آپ سب سے بڑے تھے
Al-Risala, November 1982, pp. 37–44
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا یہ انتخاب کہ محمد دنیا کی تمام انتہائی با اثر شخصیتوں میں سر فہرست ہیں، کچھ قارئین کو چھینے میں ڈال سکتا ہے۔ کچھ اور لوگ اس پرترض ہو سکتے ہیں۔ مگر محمد تاریخ کے واحد شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی، مذہبی سطح پر بھی اور دنیا وی سطح پر بھی۔ محمد نے معمولی حیثیت سے آغاز کر کے ایک عظیم ترین مذہب کی بنیاد رکھی اور اس کو وہ انتہائی مؤثر سیاسی لیڈر بن گئے۔ ان کی وفات کے تیرہ صدیوں بعد آج بھی ان کے اثرات غالب اور طاقتور ہیں۔ اس کتاب میں جن اہم تاریخی شخصیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے ، ان کی اکثریت اس خوش قسمتی کی مالک تھی کہ وہ تہذیب کے مرکزوں میں پیدا ہوئی اور وہاں پلی بڑھی۔ وہ ایسی قوموں کے فرد تھے جن میں اعلیٰ تمدن تھا یا ان کو سیاسی مرکزیت حاصل تھی۔ مگر محمد ۵۷۰ء میں مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے، جو جنوبی عرب میں واقع تھا اور اس وقت دنیا کا ایک پس ماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ تجارت ، آرٹ اور علم میں اس کو کوئی مرکزیت حاصل نہ تھی۔ چھ سال کی عمر میں یتیم ہو کر ان کی پرورش ایک معمولی ماحول میں ہوئی۔ اسلامی روایات مزید بتاتی ہیں کہ وہ بے پڑھے لکھے تھے۔ اقتصادی حالت ۲۵ سال کی عمر میں صرف اس وقت بہتر ہوئی جب کہ انھوں نے ایک دولت مند بیوہ سے شادی کی جن کی عمر ۴۰ سال تھی۔ تاہم چالیس سال کی عمر تک بظاہر کوئی ایسی علامت نہ تھی کہ وہ کوئی ممتاز شخصیت کے انسان ہیں۔ بیشتر عرب اس وقت آسمانی کتاب سے محروم تھے۔ وہ بہت سے دیوتاؤں پر عقیدہ رکھتے تھے۔ تاہم مکہ میں محدود تعداد میں کچھ یہودی اور عیسائی تھے۔ محمد نے سب سے پہلے انہیں سے واحد اور قادر مطلق خدا کا تصور لیا جو تمام کائنات کا حکمران تھا۔ جب ان کی چالیس سال کی ہوئی تو محمد کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک سچا خدا (اللہ) ان سے کلام کر رہا ہے۔ نے سچے مذہب کی تبلیغ کے لئے ان کا انتخاب کر لیا ہے۔
تین سال تک محمد صرف اپنے قریبی دوستوں اور متعلقین پر تبلیغ کرتے رہے۔ پھر تقریبا ۶۱۳ء میں انھوں نے عوام میں تبلیغ شروع کی۔ دھیرے دھیرے لوگوں نے ان کے مذہب کو قبول کرنا شروع کیا تو مکہ کے سردار ان کو اپنے لئے ایک خطر ناک مصیبت سمجھنے لگے۔ ۶۲۲ میں محمد کو اپنی حفاظت کا خطرہ محسوس ہونے لگا اور وہ مدینہ چلے گئے جو مکہ کے شمال میں تقریبا ۲۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہاں ان کو قابل لحاظ سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہ ہجرت پیمبر کی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب تھا۔ مکہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد صرف چند تھی۔ مدینہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ انھوں نے جلد اتنا اثر پیدا کر لیا کہ علاقہ وہ مدینہ کے مطلق حکمراں بن گئے۔ سال میں، جب کہ محمد کے ساتھیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی، مدینہ اور مکہ کے درمیان جنگوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا یہ جنگ ۶۳۰ میں ختم ہوئی جب کہ محمد دوبارہ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔ ان کی زندگی کے بقیہ ڈھائی سالوں میں عرب قبیلے بہت تیزی سے ان کے نئے مذہب میں داخل ہو گئے۔ ۶۳۲ میں جب محمد کا انتقال ہوا تو وہ تمام جنوبی عرب کے حکمراں بن چکے تھے۔
عرب کے بدو قبائل ماضی سے سخت جنگ جو چلے آ رہے تھے۔ مگر ان کی تعداد کم تھی اور وہ اختلاف اور باہمی لڑائیوں کے نتیجہ میں برباد ہو رہے تھے۔ وہ شمالی عرب کے زرعی علاقوں میں آباد شہنشاہینوں کی بڑی فوجوں سے کوئی نسبت نہ رکھتے تاہم محمد نے پہلی بار ان کو منظم کیا۔ ایک خدا پر پر جوش اعتقاد سے مسلح ہو کر یہ چھوٹی عرب فوجیں انسانی تاریخ کی سب سے حیرت ناک فتوحات کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ عرب کے شمال مشرق میں ساسانیوں کی عظیم تو پارسی شہنشاہیت تھی، عرب کے شمال جنوب میں باز نطینی یا مشرقی رومی شہنشاہیت تھی جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ عددی اعتبار سے عرب اپنے حریفوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ تاہم جنگ کے میدان میں، پر جوش عربوں نے بہت تیزی سے تمام میسو پوٹامیہ، شام اور فلسطین کو فتح کر لیا۔ ۶۳۴ء میں مصر کو باز نطینی سلطنت سے توڑ لیا گیا۔ ایرانی فوجیں، ۶۴۲ میں قادسیہ اور ۶۳۷ میں نہاوند کی جنگوں میں پسپا کر دی گئیں۔
مگر یہ عظیم فتوحات، جو کہ محمد کے قریبی ساتھیوں اور ابتدائی خلفاء ابو بکر رض اور عمر بن الخطاب کی رہنمائی میں انجام پائیں، عرب پیش قدمیوں کی انتہا نہ تھیں۔ ۷۱۱ تک عرب فوجوں نے شمالی افریقہ سے لے کر بحر اٹلانٹک تک مکمل طور پر فتح کر لیا تھا۔ یہاں سے وہ شمال میں مڑے اور آبنائے جبرالٹر کو پار کرتے ہوئے اسپین کی گاتھ سلطنت کو مغلوب کر کے اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔
تھوڑی دیر کے لئے محسوس ہونے لگا کہ مسلمان تمام مسیحی یورپ پر قابض ہو جائیں گے۔ مگر ۷۳۲ء میں ٹورس کی مشہور جنگ میں ایک مسلمان فوج، جو کہ فرانس کے مرکز تک پہنچ چکی تھی، بالآخر فرانسیسیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئی ۔ تاہم ان بدو قبائل نے، جو کہ پیغمبر کی تعلیمات سے متاثر تھے، ایک صدی کی قلیل مدت میں ایک ایسی سلطنت قائم کرلی جو ہندستان کی سرحدوں سے لے کر بحر اٹلانٹک کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ اتنی بڑی سلطنت تھی جیسی سلطنت اس سے پہلے تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ تمام ممالک جو عربوں نے فتح کئے، ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں نے نئے مذہب کو قبول کر لیا۔
یہ تمام فتوحات مستقل ثابت نہ ہو سکیں۔ ایرانی اگر چہ پیغمبر کے مذہب پر قائم رہے، تاہم انھوں نے عربوں کے اقتدار سے آزادی حاصل کر لی۔ اسپین میں سات سو سال کی جنگوں کے بعد آخر کار عیسائیوں نے پورے جزیرہ نما کو دوبارہ فتح کر لیا۔ تاہم میسو پوٹامیہ اور مصر جو کہ قدیم تہذیب کے گہوارہ رہے ہیں، بدستور عرب باقی رہے اور اسی طرح شمالی افریقہ کا پورا ساحلی علاقہ بھی۔ نیا مذہب ، بلاشبہ درمیانی صدیوں میں مسلمانوں کی ابتدائی مقبوضہ سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلتا رہا۔ آج اس کے ماننے والوں کی تعداد افریقہ اور وسط ایشیا میں دسیوں ملین ہے اور پاکستان اور شمالی ہندوستان اور انڈونیشیا میں اور بھی زیادہ ہے۔ انڈونیشیا میں اسلام ایک اتحادی عامل ثابت تاہم برصغیر ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کشاکش اتحاد کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اب اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ محمد کے اثرات مجموعی طور پر انسانی تاریخ کے اوپر کیا ہیں تمام مذاہب کی طرح اسلام اپنے پیروؤں کی زندگی کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے بانیوں نے
ہماری اس کتاب میں نمایاں طور پر جگہ پائی ہے۔ چوں کہ عیسائی سرسری اندازہ کے مطابق، دنیا میں مسلمانوں کے مقابلہ میں تقریباً دگنی تعداد میں ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ بات عجیب معلوم ہوگی کہ محمدؐ کو ہم نے اس کتاب میں مسیحؐ سے اوپر رکھا ہے۔ ہمارے اس فیصلہ کے دو بڑے وجوہ ہیں۔ اول محمدؐ نے اسلام کی ترقی میں اس سے کہیں زیادہ اہم حصہ ادا کیا ہے جتنا مسیحؐ نے عیسائی مذہب کی ترقی کے لئے کیا ہے۔ مسیحیت کی بنیادی اخلاقیات، جس حد تک وہ یہودیت سے مختلف ہیں، ان کی تعلیم اگر چہ حضرت مسیح نے دی۔ مگر مسیحی الہیات کا وضع کرنے والا اصلاً سینٹ پال ہے۔ وہی اس کا اصل مبلغ ہے اور عہد نامہ جدید کے بڑے حصہ کا مصنف بھی۔
مگر اسلام کی الہیات اور اس کے بنیادی اخلاقی اصول دونوں کو دینے والے خود محمدؐ تھے۔ مزید یہ کہ نئے مذہب کی تبلیغ میں انھوں نے کلیدی حصہ ادا کیا اور اسلام کے مذہبی اعمال کو قائم کیا۔ پھر وہی ہیں جو کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مصنف ہیں، جو کہ محمدؐ کے کچھ واردات قلب کا ریکارڈ ہے اور جس کی بابت ان کا یقین تھا کہ وہ براہ راست خدا کی طرف سے ان پر الہام کیا گیا ہے۔ ان الہامات کا اکثر حصہ محمدؐ کی زندگی ہی میں صحت کے ساتھ لکھا گیا تھا اور ان کی وفات کے جلد ہی بعد ان کو ایک مستند مجموعہ کی صورت میں مرتب کر لیا گیا۔ اس لئے قرآن تری طور پر محمدؐ کے خیالات اور تعلیمات کی نمائندگی کرتا ہے اور بڑی حد تک ان کے بولے ہوئے اصل الفاظ کا بھی۔ مسیحؐ کی تعلیمات کے بارے میں اس قسم کا تفصیلی مجموعہ موجود نہیں۔ قرآن چوں کہ مسلمانوں کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بائبل مسیحیوں کے لئے۔ قرآن کے واسطے سے مسلمانوں کے اوپر محمدؐ کا اثر غیر معمولی رہا اغلب ہے کہ محمدؐ کے اضافی اثرات اسلام پر اس سے بہت زیادہ ہوں جتنا کہ مسیحؐ اور سینٹ پال کا مجموعی اثر مسیحیت پر۔ البتہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خالص مذہبی سطح پر محمدؐ کے اثرات انسانی تاریخ پر اتنے ہی ہیں جتنے مسیحؐ کے ہیں۔ مزید یہ کہ محمدؐ در مقابلہ مسیحؐ کے) )دنیاوی لیڈر بھی تھے اور مذہبی لیڈر بھی۔ در حقیقت عرب فتوحات کے پیچھے قوت محرکہ کی حیثیت سے ان کو تمام زمانوں میں سب سے زیادہ با اثر سیاسی لیڈر کہا جا سکتا ہے۔
اکثراہم تاریخی واقعات کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناگزیر تھے اور جس خاص سیاسی لیڈر نے اس کی رہنمائی کی، اس کے بغیر بھی وہ وقوع میں آتے۔ مثال کے طور پر، جنوبی امریکہ اس وقت بھی اسپین سے آزادی حاصل کرلیتا اگر سائمن بولیور کا سرے سے وجود نہ ہوتا۔ مگر یہی بات عرب فتوحات کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔ محمدؐ سے پہلے عرب میں اس قسم کا کوئی واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور یہ یقین کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ان کے بغیر بھی یہ فتوحات حاصل انسانی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی فتوحات صرف منگولوں کی ہیں جو انھوں نے تیرھویں صدی میں حاصل کیں. یہ فتوحات بنیادی طور پر چنگیز خاں کے اثر سے ہوئیں۔ تاہم یہ فتوحات عربوں کی فتوحات سے وسیع تر ہونے کے باوجود مستقل قائم نہ رہ سکیں اور آج منگولوں کے پاس صرف وہی علاقے ہیں جو ان کے پاس چنگیز خاں سے پہلے تھے ۔ عربوں کی فتوحات کا معاملہ بالکل مختلف ہے، عراق سے مراکش تک عرب قوموں کا ایک پورا سلسلہ پھیلا ہوا ہے جو نہ صرف اسلام میں اپنے عقیدہ کی وجہ سے متحد ہیں بلکہ عربی زبان، تاریخ اور کلچر بھی سب کا ایک ہے۔ مسلم مذہب میں قرآن
کی مرکزیت اور یہ واقعہ کہ وہ عربی زبان میں لکھا گ ہے ، اس نے غالباً عربی کو اس سے بچایا ہے کہ وہ مختلف اور ایک دوسرے کے لئے ناقابل فہم زبانوں میں تقسیم ہوجائے۔ حالاں کہ درمیانی تیرہ صدیوں میں ایسا ہونا یا بالکل قرین قیاس تھا۔ عرب ریاستوں میں اختلاف اور تقسیمیں یقیناً موجود ہیں اور وہ قابلِ لحاظ ہیں، مگر جزی کی عدم اتحاد کو دیکھ کر ہمیں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان اہم اتحادی اجزاء کو نہ دیکھیں جو مسلسل ان کے درمیان پائے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷ء کی سردیوں میں عربوں نے تیل کا بائیکاٹ کیا تو ایران اور انڈونیشیا اس میں شریک نہیں ہوئے۔ مگر یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور صرف عرب ریاستیں اس منصوبے میں شریک ہوئیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساتویں صدی میں عربوں کی فتوحات انسانی تاریخ میں مسلسل اہم حصہ ادا کر رہی ہیں۔ اب تک جاری ہے۔ مذہبی اور دنیاوی اثرات کا یہی بے نظیر اجتماع ہے جو میری نظر میں محمد کو اس لائق بناتا ہے کہ ان کو تاریخ کا سب سے زیادہ با اثر واحد شخص قرار دیا جائے ۔ (انگریزی سے ترجمہ)
یہ مضمون مائیکل ہارٹ (پیدائش ۱۹۳۲) کی کتاب ایک سو (100 The) سے ماخوذ ہے۔ مصنف ایک امریکی عالم فلکیات ہیں اور اسی کے ساتھ مورخ بھی۔ انھوں نے اور ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی نے مل کر دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعہ کا حاصل انھوں نے ۴۷۵ صفحات کی ایک انگریزی کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک سو ایسے آدمیوں کے حالات درج ہیں جنھوں نے مصنف کے نزدیک تاریخ پر نمایاں ترین اثرات کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سرِ فہرست رکھا گیا ہے۔ کیوں کہ مصنف کے مطالعہ کے مطابق وہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان ہیں۔ انسانی تاریخ پر آپ نے جو اثرات ڈالے وہ کسی دوسرے شخص نے نہیں ڈالے۔ اس کتاب میں نمبر ۲ پر حضرت مسیح ، نمبر ۳ پر حضرت موسیٰ ۳ اور نمبر ۴ پر حضرت عمر بن الخطاب کو رکھا گیا ہے۔ کے اس حصہ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے۔
کتاب میں اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے تاہم طارق مطالعہ کے اعتبار سے اس میں وہ خامیاں موجود ہیں جو غیر مسلم سیرت نگاروں کے یہاں اکثر پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ آپ نے ابتدا میں یہودیوت اور عیسائیوں سے توحید کا تصور لیا۔ یہ کہ آپ قرآن کے مصنف تھے۔ یہ باتیں نہ صرف ہمارے عقائد کے خلاف ہیں بلکہ خالص علمی پہلو سے بھی بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کے رد میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کے علمی اور تاریخی طور پر باطل ثابت ہونے کے باوجود مغربی علماء کیوں انھیں دہراتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مخصوص ذہن ہے، وہ ’’علم‘‘ کے کسی غیر زمینی ماخذ کو نہیں مانتے۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص نے زمین سے ماورا کسی ذریعہ سے کیسے علم حاصل کر لیا۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بات بیٹھ جائے تو اس کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ کتنی ہی مدلل ہو، اس کے ذہن کی پکڑ میں نہیں آتی۔ وہ اپنی بات کو اس طرح دہراتا رہتا ہے جیسے کہ وہ بدستور ایک مسلمہ صداقت ہے۔ خواہ اس کو کتنے ہی معقول دلائل سے رد کیا جا چکا ہو (مترجم)