Al-Risala · November 1982

حضرت کے چند واقعات

Al-Risala, November 1982, pp. 16–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم ذیل میں حضرت صاحب کے متعلق چند روایات درج کرتے ہیں جن سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ خداوند تعالیٰ نے ان کو کیسی کیسی خوبیاں عطا کی تھیں ۔

ایک یہودی کا کسی مسلمان سے جھگڑا ہو گیا اور فیصلہ آن حضرت پر چھوڑ آگیا ۔ حضرت نے بے رو رعایت تحقیقات کی اور فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ اور مسلمانوں کی ناراضگی کی مطلق پروانہ کی۔

ایک شخص کو چوری کے الزام میں گرفتار کر کے ان کے سامنے پیش کیا گیا کہ کئی بڑے بڑے آدمیوں نے اس کی سفارش کی مگر آنحضرت نے انصاف کو مد نظر رکھ کر سفارشوں کی مطلق پروانہ کی۔ اور حکم دے دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے لئے یہ ہی حکم دیتا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں۔

ایک دفعہ ایک یہودی کا کچھ روپیہ حضرت کو دینا تھا۔ وہ یہودی تقاضا کرنے آیا اور سخت کلامی کرنے لگا۔ حضرت عمر رض کو اس پر بہت غصہ آیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا۔ اے عمر ! یہ بات ٹھیک نہیں۔ تجھے چاہئے تھا کہ ہم دونوں کو نصیحت کرتا کہ قرض خواہ کو نرمی سے مطالبہ کرنا چاہئے۔ اور مجھے نیکی سے روپیہ واپس کرنا چاہئے۔ حضرت نے یہودی کو

پاس بٹھایا اور اس کو قرضہ سے کچھ زیادہ دے کر رخصت کیا۔ اس نیک سلوک کا یہودی پر ایسا اثر ہوا کہ وہ ان کا مرید بن گیا۔

ایک دفعہ آپ اپنے احباب کے ساتھ کہیں دور جنگل میں سیر کو گئے۔ جب کھانا بنانے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے جنگل سے لکڑیاں لادنے کا کام اپنے ذمے لیا۔ غرض وہ کبھی اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے تھے۔ اور ہمیشہ خواہ کیسا ہی چھوٹا کام ہو، کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔

ایک دفعہ ایک شخص کو کسی قصور کے عوض آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ آپ کو دیکھ کر کانپنے لگا۔ ارے ڈرتا کیوں ہے میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو ایک غریب قریش عورت کا لڑکا ہوں، جو کئی دفعہ غریبی کی وجہ سے سوکھا گوشت کھا کر ہی گزارہ کر لیتی تھی۔

ایک دفعہ کئی صحابی جنگ پر گئے ہوئے تھے۔ ان کے گھر کوئی مرد نہ تھا اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہ آتا آپ ہر روز ان کے گھر جاکر دودھ دوہ آیا کرتے تھے۔ اسی طرح غریب عورتیں ان کے پاس آکر مختلف کام بتلا اور وہ اٹھ کر سب کے کام کر آتے تھے۔

ایک دفعہ مدینے کے چند بدو ان کے ہاں مہمان ہو کر آئے۔ ایک بدو کو زیادہ کھانے کی وجہ سے رات کو بہت دست آگئے اور بستر خراب ہو گیا۔ وہ صبح ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا۔ آپ نے اٹھ کر اس کی غلاظت کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔ لوگوں نے کہا ہمارے ہوتے ہوئے آپ ایسا کام کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا اپنے مہمان کی ہر ایک قسم کی خدمت کا میں ہی ذمہ دار ہوں۔

ایک دفعہ ایک رئیس نے چار اونٹوں پر غلہ لا کر آپ کے پاس بھیجا۔ حضرت بلال نے غلہ بیچ کر یہودیوں کا قرضہ ادا کیا۔ جب بلالؓ واپس آئے تو پوچھا کیا کچھ غلہ بچا ہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ ابھی غلہ باقی ہے۔ تو فرمایا کہ جب تک باقی غلہ غریبوں میں تقسیم نہ ہو جائے میں گھر میں نہیں جا سکتا۔ چنانچہ اس رات مسجد میں ہی قیام کیا۔ اور اگلے دن تمام غلہ تقسیم کرا کے گھر گئے۔

Printed page