دعوتی عمل کی منصوبہ بندی
Al-Risala, November 2020, pp. 48–49
By Maulana Wahiduddin Khan
شیخ ریاض موسی ملیباری صاحب سے پہلی بار جامعہ دارالسلام عمر آباد میں تعارف ہوا، جب کہ وہ جگہ جگہ مسلمانوں کی دعوتی ذہن سازی کے لیے سفر کیا کرتے تھے۔ اتفاقاً جس سال میری فراغت ہوئی اسی سال باقاعدہ طور پر جامعہ دارالسلام میں ایک سالہ دعوتی کورس کا اعلان کیا گیا، جس میں دعوتی تربیت اور دعوتی دوروں کی ذمہ داری خود شیخ ریاض موسی صاحب نے لے لی۔ دعوت کو بطور ترجیحی سرگرمی کے اپنانے کا ذہن، اور اس کو عملاً امت میں جاری کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے، وہ میں نے شیخ ریا لو صاحب سے سیکھا ہے۔
میرا پہلا دعوتی دورہ 1996 میں شیخ ریا لو صاحب کے ساتھ شہر آمبور (ضلع ترپا تور، تامل ناڈو) کی مسجد محی الدین پورہ میں ہوا۔ اس میں بلیک بورڈ کے ذریعے سے دعوت کے متعلق دروس دیے گئے، جس میں مسلمانوں کو غیر مسلموں میں دعوت الی اللہ کی ترغیب دی گئی۔ غیر مسلموں میں دعوت کے عنوان سے مسجد واری اور مدرسہ واری تحریک جاری کرنے کے لیے شیخ ریا لو صاحب زندگی بھر کوششیں کرتے رہے، جس کے سبب ہندوستان میں ایک دعوہ ٹیم وجود میں آئی، جو دعوتی مشن کو لے کر جگہ جگہ جایا کرتی ہے، یعنی دعوتی سیاحت کا عمل وجود میں آیا۔
ریا لو صاحب کہا کرتے تھے کہ جس دن امت مسلمہ سے چند افراد دعوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، خاص طور پر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے حضرات کام کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے تو اس دن میں واپس کیرالا چلا جاؤں گا۔ غالباً 2004 میں شیخ ریا لو صاحب کے ساتھ منگلور (کرناٹکا) گیا، وہاں ان کے ساتھی ڈاکٹر حبیب الرحمن سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ریا لو صاحب سے سوال کیا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ دیکھیے مولوی حضرات کو دین کے سب کام آتے ہیں سوائے غیر مسلموں میں دعوت کے، میں آج کل مدارس کا دورہ کر کے علما حضرات کو غیر مسلموں میں دعوت دین کا عملی طریقہ سکھار ہاہوں۔
شیخ ریالو صاحب کے ذریعے سے میرے اندر دعوتی شعور پیدا ہوا، آپ کی تربیت اور صحبت کے نتیجے میں دعوت کو میں نے اپنی زندگی میں پرائمری کنسَرن بنایا۔ مگر میرے ذہن و دماغ میں دعوتی میدان کے اصولی اور علمی تقاضوں کے متعلق بہت سے سوالات تھے، مثلاً اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں کام کیسے کیا جائے، دور جدید کی نسبت سے دعوتی تقاضے کیا ہیں؟ اسی طرح یہ کہ سائنسی ایج میں علم وایمان کے اثبات میں جو دلائل وجود میں آئے ہیں ان کو دریافت کرنے کا ذہن، مدعو سے یک طرفہ خیر خواہی کرنا، غیر مسلم حضرات کے سارے ہی طبقات کے ساتھ صرف دعوتی سلوک کو صحیح سمجھنا، ملاء قوم کے ساتھ ناصحانہ رویہ اختیار کرنا، وغیرہ۔
یہ اور اس قسم کے اور بھی سوالات تھے، جن کے لیے مجھے رہنمائی کی ضرورت تھی۔ فضل سے الرسالہ مشن کے ذریعے اس کی تلافی ہوگئی۔ میں نے جس دعوتی جذبے کے تحت ریاض موسی صاحب کا ساتھ دیا تھا، اسی جذبے کے تحت میں نے الرسالہ مشن کو بھی اختیار کیا ہے۔ شیخ ریا لو صاحب کی مغفرت فرمائے، اور ہم سب کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اقبال احمد عمری ، عمر آباد، تامل ناڈو)
نامعلوم دنیا کا سفر موت کیا ہے، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔
موت ”اپنی دنیا‘‘ سے نکل کر دوسرے کی دنیا‘‘ میں جانا ہے۔ کیسا چونکا دینے والا ہے یہ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، پھر بھی وہ نہیں چونکتا۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتا رہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرا یہی تمھارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو فرشتوں کے حوالے کردے۔ ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے۔