تعلیم، قدیم اور جدید
Al-Risala, October 2020, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانے میں عام طور پر علم برائے علم کا رواج تھا۔ قدیم زمانے میں علم یا تعلیم کا رشتہ معاش سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔ لوگ علم کی خاطر علم حاصل کیا کرتے تھے۔ دور میں معاش کا تعلق جسمانی محنت سے زیادہ تھا، اور دماغی محنت سے کم۔ اس صورت حال نے علم کو معاش کے بجائے زیادہ تر خود علم سے جوڑ رکھا تھا۔ مگر جدید دور میں صورت حال بدل چکی ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے نہیں ہوتی تھی۔ لیکن موجودہ زمانے میں تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو وقت کے تقاضے کے مطابق تیار کیا جائے۔ تا کہ انسان ترقی کی دوڑ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ قدیم زمانے میں تعلیم عملاً ایک جامد ڈسپلن کی حیثیت رکھتی تھی_موجودہ زمانے میں تعلیم ایک تخلیقی سرگرمی (creative activity) کا نام ہے۔ میں تعلیم کا تعلق کچھ محدود لوگوں سے ہوتا تھا۔ قدیم دور میں تعلیم کا دائرہ سماج اور قبیلے تک محدود ہوا کرتا تھا، یعنی اپنے سماج یا قبیلے کی روایت کو مینیٹین (maintain) کرنا۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہو گیا ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا نشانہ یہ نہیں ہوتا تھا کہ نئی نئی چیزوں کو دریافت کیا جائے، تا کہ تہذیب کے ارتقا میں ان کا استعمال ہو۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔
جدید دور میں ساری دنیا تک تعلیم کا دائرہ پھیلا ہوا ہے۔ ماڈرن ایجوکیشن کا مقصد ہے انسان کے اندر سائنس اور ٹکنالوجی کی صلاحیت ڈیولپ کرنا، اس کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرنا، تا کہ وہ دنیا کو کچھ نیا دے سکے۔ قدیم دور میں تعلیم قیاس پر مبنی ہوا کرتی تھی، جس میں خیالی کہانیوں وغیرہ کے ذریعے بچوں میں سماجی اقدار و آداب منتقل کیے جاتے تھے۔ جدید دور سائنسی تجربات پر مبنی تعلیم کا دور ہے۔ آج خیالی کہانیوں اور مثالوں کے بجائے حقیقی واقعات و تجربات پر مبنی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں کسی بھی شعبے میں ترقی کے لیے علم اور تعلیم کی اہمیت بے حد بنیادی ہو چکی ہے، سیکولر شعبوں میں بھی اور مذہبی شعبوں میں بھی۔ تعلیم کی اس اہمیت کا سبب موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے قدیم روایتی دور کو بالکل بدل دیا ہے۔ زمانے میں سواری کا ذریعہ یہ تھا کہ جنگل میں خچر، گھوڑے اور اونٹ فطری طور پر بڑی تعداد میں آدمی ان کو پکڑتا اور انھیں سواری اور بار برداری کے لیے استعمال کرتا۔ مگر آج سواری، مشینی سواریوں کا نام ہو گیا ہے، اور مشینی سواریاں علم کے بغیر نہ بنائی جا سکتی ہیں، اور نہ انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جدید دور میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں تمام علوم کو از سرِ نو مدوّن کیا گیا ہے۔ زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ آسمان کے ستارے اتنے ہی بڑے ہیں جتنے بڑے کہ وہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانے میں دوربینی مطالعے نے بتایا کہ آسمان کے ستارے بہت زیادہ بڑے ہیں، اور تعداد میں بھی وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ بظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بے شمار نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں دنیا کو جاننے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ آج بے علم آدمی صرف ایک ناخواندہ انسان نہیں ہے، بلکہ وہ حقائق کی دنیا سے بے خبر انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ زمانے میں تعلیم کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی تعلیم کو وقت کی ضرورت کے تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو وقت کی ضرورت سے مسلح کرنا۔ انسان کو اس قابل بنانا کہ وہ آج کے حالات کے مطابق، زندگی کی تعمیر کر سکے۔ زمانی تبدیلی سے باخبر ہونا زندگی کے عام معاملات کے لیے بھی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ دین کو زمانے کی نسبت سے سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو طویل حدیث میں صحابی رسول ابوذر الغفاری کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ دانش مند (مومن) کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔
اسپرٹ آف انکوائری اسپرٹ آف انکوائری کیا ہے۔ یہ تجسس کا مزاج ہے:
Spirit of enquiry is a persistent sense of curiosity. اسپرٹ آف انکوائری کو میں نے ایک تجربے سے سمجھا ہے۔ یہ واقعہ میری طالب علمی کے دور کا ہے۔ میری تعلیم جامعۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں ہوئی۔ میرے تفسیر کے استاد کا نام مولانا امین احسن اصلاحی تھا۔ اسپرٹ آف انکوائری کا پہلا سبق مجھے میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی سے ملا۔ ایک روز قرآن کی کلاس میں یہ آیت سامنے آئی: أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ یعنی کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا۔ استاد نے اس موقع پر طلبہ سے پوچھا کہ اونٹ کا سم (hoof) پھٹا ہوتا ہے یا جڑا ہوتا ہے۔ یعنی بیل کی مانند پھٹا ہوتا ہے یا گھوڑے کی مانند جڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل پچو سے کبھی ایک جواب دیتا، اور کبھی دوسرا جواب۔
اس موقع پر استاد نے بتایا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے مشہور تابعی عامر بن شراھیل الشعبی (وفات 103ھ) کا مقولہ سنایا: لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ (سنن الدارمی، اثر نمبر 186)۔ یعنی میں نہیں جانتا کہنا، آدھا علم ہے۔ اس کی تشریح انھوں نے کی کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمھارے پاس آدھا علم ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ لاادری (میں نہیں جانتا) کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے، اور پھر تم اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے۔
مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (spirit of enquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تھا، مگر اس معاملہ میں وہ اپنے ’’لا ادری‘‘ کو نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ حقیقت سے بے خبر نیوٹن پہلا شخص ہے، جس نے اس معاملہ میں اپنے ’’لا ادری‘‘ کو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ’’ادری‘‘ کے درجہ تک پہنچ گیا۔ یعنی کشش ثقل (gravitation) کو دریافت کیا۔ اس کے برعکس، ہمارے لوگوں کا معاملہ ہے۔ وہ دور جدید کو نہیں جانتے تھے۔ باوجود انھوں نے یہ اعلان کر دیا کہ دور جدید اسلام کا مخالف ہے۔ جب کہ انھیں کہنا یہ چاہیے تھا کہ لا ادری ما هو العصر الجديد (میں نہیں جانتا کہ دور جدید کیا ہے)۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوتے کہ دور جدید کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔
جب انھوں نے دور جدید کو جانے بغیر یہ اقدام کیا کہ انھوں نے، اس ادری (میں جانता ہوں) کلچر کی بنا پر، ہر چیز کو مخالفِ اسلام قرار دے دیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر وہ دور جدید میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے۔ اس کے برعکس، راقم الحروف کا معاملہ یہ ہے کہ میں ہر چیز کو سب سے پہلے لا ادری (میں نہیں جانتا ہوں) کے خانے میں ڈالتا ہوں۔ اس کے بعد موضوعی اعتبار سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کہا تھا: جب معلوم نہ ہو تو معلوم کرنا چاہیے ۔ نہ جاننے کا علاج دریافت کرنا ہے (أَلَّا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 336۔ اسپرٹ آف انکوائری بہت زیادہ اہم ہے۔ گویا یہ اپنے نہ جاننے کو جاننا بنانے کا یہ تمام انسانی ترقیوں کے لیے قوت محرکہ ہے۔