توبہ کی اہمیت
Al-Risala, October 2020, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَالَّذِی نَفْسِی بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2749)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں لے جائے گا اور ایسی قوم لائے گا جو گناہ کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرمادے۔
موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں آدمی سے ضرور کوئی نہ کوئی غلطی صادر ہو جاتی اس غلطی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ فطری نظام کے تحت آدمی کے اندر غلطی کے بعد شرمندگی (repentance) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے، اور اس معاملے میں اللہ سے مدد کا طالب ہو۔
اس طرح غلطی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ذاتی اصلاح (self correction) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر نئی فکر بیدار ہوتی ہے۔ اس کی سوچ مزید شدت کے ساتھ متحرک ہو جاتی ہے۔ اس طرح آدمی کے اندر جو عمل (process) جاری ہوتا ہے، وہ اس کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ عمل اگر طاقت کے ساتھ بار بار جاری رہے تو وہ آدمی کے لیے اعلیٰ ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ معتدل حالات میں انسان کے اندر کوئی بڑی اصلاح نہیں ہوتی۔ بڑی اصلاح، یا بڑی سوچ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو سخت قسم کا شاک (shock) لگے۔ اس کے اندر برین اسٹارمنگ آدمی کے اندر طاقت ور انداز میں محاسبہ کا مزاج پیدا ہو، اور یہی وہ چیزیں ہیں، جو غلطی کے بعد آدمی کے اندر جاگ اٹھتی ہیں۔ اس طرح غلطی انسان کے اندر اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔