سائنس توحید کی طرف
Al-Risala, November 2020, pp. 33–36
By Maulana Wahiduddin Khan
علم طبیعیات میں، نیوٹن کے بعد سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ چار قسم کے قوانین یا طاقتیں ہیں، جو فطرت کے مختلف مظاہر کو کنٹرول کرتی ہیں :
قوتِ کشش (Gravitational Force)
برقی مقناطیسی قوت(Electromagnetic Force)
طاقت ورنیوکلیرقوت(Strong Nuclear Force)
کمزورنیوکلیرقوت(Weak Nuclear Force)۔
کشش کا قانون، ایک کہانی کے مطابق، نیوٹن نے اس وقت معلوم کیا جب کہ اس نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا۔ ”سیب اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا، نیچے زمین پر “ اس سوال نے اس کو اس جواب تک پہنچایا کہ زمین میں، اور اسی طرح تمام دوسرے کروں میں، جذب وکشش کی قوت کارفرما ہے۔ بعد کو آئن سٹائن نے اس نظریے میں بعض فنی اصلاحات تاہم اصل نظریہ اب بھی سائنس میں ایک مسلمہ اصولِ فطرت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ مقناطیسی قانون کا تجربہ پہلی بار فریڈے ([1791-1867] Michael Faraday) نے 1831 میں کیا۔ اس نے دکھایا کہ بجلی کی قوت اور مقناطیس کی قوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی مقناطیس اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو بجلی پیدا ہو جاتی ہے، اور مقناطیس اور بجلی کی لہر کو یکجا کریں تو حرکت وجود میں آجاتی ہے۔
ابتدائی 50 سال تک تمام طبیعی واقعات کی توجیہہ کے لیے مذکورہ دو قوانین کافی سمجھے مگر موجودہ صدی کے آغاز میں جب ایٹم کے اندرونی ڈھانچے کی بابت معلومات میں اضافہ ہوا، اور یہ معلوم ہوا کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات ہیں جو ایٹم کے اندر کام کر رہے ہیں تو طبیعی نظریات میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ یہیں سے طاقت ور نیوکلیئر فورس اور کمز ور نیوکلیئر فورس کے نظریات
ایٹم کا اندرونی مرکز (نیوکلیس) الیکٹران سے گھرا ہوا ہے، جو کہ پروٹان نامی ذرات سے بہت زیادہ چھوٹے اور ہلکے ہیں۔ مگر مطالعہ بتاتا کہ ہر الیکٹران وہی چارج رکھتا ہے، جو بھاری پروٹان رکھتے ہیں۔ البتہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ الیکٹران میں منفی برقی چارج ہوتا ہے، اور پروٹان میں مثبت برقی چارج۔ الیکٹران ایٹم کے بیرونی سمت میں اس طرح گردش کرتے ہیں کہ ان کے اور ایٹم کے مرکز (نیوکلییں) کے درمیان بہت زیادہ خلا ہوتا ہے۔ مگر منفی چارج اور مثبت چارج دونوں میں برابر برابر ہوتے ہیں، اور اس بنا پر ایٹم بحیثیت مجموعی برقی اعتبار سے نیوٹرل (neutral) اور قائم (stable) رہتا ہے۔
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایٹم کا مرکز بطور خود قائم (stable) کیوں کر رہتا ہے۔ پروٹان الگ الگ ہو کر بکھر کیوں نہیں جاتے۔ قائم رہنے (stability) کی توجیہہ طبیعیاتی طور پر یہ کی گئی ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے قریب ایک نئی قسم کی طاقتور قوت کشش موجود ہوتی ہے۔ قوت ایک قسم کے ذرات سے نکلتی ہے جن کو میسن (Mesons) کہا جاتا ہے۔ ایٹم کے اندر پروٹان اور نیوٹران کے ذرات بنیادی طور پر یکساں (identical) سمجھے جاتے ہیں۔ دو ٹکڑوں کو لیں اور دونوں کے یکساں رخ (ساؤتھ پول کو ساؤتھ پول سے یا نارتھ پول کو نارتھ پول سے ملائیں تو وہ ایک دوسرے کو دور پھینکیں گے۔ اس معروف طبیعی اصول کے مطابق پروٹان اور نیوٹران کو ایک دوسرے سے بھاگنا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پروٹان اور نیوٹران ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں، اور اس بدلنے کے دوران میسن کی صورت میں قوت خارج کرتے ہیں، جوان کو جوڑتی اسی کا نام طاقت ور نیوکلیئر فورس ہے۔ اسی طرح سائنس دانوں نے دیکھا کہ بعض ایٹم کے کچھ ذرات (نیوٹران میسن) اچانک ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال مثلاً ریڈیم میں پیش آتی ہے۔ کے ذرات کا اس طرح اچانک ٹوٹنا طبیعیات کے مسلمہ اصول تعلیل (causality) کے خلاف کیوں کہ پیشگی طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایٹم کے متعدد ذرات میں سے کون سا ذرہ پہلے اس کا مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہہ کے لیے ایٹم میں جو پر اسرار طاقت
فرض کی گئی ہے، اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے رہے ہیں کہ انھیں چار طاقتوں کے تعامل (interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ عین اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے، جو فطرت کے پورے نظام میں کارفرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (unified theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا ضمیر“ متواتر اس جدوجہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانین فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصول فطرت principle (of nature دریافت کرے، جو تمام واقعات کی توجیہہ کرنے والا ہو۔
آئن اسٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (unification) کی کوشش کی، اور اس میں 25 سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا، مگر وہ کامیاب نہ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تا کہ اس مسئلے کو حل کر لیتا۔
ڈاکٹر عبد السلام (1996-1926) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں، شیلڈن لی گلاشو Steven Weinberg [b. ]اور وین برگ Sheldon Lee Glashow [b. (1933) کو 1979 میں طبیعیات کا جو مشترکہ نوبل انعام ملا ہے، وہ ان کی اسی قسم کی ایک تحقیق پر انھوں نے مذکورہ قوانین فطرت میں سے آخری دو قانون (طاقتور اور کمزور نیوکلیئر فورس) کو ایک واحد ریاضیاتی اسکیم میں متحد کر دیا۔ اس نظریے کا نام جی ایس ڈبلیو نظریہ (G-S-W Theory) رکھا اس کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں قوانین اصلاً ایک ہیں۔ انھوں نے چار کی تعداد کو گھٹا کر تین تک پہنچادیا ہے۔
سائنس اگر چہ اپنے کو " کیا ہے“ کے سوال تک محدود رکھتی ہے، وہ کیوں ہے“ کے سوال تک جانے کی کوشش نہیں کرتی۔ تاہم یہ ایک واقعہ ہے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ اتنی
پیچیدہ اور حیرت ناک ہے کہ اس کو جاننے کے بعد کوئی آدمی ”کیوں ہے“ کے سوال سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میکسویل [1879-1831] James Clerk Maxwell) وہ شخص ہے، جس نے برقی مقناطیسی تعامل (electromagnetic interaction) کے قوانین کوریاضی کی مساواتوں (equations) میں نہایت کامیابی کے ساتھ بیان کیا۔ انسان سے باہر فطرت کا جو مستقل نظام ہے اس میں کام کرنے والے ایک قانون کا انسانی ذہن کی بنائی ہوئی ریاضیاتی مساوات میں اتنی خوبی کے ساتھ ڈھل جانا اتنا عجیب تھا کہ اس کو دیکھ کر بولٹزمین بے اختیار کہہ اٹھا — کیا یہ خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں جو دل میں حیرت انگیز خوشی بھر دیتا ہے :
Was it a God that wrote these signs, revealing the hidden and mysterious forces of nature around me, which fill my heart with quiet joy? دریافت کی اہمیت انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز دریافت ہے۔ دریافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں، اور دریافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے، جو غیب پر ایمان لائے (البقرۃ، غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نامعلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانے میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔
دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین و آسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ ان رازوں کو قوانین فطرت کہا سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جو قوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ زمانے میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں کو تمام ترقیاں انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جو چیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا، وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔