Search for Extra-Terrestrial Intelligence
Al-Risala, November 2020, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کے ارتقائی نظریے کے تحت سائنس دانوں کا گمان ہے کہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی انسان جیسی ذہین مخلوق ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ارتقائی عمل عموم چاہتا ہے، ارتقائی عمل میں استثنا کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس فرضی قیاس پر جدید انسان کو اتنا زیادہ یقین ہے کہ ایک امریکن سائنسی مصنف اسحاق اسیموو [1992-1920] Isaac Asimov) نے حساب لگا کر اعلان کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں چار سولین سیارے ایسے ہیں، جن میں پودے اور جانور پائے جاتے ہیں پائے جاسکتے ہیں۔ مگر یہ سب کاسب محض حسابی قیاس ہے۔
سورج ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے۔ اس کا قطر (diameter) آٹھ لاکھ 65 ہزار میل وہ ہماری زمین سے تقریبا بارہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ سورج کی سطح پر جو حرارت ہے اس کا اندازہ بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ٹمپریچر کیا گیا ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ تقریبا کرور 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ فاصلہ گھٹ یا بڑھ جائے تو زمین پر انسان جیسی مخلوق کی آبادکاری ناممکن ہو جائے۔ مثلاً اگر ایسا ہو کہ سورج نصف کے بقدر ہم سے قریب ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ اس کی شدت سے کاغذ اس کے برعکس، اگر زمین اور سورج کا موجودہ فاصلہ دگنا سے زیادہ ہو جائے تو اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ زمین پر زندگی جیسی چیز باقی نہ رہے۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی، جب کہ موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی ستارہ آجائے۔ مثلاً ایک ستارہ ہے، جس کی گرمی ہمارے سورج سے اسی ہزار گنا زیادہ ہے، اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو پوری زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا۔