حواس نہ کھوئیے
Al-Risala, November 1982, pp. 44–5
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتماد زندگی ہے اور بے اعتمادی موت پرم ہنس کے اس قول کی تشریح ملکہ برطانیہ کے ایک واقعہ سے بہت اچھی طرح ہوتی ہے۔
لندن میں بکنگھم پیلیس ملکہ الزبتھ کی شاہی قیام گاہ ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۲ کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک اجنبی شخص ملکہ برطانیہ کے سونے کے کمرے میں گھس گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی ایش ٹرے تھی۔ جو دھار دار آلے کا کام کر سکتی تھی۔ یہ امکانی طور پر ایک خطرناک ہتھیار تھا۔ ملکہ نے جب اچانک ایک غیر شخص کو ایسی حالت میں کمرے میں پایا تو ان کو خطرہ کا احساس ہوا۔ ملکہ کا ہاتھ فوراً مخصوص بٹن پر پہنچ گیا۔ یہ محل کی ایک خاص گھنٹی ہے جو خطرہ کے وقت حفاظتی عملہ کو خبر دار کرنے کے لئے بجائی جاتی ہے۔ بٹن بار بار دبائی مگر گھنٹی خاموش تھی کسی سبب سے وہ بج نہ سکی۔
یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ ملکہ ایک تنہا خاتون کی حیثیت سے کمرے میں تھیں۔ دوسری طرف ایک طاقت در مرد دھار دار آلے لئے کھڑا تھا۔ ملکہ اگر آنے والے آدمی پر بگڑ جاتیں یا اس کو نکل جانے کا زبانی حکم دیتیں
تو وہ فوراً غصہ میں آکر ٹوٹ پڑتا اور ملکہ کا کام تمام کر دیتا۔ مگر ملکہ نے حاضر دماغی کام لیا۔ اپنی قوتوں کو سنبھالا اور آنے والے آدمی سے نرمی کے انداز میں بات شروع کر دی ۔ ملکہ نے اجنبی آدمی کو سگریٹ پیش کی اور اپنی ٹھنڈی باتوں سے اس کی توجہ دوسری طرف موڑ دی۔ انھوں نے نہ تو آدمی کو برا بھلا کہا اور نہ محل کے اندر بلا اجازت گھس آنے پر کوئی تنبیہ کی۔ اس طرح انھوں نے اجنبی آدمی کو دس منٹ تک ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول رکھا۔ اتنی دیر میں محل کے حفاظتی آدمی پہنچ گئے اور مذکورہ شخص گرفتار کر لیا گیا۔
ملکہ برطانیہ کی خود اعتمادی نے ان کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا۔ اگر وہ اعتماد کھو دیتیں تو شاید اگلے دن برطانی قوم اپنی ملکہ کا ماتمی دن منانے کی تیاریاں کر رہی ہوتی۔
نازک وقت میں اپنے اعتماد کو بحال رکھنا اور اپنے دماغ کو حاضر رکھنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ خطرہ کے وقت گھبرا اٹھنا اپنے معاملہ کو خود اپنے ہاتھوں بگاڑ لینا ہے۔ آدمی اگر حوصلہ نہ کھوئے اور اپنے ہوش و حواس کو درست رکھے تو یقیناً وہ بچ جائے گا۔ اس کا دماغ ایسی تدبیر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس کو خطرے کے کنارے سے پہنچ کر بھی خطرہ سے بچا لے۔
ڈاکٹر ہیو گو کا قول ہے کہ احتیاط دانش مندی کی سب سے ہو نہار اولاد ہے۔ ہے کہ زندگی کی بہت سی کامیابیوں کا تعلق محتاط عمل میں ہے نہ کہ پر جوش اقدام میں۔ عقل مندی کے بہت سے پہلو ہیں اور اس میں شک نہیں کہ احتیاط اکثر اوقات سب سے بڑی عقل مندی ہوتی ہے۔ کے طریقہ پر پوری طرح وہی شخص عمل کر سکتا ہے جو حالات کی شدت کے باوجود اپنے حواس کو بحال رکھے جو کسی بھی صورت میں مغلوب الحال نہ ہو جائے۔
جب بھی آدمی کے ساتھ کوئی خلاف امید صورت پیش آتی ہے یا وہ کسی خطرہ میں گھر جاتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بے سوچی سمجھی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ اس قسم کی کارروائی آدمی کو مزید بربادی کے سوا کسی انجام تک نہیں پہنچاتی۔ اگر آدمی ہمت نہ ہارے اور گھبرائے بغیر اپنے عمل کا نقشہ بنائے تو وہ ہر مشکل صورت حال سے بآسانی باہر آ سکتا ہے۔ حتی کہ شیکسپیئر (۱۹۱۶ - ۱۵۰) کے الفاظ میں اکثر اوقات وہ مسکراہٹ سے وہ چیز حاصل کرے گا جس کو وہ تلوار کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکا تھا۔
مولا ناوحیدالدین خاں موجودہ زمانہ میں اسلام کو زندہ کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں پچھلی ایک صدی کے اندر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر ان کتابوں کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکیں، غیرمعمولی ترقی اور مقبولیت کے باوجود، اصل مقصد میں ناکام رہیں۔ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کتابوں کا جواب صحیح نہ تھا۔ احکام اسلام جدید تاریخ کی پہلی کتاب ہے جس میں آئی اس سوال کا حقیقی اور احیاء اسلام جدید ماریا کی پی کتاب ہے۔ جس میں آپ اس دھواں کا۔ مدلل جواب پائیں گے۔
الاسلام اور ظہور اسلام (مؤلفہ مولانا وحید الدین خاں) کے بعد احیاء اسلام کا اطلاع اور ہدایات اور اُمورِ متعلقہ (باب ۳۷)
مطالعہ آپ کے لئے نہایت ضروری ہے۔
الاسلام عصرى اسلوب میں قرآن وحدیث کی تشریح ظہور اسلام عصری علوم اور تاریخ کی روشنی میں اسلام کا مطالعہ احیائے اسلام اسلام اور عہد حاضر کا مطالعہ اور مستقبل کا پروگرام قیمت بارہ روپے مکتبہ الرسالہ جمعیتہ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶
جلد اوّل سورۃ فاتحہ - سورۃ توبہ قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی تفصیلات اور غیر متعلق معلومات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لئے یکساں طور پر مفید ہے ۔ وہ طالبین قرآن کے لئے فہم قرآن کی کنجی ہے۔
ھدیہ مجلّد: پچاس روپے جمعیۃ بلڈنگ - قاسم جان اسٹریٹ - دہلی ۱۱۰۰۰۶
گھڑا پاپ کا پھوٹے گا کالا دھندہ چھوٹلے گا جیسے آگ میں لگ جانے سے کوئی ہرا بھرا پیڑ سوکھ کر ٹھونٹھ ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی کالا دھن کسی ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر ڈالتا ہے۔
کالا دھن مہنگائی کی آگ میں تیل ڈالتا ہے اس کی روک تھام میں ہی آپ کی بھلائی ہے۔
کالے دھن سے نمٹنے کے لئے اشیائے ضرور یہ کے قانون، چور بازاری کو رو کنے اور اشیائے ضروریہ کی بہم رسانی کے قانون کو سختی سے لاگو کیا جا رہا ہے۔
اس سے سماج اور معیشت کو راحت ملے گی۔ تفصیلی معلومات کے لئے اس کو پن کا استعمال کریں ڈپٹی ڈائریکٹر ماس میلنگ یونٹ ڈائریکٹوریٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ ویژول پبلسٹی بلاک، کس تور با گاندھی مارگ، نئی دہلی 110001 نئے 20 نکاتی پروگرام سے متعلق معلوماتی کتابچہ اردو ہندی انگریزی
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مذہب اور سائنس قرآن کا مطلوب انسان دین کیا ہے؟