر رض گھبرا گئے اور کہا کہ اے رسول ! اب ہم دو ہیں۔ زور سے کہا نہیں ہم تین ہیں ۔ یعنی تیسرا خدا ہمارے ساتھ ہے ۔ کیسا زبردست ایمان ہے ۔

Printed page