Al-Risala · November 1982

یہود کے نقش قدم پر

Al-Risala, November 1982, pp. 44–10

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت سلیمان بن داؤد (۹۳۰ ۔ ۹۹۰ ق م) کا زمانہ یہود کی تاریخ میں سب سے زیادہ با عظمت زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں فلسطین اور اطراف کے علاقوں میں ان کی مضبوط اور شاندار سلطنت قائم تھی ۔ حضرت سلیمان کے بعد یہودیوں میں دینی اور اخلاقی زوال شروع ہوا۔ وہ خدا سے بے خوف ہو کر سطحی اعمال میں مبتلا ہو گئے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ اس زمانہ میں یہود کے مصلحین اور انبیاء نے ان کو زبردست تنبیہات کیں جو آج بھی کثرت سے بائبل میں موجود ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر ایک جزو نقل کیا جاتا ہے:

رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ان پر تلوار اور کال اور وبا بھیجوں گا اور ان کو خراب انجیروں کی مانند بناؤں گا جو ایسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں۔ اور میں تلوار اور کال اور وبا سے ان کا پیچھا کروں گا اور میں ان کو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالے کروں گا کہ دھکے کھاتے پھریں اور ستائے جائیں اور سب قوموں کے درمیان جن میں میں نے ان کو ہانک دیا ہے لعنت اور حیرت اور رسکار اور ملامت کا باعث ہوں۔ اس لئے کہ انھوں نے میری باتیں نہیں سنیں ۔ خداوند فرماتا ہے کہ جب میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو ان کے پاس بھیجا، ہاں میں نے ان کو بروقت بھیجا، پر تم نے نہ سنا ( یرمیاہ ۲۹ : ۱۸)

اس بگاڑ اور اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سلطنت ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گئی۔ یہودیہ جو جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقہ میں تھی، اس کا پایہ تخت یروشلم تھا۔ دوسرے ، اسرائیل جو شمالی فلسطین اور شرق اردن کے علاقہ میں قائم ہوئی ، اس کا پایہ تخت سامریہ قرار پایا ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی قائم کی ہوئی عظیم ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہو کر صرف دو کمزور حکومتوں کی صورت میں باقی رہ گئی۔

یہودیوں کے اخلاقی زوال اور باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اطراف کی سلطنتوں نے ان پر حملے شروع کر دئے۔ ۷۲۱ ق م میں اشور (Assyrian) کے حکمران سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے اسرائیل کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد ۵۹۸ ق م میں بابل کے بادشاہ بنو کد نصر (Nebuchadnezzar) نے یروشلم کو مسخر کر کے سلطنت یہودیہ پر قبضہ کر لیا۔

خدا کے خاص لوگوں کے اوپر غیر قوم کا قبضہ یہود کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اندر شدت سے مخالفانہ جذبات جاگ اٹھے۔ ان کے درمیان وہ قومی رہنما ابھرے جن کو بائبل میں "جھوٹے نبی" یا "جھوٹی نبوت کرنے والے لوگ" کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ دینی الفاظ بولتے تھے۔ حقیقتہ جو چیز ان کی رہ نما تھی وہ صرف ان کے اپنے رومانی تخیلات تھے جو اسرائیل کی عظمت رفتہ کو جلد از جلد واپس لانے کے لئے وقت کے حالات کے اثر سے ان کے اندر پیدا ہو گئے تھے۔ وہ نبوت کی زبان میں کلام کرتے تھے مگر حقیقتہً وہ جھوٹے نبی تھے۔ بائبل کے الفاظ میں وہ خدا کے نام پر اپنی بات کہتے وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے (یرمیاہ ۲۸: ۱۵ ، ۲۹: ۳۱) ان رہنماؤں کی جذباتی باتوں کے زیر اثر یہودیوں میں آزادی اور احیار نو کی تحریکیں شروع ہوئیں ۔ وہ بابل کی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے دوبارہ اپنی گزری ہوئی عظمت کو واپس لانے کا خواب دیکھنے لگے ۔ اس موقع پر ان کے نبی حضرت یرمیاہ اٹھے اور یہودیوں سے کہا کہ تم کو دوسروں کے خلاف ہم چلانے سے پہلے خود اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ غیر قوم کا غلبہ تمہارے اوپر خدا کے حکم سے وہ اس لئے ہے کہ تم خدا کے راستہ سے ہٹ گئے ہو۔ اب اپنے آپ کو خدا کی طرف واپس لا کر ہی تم اس مغلوبیت سے نجات پا سکتے ہو نہ کہ محض دنیوی قسم کی کارروائیاں کر کے ۔ کی زبان سے خدا کی یہ تنبیہات بائبل کی کتاب یرمیاہ (باب ۲۷۔ ۳۰) میں موجود ہیں۔ فقرے یہ ہیں:

تم اپنے (جھوٹے) نبیوں اور غیب دانوں اور خواب بینوں اور شگونیوں اور جادو گروں کی نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہ بابل کی خدمت گزاری نہ کرو گے۔ کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ تم کو تمہارے ملک سے آوارہ کریں اور میں تم کو خارج کر دوں اور تم ہلاک ہو جاؤ (۲۷: ۹ - ۱۰) تم اپنی گردن شاہ بابل کے جوۓ تلے رکھ رکھ اس کی اور اس کی قوم کی خدمت کرو اور زندہ رہو (۲۷: ۱۲) اور ان نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہ بابل کی خدمت نہ کرو گے کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں ۔ کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں نے ان کو نہیں بھیجا۔ پر وہ میرا نام لے کر جھوٹی نبوت کرتے تاکہ میں تم کو خارج کر دوں اور تم ان نبیوں کے ساتھ جو تم سے نبوت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔ فرماتا ہے کہ اپنے نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو خداوند کے گھر کے ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں بابل سے واپس آجائیں گے۔ کیونکہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ ان کی نہ سنو، شاہ بابل کی خدمت گزاری کرو اور زندہ رہو۔ پر اگر وہ نبی ہیں اور خداوند کا کلام ان کی امانت میں ہے تو وہ رب الافواج

سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خداوند کے گھر میں اور شاہ یہوداہ کے گھر میں اور یروشلم میں باقی ہیں بابل کو نہ جائیں ( ۲۶ : ۱۸ - ۱۴) رب الافواج اسرائیل کا خدا ان سب اسیروں سے جن کو میں نے یروشلم سے اسیر کرو اکربابل بھیجا ہے یوں فرماتا ہے ، تم گھر بناؤ اور ان میں بسو اور باغ لگاؤ اور ان کا پھل کھاؤ۔ کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں ، اور اپنے بیٹوں کے لئے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پھولو اور کم نہ ہو۔ اور اس شہر کی خیر مناؤ جس میں میں نے تم کو اسیر کروا کر بھیجا ہے اور اس کے لئے خداوند سے دعا کرو۔ کیونکہ اس کی سلامتی میں تمھاری سلامتی ہوگی۔ کیونکہ رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمھارے درمیان ہیں اور تمھارے غیب دآں تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمھارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں کیونکہ وہ میرا نام لے کر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ میں نے ان کو نہیں بھیجا (۲۹ : ۹ - ۵) حضرت یرمیاہ کی ان باتوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہودغیر قوموں کی غلامی پر ہمیشہ کے لئے راضی ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریکیں چلا کر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تمھاری جن کمزوریوں نے غیر قوم کو تمھارے اوپر غلبہ دیا ہے ان کو ختم کئے بغیر کس طرح یہ ممکن ہے کہ تم دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن حاصل کر لو۔ اس لئے ان کا کہنا تھا کہ تم بغاوت کی مہم چلانے سے پہلے اصلاح کی مہم چلاؤ۔ چنانچہ انھوں نے "شاہ بابل کا جوا" قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہود کو یہ بشارت بھی دی کہ اگر تم خدا کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلو تو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں اس کا جوا تری گردن پر سے توڑ دوں گا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالوں گا اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائیں گے۔ اس لئے اے اسرائیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تیری اولاد کو اسیر ی کی سرزمین سے چھڑاؤں گا اور یعقوب واپس آئے گا اور کوئی اسے نہ ڈرائے گا (۳۰ : ۹ - ۸)

مگر یہودنے اپنے نبی کا مشورہ نہیں مانا۔ وہ ان جھوٹے رہنماؤں کی باتیں سنتے رہے جو ان کو الفاظ کی جذباتی شراب پلا رہے تھے۔ جو ان کو معمولی عمل سے بڑے بڑے نتائج کی فرضی امیدیں دلا تہ جو نفرت اور ٹکراؤ جیسی فتنہ انگیز باتیں کرتے تھے (یرمیاہ ۲۸ : ۱۶) اس حماقت (۲۹ : ۲۳) کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاہ بابل بنو نضران کے اوپر غضب ناک ہوا اور ۵۸۷ ق م میں دوبارہ ان کے اوپر شدید تیر اس کے بعد اس نے یہودیہ کی تمام آبادیوں کو ویران کرکے رکھ دیا ۔ بے شمار یہودیوں کو قتل کیا ۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح برباد کیا کہ بابل کے الفاظ میں اس کی ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ کے اوپر باقی نہ رہی۔

سابق حاملین کتاب (یہود) کی یہ تاریخ موجودہ حاملین کتاب (مسلمان) پر پوری طرح صادق مسلمان پچھلے ہزار برس تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ کمزوریوں کا شکار ہوئے ۔ ان کے افراد میں اعلیٰ کردار باقی نہ رہا۔ وہ محنت کے بجائے عیش کے عادی باہمی اختلافات نے ان کو پے شمار گروہوں میں بانٹ دیا۔ علم اور تہذیب کی ترقی میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس قسم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر مسلم قو میں ان کے اوپر غالب آگئیں۔ مسلمانوں کی عظمت ہر جگہ پامال کر کے رکھ دی گئی۔

یہ واقعہ انیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ بیسویں صدی عیسوی اس صورت حال کے خلاف جد و جہد کی صدی ہے۔ مگر یہاں بھی عملاً وہی ہوا جو ڈھائی ہزار سال پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اب کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنھوں نے مسلمانوں سے یہ کہا کہ پہلے اپنے آپ کو مستحکم غالب قوتوں سے تصادم کے بغیر اصلاحی میدان میں اپنی کوششیں صرف کرو جواب بھی تمھارے لئے کھلا ہوا ہے ۔ مگر مسلمانوں نے ایسے مصلحین کی بات بالکل نہیں سنی۔ ان کو انھوں نے بزدل، سامراج کا ایجنٹ اور انقلاب اسلام کا دشمن قرار دیا۔

دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ اٹھے جو جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے انھوں نے جذباتی تقریریں کیں ۔ رومانی اشعار سنائے۔ خوبصورت نظریے پیش کئے ۔ آمیز قسم کی امیدیں دلائیں۔ مسلمان ایسے لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑے ۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ اور انقلابی جہاد میں مشغول ہو گئے ۔

بائبل کے الفاظ میں اس جھوٹی نبوت کا نتیجہ وہی ہوا جو یہودیوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہر محاذ پر شکست کھائی ۔ ان کی بڑی بڑی تحریکیں اس طرح فنا ہو گئیں جیسے وہ ایک تنکا تھا جو ہواؤں کے طوفان میں اڑ گیا ۔ ان کے مفکروں اور رہنماؤں کے بولے ہوئے شان دار الفاظ کاغذ کی کشتی ثابت ہوئے جو دریا کی موجوں میں ایک منٹ بھی کسی مسافر کے کام نہیں آتی ۔

ان مسلم رہنماؤں کی مقبولیت کا راز یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔ حق کے ترجمان نہ تھے بلکہ عوامی جذبات کے ترجمان تھے۔ اور جو لوگ اس قسم کی بے حقیقت چیزوں کے اوپر کھڑے ہوں ان کا انجام حقیقت کی اس دنیا میں وہی ہے جو ان رہنماؤں کا ہوا۔

اوپر جس حقیقت کا ذکر کیا گیا، وہ کوئی انوکھی یا غیر معلوم بات نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ اور دینی تعلیمات میں بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود ہمارے رہنما اور مفکرین کیوں اس کو سمجھ اس کی وجہ یہ ہے کہ ردعمل کی نفسیات نے لوگوں کا ذہنی شاکلہ بگاڑ دیا ہے، اور آدمی کسی بات کو اپنے ذہنی شاکلہ ہی کے مطابق سمجھ پاتا ہے۔ اگر آدمی کا ذہنی شاکلہ مختلف ہو تو وہ کسی طرح اصل بات کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہاں ہم اس کی ایک مثال پیش کریں گے۔

ایک مشہور مفکر اسلام نے سورہ بنی اسرائیل (آیت ۵) کی تفسیر کے تحت ایک لمبا نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ یہود کے بگاڑ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کے لوگ بت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو ۵۹۸ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو مسخر کر لیا اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس قیدی بن کر رہا۔ یہودیوں کی بداعمالیوں کا سلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا اور حضرت یرمیاہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔

اوپر کے اقتباس کے آخری جملہ پر غور کیجیے۔ موصوف کے الفاظ کے مطابق یہ بداعمالی کی ایک قسم ہے کہ غالب حکومت کے خلاف سیاسی جہاد کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے گویا انھوں نے ہماری مذکورہ بات کی صداقت کو مزید شدید تر الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔ مگر یہی وہ مصنف اور مفکر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اس نظریہ کی پرزور وکالت کی کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے نیا دور لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکمرانوں سے تصادم کر کے ان کو تخت سے بے دخل کیا جائے اور خود اپنی طویل عمر کے تمام بہترین سال انھوں نے اسی قسم کے سیاسی جہاد میں گزار دئے۔ حقیقت کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے اس قدر بے خبر رہنے کی وجہ صرف شاکلہ کا فرق ہے۔ آدمی ایک آیت کے مطالعہ کے ذیل میں تاریخ انبیاء کے مذکورہ واقعہ کو پڑھتا ہے۔ وہ اس کے علم میں آتی ہے۔ مگر چونکہ اس کا ذہنی شاکلہ مختلف ہے اس لئے یہ حقیقت اس کے ذہن کا جز نہیں بنتی، وہ اس کی فکر کی تشکیل میں مؤثر ثابت نہیں ہوتی ــــ ہدایت کے راستہ کو پانے کی اہم ترین شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے مصنوعی شاکلہ کو توڑے اور فطرت کے حقیقی شاکلہ کے مطابق چیزوں اس کے بغیر کوئی شخص ہدایت کے ابدی راستہ کو نہیں پا سکتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے پیغام کے بارے میں غیر مسلم علماء اور محققین کے مضامین مولانا وحید الدین خان مکتبہ الرسالہ جمعیتہ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶

شجرۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت محمد (حالات و واقعات)

Printed page