پیغمبر اسلام
Al-Risala, November 1982, pp. 24–36
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم مؤرخین کے مطابق، محمدﷺ ۲۰ اپریل ۵۷۱ کو عرب کے صحرا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے نام کا مطلب ہے "بہت تعریف کیا ہوا"۔ میرے نزدیک وہ تمام فرزندانِ عرب میں سب سے زیادہ عالی دماغ انسان تھے۔ کے اس ناقابلِ عبور صحرا میں جتنے شاعر اور بادشاہ ان سے پہلے یا ان کے بعد ہوئے ، ان سب پر وہ بدرجہا زیادہ فوقیت رکھتے تھے۔ محمدﷺ کا ظہور ہوا تو عرب ایک صحرا تھا، وہ کچھ بھی نہ تھا۔ خالی صحرا سے محمدﷺ کی طاقت اور روح نے ایک نئی دنیا بنائی ۔ نئی زندگی ، نیا کلچر، نئی تہذیب اور نئی سلطنت پیدا کی جو مراکش سے انڈیز تک پھیلی ہوئی تھی اور جس نے تین براعظموں (ایشیا، افریقہ، یورپ) کے خیالات اور زندگی کو متاثر کیا۔
میری اس تحریر کا موضوع ایک ایسے مذہب کے اصولوں کی بابت لکھنا ہے جو کہ تاریخی ہے اور اس کا پیغمبر بھی ایک تاریخی شخصیت ہے۔ سر ولیَم میور جیسا ایک معاند ناقد بھی قرآن کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے : " دنیا میں غالباً قرآن کے سوا کوئی وہسری کتاب نہیں ہے جس کا متن بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس درجہ خاص صورت میں محفوظ ہو"۔ میں یہ بھی اضافہ کروں گا کہ حضرت محمدﷺ ایک تاریخی شخصیت ہیں ۔ آپ کی زندگی کا ہر واقعہ نہایت احتیاط سے منضبط کیا گیا ہے حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دی گئی ہیں ۔ آپ کی زندگی اور آپ کا کام پراسراریت کے پردہ میں چھپا ہوا نہیں ہے۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ ایک شخص صحیح معلومات کے لئے اس مشکل مہم کو سر کرے کہ وہ بھُس کے ڈھیر میں سے چھان کر سچائی کے دانے نکالے۔
میرا کام اس لئے بھی ہلکا ہو چکا ہے کہ وہ زمانہ اب بہت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب کہ کچھ ناقدین سیاسی اور غیر سیاسی وجوہ سے اسلام کو بہت بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ پروفیسر ہیوان "کیمبرج میڈیول ہسٹری" میں لکھتے ہیں " محمدﷺ اور اسلام کے بارے میں کتابیں جو یورپ میں ۱۹ ویں صدی کے آغاز سے پہلے چھپتی تھیں آج ان کو محض قلمی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام اور تلوار کا نظریہ آج کہیں بھی قابلِ لحاظ نہیں سمجھا جاتا ۔ اسلام کا یہ اصول کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں، آج سب کو پوری طرح معلوم ہے۔ مشہور مورخ گبن نے لکھا ہے " مسلمانوں کی طرف ایک مجرمانہ اصول منسوب کیا جاتا رہا ہے کہ ہر مذہب کو تلوار کے زور سے ختم کر دیا جائے" مگر گبن کہتا ہے کہ جہالت اور تعصب کا یہ الزام قرآن سے، مسلم فاتحین کی تاریخ سے نیز مسلم عوام کے رویہ سے غلط ثابت ہوتا ہے جو کہ ہمیشہ قانونی اور سماجی طور پر مسیحی عبادت کے ساتھ رواداری کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں محمدﷺ کی زندگی کی عظیم کامیابی صرف اخلاقی طاقت کے ذریعہ ہوئی ، تلوار کی کسی مار کے بغیر۔
قدیم زمانہ میں عربوں کا یہ حال تھا کہ اتنی معمولی سی بات پر دو چالیس سال تک لڑتے رہے کہ ایک قبیلہ کا ایک اونٹ بھٹک کر دوسرے قبیلہ کی چراگاہ میں چلا گیا۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے ستر ہزار آدمی مارے گئے
اور خطرہ پیدا ہو کہ دونوں قبیلوں کی نسل ختم ہو جائے گی۔ ایسے جھگڑا لو عربوں کو پیغمبر اسلام نے خود انضباطی اور تنظیم کی تعلیم یہاں تک دی کہ میدان جنگ میں بھی ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
صلح کے لئے آپ کا منصوبہ جب بار بار کوشش کے باوجود ناکام ہو گیا تو ایسے حالات پیدا ہوئے جو آپ کو کھینچ کر میدان جنگ میں لے آئے۔ آپ کا یہ اقدام محض دفاع کے لئے تھا۔ تاہم انھوں نے میدان جنگ کے پورے طریق عمل کو بالکل بدل دیا۔ ان کی پوری زندگی میں جو لڑائیاں ہوئیں، ان سب میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد، جب کہ پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے جھنڈے کے نیچے آگیا، چند سو سے زیادہ نہیں۔ انھوں نے عرب وحشیوں کو نماز پڑھنا سکھایا، محض انفرادی طور پر نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر، حتیٰ کہ انھوں نے ہدایت کی جنگ کے طوفان میں بھی اپنے خدا کے آگے سجدہ کرو۔ جب بھی عبادت کا وقت آجائے، اور یہ روزانہ پانچ وقت آتا ہے، تو اجتماعی عبادت چھوڑی نہیں جاسکتی، حتیٰ کہ ملتوی بھی نہیں کی جاسکتی۔ لشکر کا ایک حصہ اگر دشمنوں سے مقابلہ میں مصروف رہے تو اس کا دوسرا حصہ اپنے خدا کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دے۔ جب ایک فریق اپنی عبادت ختم کرلے تو وہ مورچہ سنبھال لے اور دوسرا فریق آکر اپنی عبادت کرے۔
وحشت و بربریت کے زمانہ میں میدان جنگ تک پر انسانیت کا اصول جاری کیا گیا گیا۔ سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ خیانت نہ کی جائے ۔ دھوکا نہ دیا جائے ۔ عہد کو توڑا نہ جائے۔ ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں۔ بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے ۔ پھل دار درختوں کو نہ کاٹا جائے اور نہ جلایا جائے ۔ عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والے لوگوں پر زیادتی نہ کی جائے۔ پیغمبر کا خود اپنا طرز عمل اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ نمونہ کا طرز عمل تھا۔ مکہ کی فتح کے بعد ان کو پورا اقتدار حاصل ہو گیا تھا، وہ شہر جس نے آپ کا پیغام سننے سے انکار کر دیا تھا۔ جس نے آپ کے اوپر اور آپ کے ساتھیوں کے اوپر شدید ظلم کئے تھے۔ جس نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ جب آپ اپنا وطن چھوڑ کر دو سو میل دور (مدینہ) چلے گئے، اس وقت بھی انھوں نے آپ کا بائیکاٹ کرنے اور آپ کو تکلیفیں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج وہ شہر مکہ آپ کے قدموں کے نیچے تھا۔ جنگ کے مسلمہ قوانین کے مطابق وہ ان تمام مظالم کا بدلہ لے سکتے تھے جو آپ پر اور آپ کے لوگوں پر کئے مگر آپ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ محمد کا دل رحم اور محبت کے دودھ سے بھر گیا۔ آپ نے اعلان کیا : آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ آج تم سب آزاد ہو۔
یہ ان مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تھا کہ کیوں آپ نے دفاع میں جنگ کرنے کی اجازت دی۔ اس لئے تاکہ انسانوں کو متحد کیا جا سکے۔ اور جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو آپ کے بدترین دشمن تک معاف کر دیئے گئے۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کے محبوب چچا حمزہ کو قتل کیا تھا، ان کے مردہ جسم کا مثلہ کیا تھا وہ بھی آپ کی مہربانیوں سے محروم نہ رہے۔ عالمی اخوت اور انسانی مساوات کا اصول جس کی آپ نے تبلیغ کی وہ انسانیت کی سماجی ترقی میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں تمام بڑے مذاہب نے اس قسم کے اصولوں کی تبلیغ کی ہے مگر پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کو حقیقی عمل کی صورت
دے دی اور اس کی اہمیت شاید کچھ دنوں بعد پوری طرح سمجھی جاسکے جب کہ بین اقوامی شعور جاگے گا، نسلی تعصبات ختم ہو جائیں گے اور انسانی اخوت کا ایک طاقت ور نظریہ وجود میں آجائے گا۔ سروجنی نائیڈو اسلام کے اس پہلو پر بولتی ہوئی لکھتی ہیں: ’’وہ پہلا مذہب تھا جس نے جمہوریت کی تبلیغ کی اور اس کو عمل کی صورت دی۔ کیوں کہ مسجد میں جب اذانیں بلند ہوتی ہیں اور نمازی ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو اسلام کی جمہوریت روزانہ پانچ بار مجسم ہوتی ہے جب کہ معمولی آدمی اور بادشاہ ایک صف میں شامل ہو کر جھکتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’خد اسب سے بڑا ہے‘‘۔ ہندوستان کی یہ مشہور شاعرہ مزید کہتی ہے: ’’میں اسلام کی اس ناقابل تقسیم وحدت کو دیکھ کر بار بار حیران ہوتی ہوں جو کہ آدمی کو طبعی طور پر بھائی بھائی بنا دیتی ہے۔ جب آپ ایک مصری، ایک الجیریائی ایک ہندوستانی یا ترکی سے لندن میں ملتے ہیں تو ان میں جو فرق ملے گا وہ صرف اتنا سا کہ ایک کی پیدائش مصر میں ہوئی اور دوسرے کی ہندوستان میں‘‘۔
مہاتما گاندھی اپنے ناقابل تقلید انداز میں لکھتے ہیں ’’کسی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں ۔ وہ اسلام جس نے اسپین کو مہذب بنایا، وہ اسلام جو روشنی کی شمع کو مراکش تک لے گیا اور دنیا کو اخوت کا مقدس پیغام دیا۔ جنوبی افریقہ کے یورپی لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں کیوں کہ اسلام آئے گا تو وہ کالوں اور گوروں میں برابری کا اعلان کرے گا۔ ان کو اس سے ڈرنا ہی چاہئے۔ اگر اخوت ایک گناہ ہے، اگر مختلف نسلوں میں برابری وہ چیز ہے جس سے وہ ڈرتے ہیں تب ان کا ڈر بالکل بجا ہے۔ ہر سال حج کے موسم میں دنیا اسلام کے اس حیرت ناک بین اقوامی مظاہرہ کو دیکھتی ہے جو کہ نسل، رنگ اور رتبہ کے تمام فرق کو برابر کر دیتا ہے۔ نہ صرف یورپی، افریقی، ایرانی، ہندوستانی، چینی سب کے سب ایک خدائی خاندان کے ممبر کی حیثیت سے مکہ میں ملتے ہیں۔ بلکہ سب کے سب ایک قسم کے لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر آدمی معمولی سفید بغیر سلے ہوئے کپڑے کے دو ٹکڑے لپیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک ٹھا کر کے گرد اور دوسرا ٹکڑا کندھے کے اوپر اسی کے ساتھ ننگے سر، بغیر کسی رسم اور کسی دھوم دھام کے اور یہ آواز لگاتے ہوئے’’ میں حاضر ہوں، خدایا میں حاضر ہوں، تو ایک ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حکم صرف تیرا ہی ہے‘‘ اس طرح یہاں ایسی کوئی چیز باقی نہیں رہتی جو چھوٹے اور بڑے کے درمیان فرق کرے اور ہر حاجی یہ احساس لے کر گھر واپس آتا ہے کہ اسلام ایک بین اقوامی اہمیت رکھنے والا دین ہے۔ پروفیسر ہر گردینی کے الفاظ میں ’’ اقوام کی جمعیت جو پیغمبر اسلام نے بنائی، اس نے بین اقوامی اتحاد اور انسانی اخوت کے اصول کو ایسی عالمی سطح پر قائم کیا ہے جو دوسری قوموں کو روشنی دکھانے والا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دوسری قوم اتحاد اقوام کے لئے اس کے برابر کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔
پیغمبر اسلام نے جمہوری حکومت کو اس کی بہترین صورت میں قائم کیا۔ خلیفہ عمر خلیفہ علی ، جو پیغمبر کے داماد بھی تھے، خلیفہ منصور عباسی جو خلیفہ مامون کے بیٹے تھے اور دوسرے بہت سے خلفاء اور سلاطین اسلامی عدالتوں میں معمولی آدمی کی طرح حاضر ہوئے۔ آج بھی ہم سب جانتے ہیں کہ کالے نیگرؤوں کے ساتھ مہذب سفید نسلوں کا سلوک کیا ہوتا ہے۔ اب بلال رض کی بابت غور کرو جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام کے زمانے میں ایک نیگر و غلام تھے، نماز کے
لئے اذان دینے کا کام ابتدائی اسلام کے زمانے میں ایک عزت کا کام سمجھا جاتا تھا اور یہ باعزت کام اس نیگر و غلام کے سپرد کیا گیا تھا۔ مکہ فتح ہونے کے بعد، پیغمبر نے ان کو حکم دیا کہ وہ نماز کے لئے اذان دیں۔ اور یہ نیگر و غلام، اپنے کالے رنگ اور اپنے موٹے ہونٹوں کے ساتھ مقدس کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوا، جو کہ اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ تاریخی اور سب سے زیادہ مقدس جگہ ہے۔ اس وقت کچھ مغرور عرب تکلیف کے ساتھ بولے : اُف، یہ کالا حبشی غلام، برا ہو اس کا۔ مقدس کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوا ہے اذان دینے کے لئے! غرور اور تعصب کا یہ مزاج پیغمبر اسلام ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں کہا : ساری حمد اور شکر اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کو جاہلیت کے زمانے کے فخر اور برائی سے نجات بخشی ہے۔ یاد رکھو، تمام انسان صرف دو قسموں میں بٹے ہوئے ہیں، متقی اور اللہ سے ڈرنے والے جو اللہ کے پسندیدہ بندے دوسرے گنہگار اور سخت دل جو اللہ کے نزدیک حقیر اور بے قیمت ہیں۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ یہی بات قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے : اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ یقیناً اللہ کے نزدیک تمھارا سب سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ اللہ خوب جاننے والا پوری طرح خبردار ہے (حجرات ) پیغمبر اسلام نے اس طرح اتنی زبر دست تبدیلی پیدا کی کہ وہ لوگ جو خالص عرب تھے اور اعلیٰ ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے اپنی لڑکیاں اس نیگر و غلام کے لئے شادی میں پیش کیں۔ اسلام کے دوسرے خلیفہ جو عمر فاروق کے نام سے مشہور ہیں، جب وہ اس نیگر و غلام کو دیکھتے تو وہ فوراً ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان الفاظ کے ساتھ ان کا استقبال کرتے : یہ ہمارے معلم آگئے، یہ ہمارے سردار آگئے! قرآن اور محمد کے ذریعہ کیسا حیرت ناک انقلاب تھا جو عربوں کے درمیان آیا، وہ عرب جو اس زمانہ میں سب سے زیادہ مغرور قوم کی حیثیت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ عظیم ترین جرمن شاعر گوئٹے نے قرآن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا : ”یہ کتاب تمام زمانوں میں سب سے زیادہ مؤثر کتاب کی حیثیت سے باقی رہے گی“ اور یہی وجہ ہے کہ برنارڈ شا کو یہ کہنا پڑا ”اگر کوئی مذہب ہے جو انگلینڈ، نہیں بلکہ یورپ پر اگلے .. اصل کے اندر حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اسلام ہے! اسلام کی یہی جمہوری اسپرٹ ہے جس نے عورت کو مرد کی غلامی سے نکالاـــــــسر چارلس ایڈورڈ آرچیبالڈ ہیملٹن نے کہا ہے : ”اسلام بتاتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر بے گناہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جوہر سے پیدا ہوئے ہیں، دونوں کے اندر ایک ہی روح ہے اور دونوں ذہنی، روحانی اور اخلاقی ترقی کی یکساں قابلیت رکھتے ہیں! عربوں کے یہاں یہ زبر دست روایت چلی آ رہی تھی کہ وراثت کا حق دار وہی ہے جو برچھا چلاتا ہے اور تلوار کے قبضہ کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسلام صنف نازک کا حامی بن کر ظاہر ہوا اور عورتوں کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے سر پرستوں کی وراثت میں حصہ دار بن سکتی ہیں۔ اسلام بہت پہلے عورت کو یہ دے چکا تھا کہ وہ جائداد کی مالک بن سکتی ہیں۔ کے بارہ صدیوں بعد ایسا ہو سکا کہ ۱۸۸۱ میں انگلستان نے، جو کہ جمہوریت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اسلام کی اس تعلیم کو
اختیار کیا اور وہاں ایک قانون پاس ہوا جس کا نام تھا شادی شدہ عورتوں کا قانون (مری ڈ ویمنز ایکٹ) مگر صدیوں پہلے پیغمبر اسلام یہ اعلان کر چکے تھے کہ عورتیں مرد کا نصف ثانی ہیں۔ عورتوں کا حق ہر حال میں محترم ہے، نگرانی رکھو کہ عورتوں کو وہ حق ملتا رہے جو ان کو دیا گیا ہے۔
اسلام براہ راست طور پر سیاسی اور اقتصادی نظام سے تعلق نہیں رکھتا۔ مگر بالواسطہ طور پر اور جہاں تک سیاسی اور اقتصادی معاملات انسان کے طور طریقے اور اخلاقیات کو متاثر کرتے ہیں، وہ اقتصادی زندگی کے لئے کچھ نہایت اہم اصول مقرر کرتا ہے۔ پروفیسر میسی نَن کے مطابق، اسلام مبالغہ آمیز انتہاؤں کے درمیان توازن کو برقرار رکھتا ہے اور ہمیشہ کردار کی تعمیر پر زور دیتا ہے جو کہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کی ضمانت چند بنیادی احکام کے ذریعہ کی گئی ہے۔ اس کا وراثت کا قانون، زکوٰۃ کا نظم اور لازمی نظام، اقتصادی میدان میں تمام سماج دشمن طریقوں کو غیر قانونی قرار دینا جیسے اجارہ داری، سود، پیشگی طور پر طے کی ہوئی اور بغیر کمائی ہوئی آمدنیاں، بازار کا سب سامان خرید لینا، ذخیرہ اندوزی، کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنا تاکہ قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جو غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس تعلیم گاہوں، عبادت خانوں، اسپتالوں، کنوؤں، یتیم خانوں کو امداد دینا بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم کے تحت یتیم خانے دنیا اپنے یتیم خانوں کے لئے اسی پیغمبر اسلام کی احسان مند ہے جو خود بھی ایک یتیم تھے۔ محمدﷺ کے بارے میں لکھا ہے: ”یہ تمام خوبیاں، انسانیت کی فطری آواز، پارسائی اور مساوات، فطرت کے اس صحرائی فرزند کے دل میں جاگزیں ہونے کی وجہ سے، آشکارا تھیں۔ ایک مورخ نے کہا ہے کہ کسی عظیم انسان کا امتحان تین باتوں کی روشنی میں لینا چاہئے۔ کیا وہ اپنے معاصرین کی رائے میں حقیقی طور سے اونچے اخلاق کا حامل تھا؟ کیا وہ واقعتا اتنا عظیم تھا کہ اپنے زمانہ کے معیاروں سے بھی بلند ہو گیا ہو ؟ کیا اس نے اپنے بعد آنے والی دنیا کے لئے کوئی مستقل میراث چھوڑی؟ اس فہرست کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ واضح ہے کہ پیغمبر محمدﷺ عظمت کے اس معیار پر اعلیٰ ترین درجہ میں پورے اترتے ہیں۔ آخری دو باتوں کے بارے میں پہلے ہی اشارہ کیا جا چکا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پیغمبر اسلام کو ان کے معاصرین نے حقیقتاً اونچے اخلاق کا حامل پایا، تاریخی دستاویزیں بتاتی ہیں کہ محمدﷺ کے تمام معاصرین، دوست ہوں یا دشمن، سبھی نے ان کی پاک خوبیوں، بے داغ امانت داری، عظیم اچھائیوں، زندگی کے تمام شعبوں میں کامل اخلاص اور امانت کو تسلیم کیا ہے۔ یہاں تک کہ یہودی، اور وہ لوگ بھی جو کہ آپ کے پیغام کو نہ مانتے تھے، وہ بھی اپنے ذاتی اختلافات کے سلسلے میں آپ کی انتہائی غیر جانب داری کی وجہ سے آپ کو ثالث مانتے تھے۔ یہاں تک کہ جو آپ کے پیغام کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور تھے: ”اے محمد ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتے، بلکہ جس نے آپ کو کتاب اور پیغام دیا ہے اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ ان کا خیال تھا کہ آپ
بری چیز کا سایہ ہے۔ انھں نے آپ کے علاج کے لئے تشدد کو بھی اپنایا۔ لیکن ان میں جو عمدہ ترین لوگ تھے انھوں نے دیکھا کہ ایک نیا نور آپ پر نازل ہوا ہے اور انھوں نے اس نور کو پانے کے لئے پیش قدمی کی۔ کی تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ آپ کے قابل ترین رشتہ دار، چچا زاد بھائی، آپ کو قریب سے جاننے والے عزیز، دوست، سب پر آپ کے پیغام کا گہرا اثر ہوا اور سب آپ کے خدائی الہام کی صداقت سے متاثر ہوئے۔ اگر یہ شریف ذی عقل، صاحب علم اور آپ کی ذاتی زندگی کو قریب سے جاننے والے مرد اور عورت آپ کے اندر ذرہ برابر بھی حیلہ سازی، دھوکہ، دنیا داری یا ایمان کی کمی پاتے تو اخلاقی زندگی، روحانی بیداری اور اجتماعی اصلاح کے بارے میں محمدؐ کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہوتا اور ساری عمارت چند لمحوں میں ٹوٹ کر زمین پر آر ہتی اس کے برعکس ہم پاتے ہیں کہ آپ کے ماننے والے آپ پر اتنا زیادہ فدا تھے کہ خود اختیاری طور پر انھوں نے آپ کو اپنی زندگی کا قائد مان لیا تھا۔ انھوں نے آپ کی خاطر ظلم اور بھوک کا مقابلہ کیا۔ شدید ترین تشدد اور قبیلہ سے اخراج کی وجہ سے انتہائی ذہنی کرب کے باوجود آپ کے لئے ان لوگوں کا ایمان، بھروسہ، اطاعت اور تعظیم برقرار رہی۔ اگر انھوں نے اپنے لیڈر میں ذرا سی بھی خامی دیکھی ہوتی تو کیا ایسا ہو سکتا تھا۔
اسلام کے ابتدائی مومنین کی تاریخ پڑھیے تو بے گناہ مردوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم سے ہر دل دہل معصوم عورت سمیہ کو نیزے مار مار کر ٹکڑے کر دیا گیا۔ خباب بن ارت کو جلتے ہوئے کوئلے پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ بے رحم ظالم اپنا پیران کے سینے پر رکھے ہوئے تھا، تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کے اندر کی چربی پگھل گئی۔ خباب بن عدی کو ظالمانہ طور سے جسم کے ایک حصہ کو کاٹ کر اور ان کا زندہ گوشت تراش کر ہلاک کیا گیا اور جب اس ظلم کے درمیان ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ تمنا نہیں کرتے کہ خود محمدؐ ان کی جگہ ہوتے جو کہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ تھے۔ اس حالت میں بھی مظلوم نے چیخ کر کہا کہ اگر محمدؐ کو کانٹا بھی چبھے تو وہ خود کو اور اپنے پورے خاندان کو قربان کر دیں گے تاکہ آپ کو کانٹے کی تکلیف نہ ہو۔ اس قسم کے درجنوں دل سوز واقعات بیان کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات کیا ظاہر کرتے ہیں ؟ ایسا کیوں ہوا کہ اسلام کے ان مرد و عورت جاں نثاروں نے نہ صرف اپنا ایمان محمدؐ کے حوالے کر دیا، بلکہ انھوں نے اپنے جسموں، دلوں اور روحوں کو بھی آپ پر نچھاور کر دیا۔ کے قریب ترین معتقدین کا یہ مضبوط ایمان و یقین اس بات کی اعلیٰ ترین گواہی نہیں ہے کہ آپ اپنے پیغام کے بارے میں مخلص تھے اور اپنے کام میں انتہائی حد تک خود کو کھپائے ہوئے تھے۔
اور یہ لوگ معمولی حیثیت یا کمتر ذہنی سطح کے لوگ نہیں تھے۔ بالکل ابتدائی دور سے ہی، آپ کے گرد نکہ کا مکھن جمع ہو گیا تھا۔ یہ شریف ترین لوگ تھے جو کہ منصب، جاہ، ثروت اور ثقافت کے مالک تھے۔ ان میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے جو کہ آپ کی زندگی کے داخلی اور خارجی پہلوؤں سے خوب واقف تھے۔ اور آپ کے بعد اسلام کے پہلے چار خلیفہ بھی اسی ابتدائی زمانہ کے مومنین میں سے تھے جنھوں نے عظیم ذمہ داریاں اٹھائیں۔ انسائیکلو پیڈیا یا ٹرینیکا کا کہنا ہے کہ "محمدؐ تمام نبیوں اور دینی شخصیات میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن یہ کامیابی کسی اتفاقی واقعہ کی
مرہون منت نہیں ہے۔ یہ کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں تھا۔ یہ کامیابی صرف اس لئے ہوسکی کہ معاصرین نے پیغمبر کوحقیقی اخلاق اور عالی ظرفی کا حامل پایا۔ یہ کامیابی آپ کی قابلِ تعریف اور پوری طرح چھا جانے والی شخصیت کا نتیجہ تھی۔ محمدؐ کی شخصیت کے بارے میں مکمل صداقت کو جاننا بہت ہی مشکل ہے۔ میں تو صرف اس کی بعض جھلکیوں کو پاسکتا ہوں۔ کتنے خوبصورت مناظر یکے بعد دیگرے ڈرامائی طور پر سامنے آتے رہتے ہیں ــــــــ محمدؐ پیغمبر، محمدؐ جنرل، محمدؐ حکمران، محمدؐ غازی، محمدؐ تاجر، محمدؐ مبلغ، محمدؐ فلسفی، محمدؐ سیاست داں، محمدؐ خطیب، محمدؐ مصلح، محمدؐ یتیموں کا ملجا، غلامی کا حامی، محمدؐ جج، محمدؐ پیشوا۔ ان تمام خوبصورت ادوار میں، انسانی اعمال کے ان تمام دائروں میں آپؐ ایک ہیرو معلوم ہوتے ہیں۔
یتیمی کی حالت بے چارگی کی آخری انتہا ہے اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی انتہا سے شروع ہوئی ۔ حکمرانی مادی طاقت کی انتہا ہے، اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی پر ختم ہوئی۔
ایک یتیم بچے اور مظلوم مہاجر سے ابتدا کر کے آپ ایک پوری قوم کے روحانی اور مادی حاکم اعلیٰ اور اس کی تقدیر کے مالک بن گئے۔ اس عمل کے دوران پیش آنے والے امتحانات و ترغیبات، مشکلات و تغیرات، روشنیاں اور سائے، اونچ نیچ، دہشت اور عظمت کے دوران وہ دنیا کے امتحان میں کامیاب ہو کر زندگی کے ہر میدان میں ایک نمونہ بن کر ظاہر ہوئے۔ ان کی کامیابیاں زندگی کے کسی ایک میدان سے متعلق نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام احوال پر حاوی ہیں۔
مثال کے طور پر عظمت اگر یہ ہے کہ بربریت اور مکمل اخلاقی تاریکی میں پڑی ہوئی قوم کو پاک کیا جائے تو جس نے اس پوری قوم کی کایا پلٹ دی، اس گری ہوئی قوم کو اتنا اونچا اٹھا دیا کہ وہ تہذیب و معرفت کی روشنی کی حامل بن گئی، اس عظیم شخصیت کو عظمت کا دعویٰ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت یہ ہے کہ کسی سوسائٹی کے متفرع عناصر کو آپس میں بھائی چارہ کی اور خیر خواہی کے روابط میں جوڑ دیا جائے تو صحرا میں ہونے والے نبی کو عظمت کے امتیاز کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت ذلیل کن توہمات اور ہر قسم کی مہلک عادتوں میں مبتلا قوم کی اصلاح کرنا ہے، تو پیغمبر اسلام نے لاکھوں آدمیوں کے دل سے توہمات اور غیر معقول خوف کو نکال باہر کیا۔ اگر عظمت بلند اخلاق کا مظاہرہ ہے، تو محمدؐ کے دوستوں، دشمنوں سبھی نے ان کو "الامین" اور "الصادق" کا لقب دیا تھا۔ اگر فاتح عظیم ہوتا ہے، تو محمدؐ بھی ایک مجبور یتیم اور عام انسان کی زندگی سے بلند ہو کر جزیرہ عرب کے حاکم بن گئے جو کہ خسرو اور قیصر کا ہم پلّہ منصب تھا۔ محمدؐ وہ تھے جنہوں نے ایک عظیم سلطنت قائم کی جو کہ ان گزری ہوئی چودہ صدیوں میں بھی برقرار اگر لیڈر کے لئے اس کے تابعین کا احترام اس کی عظمت کا معیار ہے تو پیغمبر کا نام آج بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لئے جادو کی حیثیت رکھتا ہے۔
انھوں نے ایتھنز، روم، فارس، ہندوستان یا چین میں فلسفہ کی تعلیم نہیں حاصل کی تھی۔
نے انسانیت کو لا فانی حیثیت کے حامل عظیم ترین حقائق سے باخبر کیا۔ محمد خود تو آن پڑھ تھے، لیکن وہ اتنی فصاحت کا او ر جوش سے بولتے تھے کہ لوگ بے اختیار رو پڑتے تھے۔ اگر چہ محمد یتیم اور دنیا کی و ولتوں سے محروم پیدا ہوئے تھے، لیکن پھر بھی سب ان سے محبت کرتے تھے۔ انھوں نے کسی فوجی کالج میں تعلیم نہیں حاصل کی تھی، لیکن پھر بھی بڑی بڑی مشکلات پر قابو پا کر انھوں نے اپنی فوجوں کو منظم کیا اور اپنی ماہرانہ اخلاقی قوتوں کے بل پر جنگیں جیت لیں۔ خوبیوں سے بھر پور ایسے لوگ بہت نادر ہیں جن میں دوسروں کو بھی دعوت دینے کا ملکہ ہو۔ ڈیکارٹ نے کہا ہے کہ مکمل داعی دنیا کی سب سے نادر مخلوقات میں سے ایک ہے۔ ہٹلر نے بھی اپنی سوانح عمری "میری جدوجہد" میں اسی قسم کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے: ایک عظیم نظریہ ساز شاذ و نادر ہی ایک عظیم قائد ہوتا ہے۔ احتجاجی لیڈر ان خوبیوں اور بھی کم حامل ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا آدمی بہتر لیڈر ہو کیوں کہ قیادت کے لئے عوام کو حرکت میں لانے کی خصوصیت ضروری افکار پیدا کرنے کی صلاحیت، قائدانہ صلاحیت کے ساتھ کوئی قدر مشترک نہیں رکھتی۔ پیغمبر اسلام کی ذات میں دنیا نے اس نادر تریں مظہر کو بھی حقیقی وجود کی صورت میں دیکھ لیا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات وہ ہے جس کا اظہار پر وفیسر با سورتھ اسمتھ نے کیا ہے: "وہ ریاست اور چرچ (دینی تنظیم) دونوں کے سر براہ تھے، وہ ایک ساتھ پوپ اور قیصر دونوں تھے۔ لیکن وہ ایسے پوپ تھے، جو پوپ کے دعووں سے خالی تھا۔ وہ ایسے قیصر تھے جو قیصر کی فوجوں کے بغیر نہ ان کے پاس ہر وقت تیار کھڑی رہنے والی فوج تھی، نہ ذاتی حفاظتی کارکن، نہ ہی محل، نہ ہی کوئی مقررہ ٹیکس کی آمدنی۔ اگر کسی کو بھی یہ دعویٰ کرنے کا حق ہو کہ اس نے خدائی حق کے ذریعہ حکومت کی ہے، تو وہ محمد ہی ہوں گے، کیوں کہ ان کے پاس تمام اختیارات تھے، لیکن ان تمام ذرائع دو سائل کے بغیر جن سے وہ اختیارات حاصل کئے جاتے ہیں اور باقی رکھے جاتے ہیں۔ انھوں نے طاقت کے نمائش اور رکھ رکھاؤ کا کبھی خیال نہیں کیا۔ ان کی نجی زندگی کی سادگی ویسی ہی تھی جیسی ان کی عام
مکہ فتح ہونے کے بعد ایک ملین مربع میل سے زیادہ زمین ان کے قدموں کے نیچے آگئی۔ پورے جزیرہ عرب کا حکمران ہونے کے باوجود وہ اپنے جوتے اور کھڑدرے ادنی کپڑے خود ٹھیک کرتے تھے۔ بکریوں کو دوہتے تھے۔ زمین کو جھاڑ دیتے آگ جلاتے تھے اور خاندان کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے تھے۔ مدینہ کا پورا شہر، جہاں آپ رہتے تھے، آپ کے آخری دنوں میں بہت مال دار ہوگیا تھا۔ ہر جگہ وہاں سیم وزر کی فراوانی تھی۔ لیکن خوش حالی کے ان دنوں میں بھی کئی کئی ہفتے اس طرح گزرتے تھے کہ جزیرہ عرب کے حکمران کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ ان کا سارا کھانا ان دنوں میں پانی اور کھجور ہوتی پورا خاندان بہت سی راتوں کو بھوکا سوتا تھا کیوں کہ شام کو انھیں کھانے کو کچھ بھی میسر نہ ہو سکا تھا۔ ایک لمبے مشغول دن کے بعد وہ کسی نرم بستر پر نہیں سوتے تھے، بلکہ کھجور کے پتے کی بنی ہوئی چٹائی پر۔ راتوں کو وہ اکثر ردو کر اپنے ذاتی سے دعا کرتے تھے کہ انھیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ روایتوں میں آیا ہے کہ ان کی آواز رونے کی وجہ سے ایسی ہو جاتی تھی جیسے کوئی بتیلی آگ پر ہو اور اس کا ابلا نشر شروع ہو گیا ہو۔ ان کی موت کے دن ان کا سارا اثاثہ چند سکے تھے، جس کا کچھ حصہ قرضہ ادا کرنے کے لئے دے دیا گیا اور باقی ایک غریب کو دے دیا گیا جوان کے گھر خیرات مانگنے آیا تھا۔
میں اُن کی زندگی تمام ہوئی اس میں بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔ وہ گھر، جس سے ساری دنیا میں روشنی پھیلی، تاریک تھا کیوں کہ اس کے پاس دیا جلانے کے لئے تیل نہیں تھا۔ حالات بدل گئے، لیکن اللہ کے پیغمبر نہیں بدلے۔ جیت میں اور ہار میں، حکمرانی میں یا بدحالی میں، فراوانی میں یا محتاجی میں وہ ایک ہی آدمی تھے۔ ہر حال میں ان کا سلوک ایک ہی تھا۔ اللہ پاک کے طریقے اور قوانین ایک ہیں اسی طرح سے اللہ کے انبیاء بھی بدلنے والے نہیں ہوتے۔
ایک ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ امانت دار آدمی اللہ کی بہترین مخلوق ہے۔ محمد ﷺ امانت دار سے بھی کچھ زیادہ تھے ان کے پور پور میں انسانیت رچی بسی ہوئی تھی۔ انسانی ہمدردی ، انسان دوستی ان کی روح کی موسیقی تھی۔ ان کا مشن ہی یہ تھا کہ انسان کی خدمت کی جائے۔ انسان کو بلند کیا جائے، پاک کیا جائے، تعلیم دی جائے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو انسان بنایا جائے۔ یہی ان کی زندگی کا سارا مدعا تھا۔ ان کے خیالات، الفاظ اور اعمال سب کا مقصد انسانیت کی بہتری تھی۔ دکھاوا ان میں بالکل نہیں تھا اور وہ انتہائی حد تک بے غرض تھے۔ انھوں نے اپنے لئے کون سے ٹائٹل چنے ؟ صرف دو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ پہلے بندہ پھر رسول۔ وہ اُسی طرح پیغمبر تھے، جس طرح دوسرے بہت سے پیغمبر تھے جو دنیا کے مختلف حصوں میں آچکے ہیں، جن میں بعضوں کو ہم جانتے تھے اور بعض دوسرے ہمارے لئے نا معلوم ہیں۔ ان حقائق پر ایمان نہیں رکھتا ہے تو وہ مسلم نہیں باقی رہتا۔ اس بات پر ایمان ہر مسلم کے عقیدہ کا جز رہے۔ مؤلف نے لکھا ہے: " ان کے زمانے کے حالات اور ان کے پیروؤں کا آپ پر انتہائی حد تک اعتقاد کو دیکھتے ہوئے سب سے بڑی معجزانہ بات یہ ہے کہ محمد نے کبھی معجزات پر قادر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا؛ محمد سے معجزے بھی ہوئے، لیکن ان کا مقصد اپنے دین کا پروپیگنڈہ کرنا نہ تھا بلکہ انھوں نے ان معجزات کو صرف اللہ سے اور اللہ کے فہم و ادراک سے بالا طریقہ کار سے وہ صاف کہتے تھے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی ایک عام آدمی ہیں۔ وہ زمین و آسمان کے خزانوں کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے، نہ ہی وہ غیب کو جاننے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب معجزات کو عام بات سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بھی مقدس شخص چٹکیوں میں معجزات لاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جزیرہ عرب کے اندر اور باہر ہر جگہ مافوق الفطرت عقائد کی حکمرانی تھی۔ انھوں نے اپنے پیروؤں کی توجہ فطرت اور فطری قوانین پر غور کرنے کے لئے دلائی، تاکہ وہ اللہ کی عظمت کو صحیح طرح سے سمجھ سکیں۔ قرآن کا کہتا ہے: آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ( دخان ۳۹ - ۳۸ )
دنیا کوئی دابمہ نہیں ہے، نہ ہی دنیا بلا مقصد پیدا کی گئی ہے۔ دنیا بر حق پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو فطرت کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتی ہیں وہ نماز، روزہ، حج وغیرہ کے بارے میں حکم دینے والی آیات کی مجموعی تعداد سے بھی قرآن کے اثر کے تحت مسلمانوں نے فطرت کا عمیق مطالعہ شروع کیا ، اور اسی وجہ سے سائنسی مطالعہ اور تجربہ کا وہ مزاج پیدا ہوا جو کہ یونانیوں کے یہاں معدوم تھا۔ جبکہ مسلم ماہرِ نباتات ابن بیطار نے (علم نباتات) پر ساری دنیا کے پودے جمع کرکے ایک ایسی کتاب لکھی جس کو میئر (Mayer) نے اپنی کتاب (Gesch der Botanika) میں "محنت کا مینار" بتایا ہے،
جب کہ البیرونی نے چالیس سال تک سفر کر کے معدنیات کے نمونے حاصل کئے، جبکہ مسلم علمائے فلکیات بارہ بارہ سال سے زیادہ کے مطالعہ کو مدون کر رہے تھے، ارسطو نے فرکس پر بغیر ایک بھی تجربہ کئے ہوئے قلم اٹھایا، طبی تاریخ پر اس نے اتنی لاپرواہی سے لکھا کہ کہ اس نے اس بات کی بھی ضرورت نہیں سمجھی کہ انسان کے دانت جانور سے زیادہ ہوتے ہیں‘‘ کو دعویٰ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق بھی کرلیتا۔ جو کتنا آسان کام تھا۔ جالینوس نے، جس کو قدیم علم تشریح کا سب سے بڑا استاد سمجھا جاتا ہے، لکھا ہے کہ نچلا جبڑا دو ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بات کو صدیوں تک تسلیم کیا جاتا رہا یہاں تک کہ عبد اللطیف نے انسانی ڈھانچہ کا مطالعہ کیا۔ اس قسم کے بہت سے واقعات بیان کرنے کے بعد رابرٹ بریفاٹ نے (The Making of History) میں لکھا ہے: ’’ہماری سائنس عربوں کی صرف اس حد تک مقروض نہیں ہے کہ انھوں نے حیرت انگیز دریا فتیں کیں یا انقلابی نظریات کی بنیاد ڈالی۔ ہماری سائنس عرب تہذیب کی اس سے کہیں زیادہ مقروض ہے: وہ خود اپنے وجود کے لئے عرب تہذیب کی مقروض ہے‘‘۔ اسی مؤلف نے مزید لکھا ہے: ’’یونانیوں نے نظاموں کی بنیاد رکھی، عمومیات کا رواج دیا اور نظریات بنائے، لیکن تلاش کے صبر آزما طریقے، ایجابی معلومات کا جمع ہونا، سائنس کے دقیق طریقے، مفصل اور طویل تجربات، تجرباتی یہ سب چیزیں یونانی مزاج کے لئے اجنبی تھیں جس چیز کو یورپ میں سائنس کہتے ہیں، وہ تلاش کے نئے طریقوں، تجربات، مطالعہ، وزن کرنے اور ریاضیات کی ترقی کی وجہ سے وجود میں آئی ہے اور یہ طور و طریقہ یونانیوں کو معلوم نہ تھے۔ …عربوں نے اس مزاج اور طور طریقوں کو یورپ میں روشناس کرایا۔ پیغمبر محمد کی تعلیمات کی عملی نوعیت نے ہی سائنسی اسپرٹ کو جنم دیا۔ ان کی تعلیمات نے روز مرہ کی محنت اور دنیاوی امور کو احترام و تقدس عطا کیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ نے انسان کو عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں عبادت کا اپنا خاص مفہوم ہے۔ اسلام میں اللہ کی عبادت صرف نماز تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر وہ کام جو اللہ کی خوشنودی اور انسانیت کی بھلائی کے لئے کیا جائے وہ بھی عبادت ہی کا جزو ہے۔ زندگی کے نئی معاملات اسلام کی نظر میں تقدس کے حامل ہیں بشرطیکہ ان کو امانت داری، انصاف اور خالص نیت سے کیا جائے۔ اسلام نے ’’دینی‘‘ اور ’’غیر دینی‘‘ معاملات کی حد بندی کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اگر تم پاک و طاہر غذا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرو تو یہ بھی ایک عبادت ہے۔ پیغمبر اسلام کا کہنا ہے کہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا بھی ایک نیکی ہے جس کا بدلہ اللہ عطا کریں گے۔ پیغمبر کے ایک قول میں آیا ہے کہ ’’اگر کوئی اپنی دل کی خواہش کو بھی پورا کرے تو اللہ پاک اس کا اجر دے گا بشرطیکہ اس کو حاصل کرنے کے طریقے جائز یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ایسا کر کے وہ انسان صرف اپنے دل کی خواہش کو پورا کر رہا ہے ۔ پیغمبر نے فوراً جواب دیا: ’’اگر وہ اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے کوئی غلط طریقہ اپناتا تو اس کو سز املتی، تو صحیح طریقہ اپنانے کی وجہ سے اسے انعام کیوں نہیں ملے گا۔ دین کو پوری طرح سے زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وقف ہونا چاہئے نہ کہ وہ صرف چند دنیوی زندگی سے مادرا امور سے متعلق ہو۔ دین کے اس نئے تصور نے تمام اخلاقی قدروں کو جنم دیا۔ پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی ایک خاص بات یہ ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں انسانیت کے مختلف امور پر اس کا اثر بہت قوی ہے، عوام پر اس کا گہرا اثر، حقوق و واجبات
کے تصورات کا تعین، جاہل وحشی اور عقل مند فلسفی دونوں کے لیے یکساں طور پر مناسب اور بدلنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ان تعلیمات کی خصوصیات میں سے ہے۔
لیکن یہ بات ٹھیک سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اچھے اعمال کی تاکید اعتقاد کی درستگی کو قربان کر کے نہیں کی گئی ایسے مدارس فکر بھی ہیں جو اعمال کو قربان کر کے متعینہ اعتقاد کی دعوت دیتے ہیں، یا اعتقاد کو قربان کر کے عمدہ اعمال کی دعوت دیتے ہیں، لیکن اسلام صحیح اعتقاد اور صحیح اعمال پر قائم ہے۔ وسائل اتنے ہی اہم ہیں جتنے نتائج ۔ نتائج اتنے ہی اہم ہیں جتنے وسائل ۔ ان دونوں کے درمیان زندہ وحدت ہے۔ دونوں ایک ساتھ زندہ ہیں اور نشوونما اگر آپ ان دونوں کو الگ الگ کر دیں تو دونوں میں اضمحلال پیدا ہو جائے گا اور دونوں کا خاتمہ ہو جائے اسلام میں عقیدہ کا تعلق اعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صحیح علم کو صحیح عمل میں تبدیل کر کے صحیح نتائج حاصل کیے جاتے ہیں ۔ " جو ایمان لاتے ہیں اور اچھے اعمال کرتے ہیں وہی جنت میں داخل ہوں گے"۔ قرآن میں بار بار کم از کم پچاس بار دہرائے گئے ہیں۔ غور و فکر کی ہمت افزائی کی گئی ہے، لیکن غور و فکر خود ایک مقصد اسلام کے دائرہ میں ان لوگوں کا وجود نہیں ہے جو اعتقاد تو رکھتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔ لوگوں کا تصور بھی ناقابل فہم ہے جو ایمان تو رکھیں لیکن عمل غلط کریں۔ الہی قانون صرف معیاروں کا قانون نہیں، بلکہ محنت عمل کا قانون ہے۔ الہی قانون نے انسان کے لیے دائمی ترقی کا راستہ بتایا ہے جس میں انسان علم سے عمل کی طرف اور عمل سے اطمینان کی طرف ترقی کرتا ہے۔
وہ صحیح اعتقاد کون سا ہے جس سے صحیح عمل خود بخود ابلتا ہے اور جس سے مکمل سکینت حاصل ہوتی ہے ؟ مرکزی اعتقاد توحید ہے۔ "خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے" کا اعتقاد ہی وہ محور ہے جس کے گرد اسلام کی ساری تعلیمات اور سارے اعمال گھومتے ہیں۔ خدا ہر طرح سے ایک نادر شے ہے، نہ صرف اپنے الہی وجود کی وجہ سے بلکہ اپنی الہی صفات کی وجہ سے بھی۔
تھامس کارلائل نے لکھا ہے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہماری ساری طاقت خدا کی اطاعت میں چھپی ہوئی چاہے وہ ہمارے ساتھ کچھ بھی کر رہا ہو، چاہے وہ موت یا موت سے بدتر کوئی چیز بھیج رہا ہو، وہ بہر حال ہمارے لئے اچھی ہے اور یوں ہم اپنے کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ کارلائل مزید لکھتا ہے "گوئٹے کا کہنا ہے کہ اگر اسلام یہی ہے تو کیا ہم سب اسلام میں نہیں رہ رہے ہیں۔ ہاں ہم سب جو اخلاقی زندگی رکھتے ہیں اسلام ہی میں رہ رہے ہیں۔ یہ وہ سب سے بڑی حکمت ہے جو کہ اب تک آسمان نے زمین پر آشکارا کی ہے۔ نوٹ: یہ مضمون ایک انگریزی کتاب "محمدی پرافت آف اسلام"، کے کچھ اجزاء کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب پر فیسر راما کرشنا راؤ (ریٹائرڈ ڈیپارٹمنٹ آف فلاسفی گورنمنٹ کالج فارومین، میسور) کی لکھی ہوئی اور بورڈ آف اسلامک پبلی کیشنز دہلی کی طرف سے پہلی بار ۱۹۷۹ میں شائع ہوئی ہے۔
M O - H A M, M A D :