ایک مثال
Al-Risala, October 2020, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
مشرقی یوپی کے ایک شہر کا واقعہ ہے۔ اس شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے گھر مکان کے ساتھ ایک خالی زمین بھی ان کے پاس میں تھی۔ اُن کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکہ اس ہندو ٹھیکہ دار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اُس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے شہر کے کٹر ہندوؤں سے مل کر انھیں بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہوگئی، اور نعرے لگانے لگی۔
مذکورہ مسلمان کے پاس اُس وقت دو بندوقیں تھی۔ مگر انھوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔
اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انھوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر ساؤنڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے اور مسٹر ساؤنڈ کو لے کر گھر کے اندر آگئے ۔ اُن کو کمرہ میں لا کر اُنھیں کرسی پر بٹھا دیا ۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر ساؤنڈ آپ لوگ کس سلسلہ میں یہاں آئے۔ مسٹر ساؤنڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے ، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کا غتر پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کا غذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ میرے پاس جو کاغذات ہیں، ان کو لے لیجیے، اور ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں، اُن کو بھی لے لیجیے، اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جایئے ۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو حج بناتا ہوں۔ آپ کا غذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔
یہ سن کر مسٹر ساؤنڈ بالکل نارمل ہو گئے ۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے تھے، اور ہنستے ہوئے باہر انھوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ نے خود ہم کو حج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کاغذات دیکھ فیصلہ کریں گے۔ مسٹر ساؤنڈ نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کاغذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انھوں نے صدقہ مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (انانیت) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انھوں نے گن (gun) کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (القیامة، 75:2) جاگ اٹھا، نفس لوامہ یعنی ضمیر ۔ اور جب ضمیر جاگ اٹھے تو اس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔