Al-Risala · October 2020

پیرویِ اسلام ، تنفیذِ اسلام

Al-Risala, October 2020, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمُ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک ان دونوں کو پکڑے رہو گے۔ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے۔ اس حدیث میں تمسک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تمسک کا مطلب ہے مضبوطی سے پکڑنا (holding fast)۔ یہ گریز کی اصطلاح فعل لازم (intransitive verb) ہے۔ یہی امت کے افراد کی اصل ذمے داری ہے۔ امت محمدی کے ہر فرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ دین کو دریافت کرے، وہ مطالعہ اور تدبر کے ذریعے اپنی معرفت میں اضافہ کرے، اور اس طرح اپنے آپ کو پوری طرح دین کا پیرو بنالے۔ امت کے افراد جب تک تمسک بالکتاب والسنہ کے اس اصول کو پکڑے رہیں گے، وہ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔ اختیاری کے ساتھ اسلام پر عمل کرنا، اور دوسروں تک اسلام کو بطور دعوت پہنچانا (ہود، 11:88)۔ اس کے برعکس، امت اس تعلیم کو لازم کے صیغہ (intransitive form) میں لینے کے بجائے متعدی کے صیغہ (transitive form) میں لینے لگے تو اس کے بعد گمراہی کا آغاز ہو جائے یعنی متمسک بنو کے بجائے بزور متمسک بناؤ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دین کی پیروی اختیار کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت پر قائم کرتا ہے، اور دین کی تنفیذ کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے دور کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانے میں امت کے اندر جو تشدد پیدا ہوا، اس کا سبب یہی ہے۔ بیسویں صدی میں کچھ ایسے مسلم رہنما اٹھے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر ( political interpretation) پیش کی۔ انھوں نے قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے، اور امت کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اس نظام

کو مکمل اعتبار سے زمین پر نافذ کرے ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جو دین مبنی بر فرد دین تھا، اس کو مبنی بر نظام (system-based) بنا دیا۔

مگر یہ سادہ بات نہ تھی۔ جب بھی آپ دین کو پیروی کے بجائے تنفیذ کا موضوع بنائیں گے تو فوراً تشدد شروع ہو جائے گا۔ کیوں کہ تنفیذ (enforcement) کے لیے حکومتی ادارے کا ہونا یہاں پہلے سے کچھ لوگ ہوں گے جو تنفیذ کے اداروں پر قابض ہوں گے۔ اب آپ کا ذہن یہ کہے گا کہ مجھے ان قابض افراد کو ہٹانا ہے، ان کو قوت نافذہ کے مقام سے ہٹائے بغیر میں اپنی پسند کا نظام نافذ نہیں کر سکتا۔ یہاں سے حکومت کے خلاف نزاع شروع ہو گا۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے لیے دنیا اپنے اور غیر (we and they) میں تقسیم ہوگئی۔ امت کے اندر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھنے کا مزاج پیدا ہوا۔ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔

اسی طرح اسلام کی سیاسی تعبیر ایک نظریہ ہے، لیکن اس نظریے کی بنیاد پر جو مائنڈ سٹ (mindset) بنتا ہے، وہ عملاً ایک متشددانہ مائنڈ سٹ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مائنڈ سٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ شروع ہوگئی، اور جب جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو امت کے اندر نفرت کا ایک پورا جنگل آگیا۔ فطری طور پر وہ اپنی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوگئے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ نفرت کا ایک ظاہر وہ ہے، جس کو خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ بمباری بلاشبہ ایک حرام فعل ہے، لیکن لوگوں نے اس کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دے کر جائز کر لیا۔ قرآن وسنت کے مطابق جو فعل جہنم میں لے جانے والا تھا، اس کو خود ساختہ طور پر یہ حیثیت دے دی کہ وہ ان کو سیدھا جنت میں لے جانے والا ہے۔

موجودہ زمانے میں جو مسلم تشدد (Muslim militancy) پیدا ہوئی، وہ اسی سیاسی تعبیر دین

کا براہ راست نتیجہ ہے۔ موجودہ مسلم تشدد کو جوابی تشدد سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کو ختم کرنے کے لیے جوابی آئیڈیالوجی درکار ہے۔ جوابی تشدد ان کو صرف ہلاک کر سکتا ہے، مگر اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ شہید ہو کر جنت میں جارہے ہیں۔ اس مفروضہ حقیقت کی بنا پر تشدد کے ذریعے اس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے خاتمے کی صورت صرف یہ ہے کہ ایک طاقت ور دلیل کے ذریعے بتایا جائے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک باطل تعبیر ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ مسلم تشدد کو ختم کرنے کے لیے ایک نظریاتی مہم درکار ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کا خاتمہ کرنے والی نہیں۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دور آخر میں امت کے اندر ایک بے حد خطرناک فتنہ پیدا ہوگا، یہ دجالیت کا فتنہ ہوگا (مسند احمد، حدیث نمبر 16265)۔ دجالیت سے مراد غالباً یہی پر فریب سیاسی تعبیر دین کا نظریہ ہے۔ یعنی اس نظریے کو ایسے خوشنما الفاظ میں پیش کیا جائے گا کہ لوگ اس کو باطل سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ اسلام کو مکمل نظام کا خوبصورت نام دے کر لوگوں کو دھوکہ میں ڈالا جائے۔ کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اسلام ذاتی پیروی کا دین نہیں ہے، بلکہ وہ بزور نافذ کرنے کا دین ہے۔ اس کو زمین پر مکمل معنوں میں نافذ کیا جائے۔ اس طرح اسلام معرفت کا دین نہ رہا، بلکہ وہ جنگ اور تشدد کا دین بن گیا۔ یہی جاہلیت ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلم تشدد کا اصل سبب یہی جاہلیت ہے۔ اس تشدد کو صرف اس وقت ختم کیا جا سکتا ہے، جب کہ لوگوں کو دلیل کے ذریعے یہ بتایا جائے کہ مکمل نظام کا نظریہ ایک پر فریب نظریہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اس نظریے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہوا کہ امت سے دعوت کا مزاج ختم ہو گیا۔ تصور کے مطابق امت مسلمہ داعی ہے اور دوسری قومیں مدعو۔ اب داعی اور مدعو کے بجائے حریف اور دشمن کی نسبت قائم ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ امت کا اصل مشن دعوت الی اللہ عملاً حذف کیوں کہ دعوت کے لیے نصح (خیر خواہی) کا ذہن درکار ہے۔ دشمنی اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

Printed page