خدا کا عقیدہ
Al-Risala, November 2020, pp. 10–14
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کا ایک خدا ہے، جو اس کا خالق اور مالک ہے۔ اس خدا کے وجود کی سب سے بڑی دلیل خود وہ کائنات ہے، جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ ایک عظیم خدا ہے، جس نے اس کو بنایا، اور اپنی بے پناہ طاقت سے اس کو چلا رہا ہم مجبور ہیں کہ ہم کا ئنات کو مانیں، اور اسی لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم خدا کو مانیں۔ کیوں کہ کائنات کو ماننا اس وقت تک بے معنی ہے، جب تک اس کے خالق و مالک کو نہ مانا جائے۔ حیرت انگیز ہے کہ وہ کسی بنانے والے کے بغیر بن نہیں سکتی، اور اس کا نظام اتنا عجیب ہے کہ وہ کسی چلانے والے کے بغیر چل نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے پر آدمی اس طرح مجبور ہے، جس طرح اپنے آپ کو یا کا ئنات کو ماننے پر۔
آپ سائیکل کے پہیے پر ایک کنکری رکھیں، اور اس کے بعد پیڈل چلا کر پہیے کو تیزی سے گھمائیں تو کنکری دور جا کر گرے گی۔ حالاں کہ سائیکل کے پہیے کی رفتار مشکل سے 25 میل فی گھنٹہ ہماری یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، وہ بھی ایک بہت بڑے پہیے کی مانند ہے۔ زمین اپنے محور پر مسلسل ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یہ رفتار سواری کے عام ہوائی جہازوں سے زیادہ ہے۔ ہم اس تیز رفتار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ گھر اور شہر بناتے ہیں۔ مگر ہمارا وہ حال نہیں ہوتا، جو گھومتے ہوئے پہیے پر رکھی ہوئی کنکری کا ہوتا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ معجزہ۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ زمین پر ہمارے قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ نیچے سے زمین بہت بڑی طاقت کے ساتھ کھینچ رہی ہے، جس کو قوت کشش کہا جاتا ہے، اور اوپر سے ہوا کا بھاری دباؤ ہم کو زمین کی سطح پر رو کے رہتا ہے۔ یہ دو طرفہ عمل ہم کو زمین پر تھامے ہوئے ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہم پہیے کی کنکری کی طرح فضا میں اڑ نہیں جاتے۔ مگر یہ جواب صرف یہ بتاتا ہے کہ ہمارے آس پاس ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا معجزہ موجود ہے۔ زمین میں اتنے بڑے پیمانے پر کھینچنے کی قوت ہونا،
اور اس کے چاروں طرف ہوا کا پانچ سو میل موٹا غلاف مسلسل لپٹا رہنا صرف معاملے کی حیرت ناکی کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجے میں اس کو کم نہیں کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز معجزہ ہے۔ آدمی مٹی کے اندر ایک چھوٹا سا دانہ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ دیکھتا ہے کہ مٹی کے اندر سے ایک ہری اور سفید مولی نکلی چلی آرہی وہ دوسرا دانہ ڈالتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے میٹھا گاجر نکلا چلا آ رہا ہے۔ بے شمار دوسری چیزیں ۔ کسی دانے کو مٹی میں ڈالنے سے امرود نکل رہا ہے۔ کسی دانے کو ڈالنے سے آم ۔ کسی دانے سے شیشم کا درخت نکلا چلا آرہا ہے، اور کسی دانے سے چنار کا درخت ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی صورت الگ ، ہر ایک کا مزہ الگ ، ہر ایک کے فائدے الگ، ہر ایک کی خاصیتیں ایک ہی مٹی ہے، اور نا قابلِ لحاظ چھوٹے چھوٹے بیج ہیں، اور ان سے اتنی مختلف چیزیں اتنی مختلف صفتوں کو لیے ہوئے نکل رہی ہے، جن کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔
حیرت ناک معجزوں کی ایک پوری کائنات ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ایک ایسی دنیا جہاں سارے انسان مل کر ایک ذرے کی بھی تخلیق نہیں کر سکتے وہاں ہر لمحہ بے شمار طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اتنے بڑے معجزے ہیں کہ ان کے کمالات کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو بتانے کے لیے ہماری لغت کے تمام الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ ہمارے الفاظ ان معجزوں کے اتھاہ کمالات کو صرف محدود کرتے ہیں۔ وہ کچھ بھی ان کا اظہار نہیں کرتے ۔ کیا یہ معجزہ ایک خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آ سکتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز ایٹم سے بنی ہے۔ ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ عجیب معجزہ ہے کہ کہیں ایٹموں کی ایک مقدار جمع ہوتی ہے تو سورج جیسا روشن کرہ بن جاتا ہے۔ دوسری جگہ یہی ایٹم جمع ہوتے ہیں تو وہ بہتے ہوئے پانی کی صورت میں رواں ہو جاتے ہیں۔ جگہ ایٹموں کا یہی مجموعہ لطیف ہواؤں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کسی اور جگہ یہی ایٹم زرخیز زمین کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں ان گنت چیزیں ہیں۔ سب کی ترکیب ایٹم سے ہوئی
مگر سب کی نوعیت اور خاصیت جدا جدا ہے۔ اس قسم کی ایک معجزاتی کائنات اپنی بے شمار سرگرمیوں کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ بہت بڑے پیمانے پر دنیا میں جمع کر دیا گیا ہے، اور ہر روز جمع کیا جا رہا ہے۔ دنیا کو اپنے لیے قابلِ استعمال بنانے کی خاطر انسان کو خود جو کچھ کرنا ہے، وہ بہت تھوڑا ہے۔ کائناتی انتظام کے تحت بے حساب مقدار میں قیمتی رزق پیدا کیا جاتا ہے۔ ہم اس میں صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ اور منھ چلا کر اس کو اپنے پیٹ میں ڈال لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ارادے کے بغیر خود کار فطری نظام کے تحت غذا ہمارے اندر تحلیل ہوتی ہے، اور گوشت اور خون اور ہڈی اور ناخن اور بال اور دوسری بہت سی چیزوں کی صورت اختیار کر کے ہمارے جسم کا جزء بن جاتی ہے۔
زمین و آسمان کی بے شمار گردشوں کے بعد وہ حیرت انگیز چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو تیل انسان صرف یہ کرتا ہے کہ اس کو نکال کر اپنی مشینوں میں بھر لیتا ہے، اور پھر یہ سیال ایندھن انسانی تہذیب کے پورے نظام کو حیرت انگیز طور پر رواں دواں کر دیتا ہے۔ کائنات کے نظام کے تحت وہ ساری چیزیں بے شمار تعداد اور مقدار میں پیدا کی گئی ہیں، جن پر انسان صرف معمولی عمل کرتا ہے، اور اس کے بعد وہ کپڑا، مکان، فرنیچر، آلات، مشینوں، سواریوں اور بے شمار تمدنی ساز و سامان کی صورت میں ڈھل جاتی ہیں۔ کیا یہ واقعات اس بات کے ثبوت کے لیے کافی نہیں کہ اس کا ایک بنانے والا اور چلانے والا ہے۔
اب ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ قدرت اپنے طویل اور ناقابلِ بیان عمل کے ذریعے ہر قسم کی چیزیں تیار کر کے ہم کو دے رہی ہے۔ انسان ان کو اپنے حق میں کار آمد بنانے کے لیے بے حد تھوڑا حصہ ادا کرتا ہے۔ وہ لوہے کو مشین کی صورت میں ڈھالتا ہے، اور تیل کو صاف کر کے اس کو اپنی گاڑی کی ٹنکی میں بھرتا ہے۔ مگر اس قسم کے معمولی عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ خشکی اور تری فساد سے بھر گئے ہیں۔ قدرت نے ہم کو ایک انتہائی حسین اور خالص دنیا دی تھی۔ مگر ہمارے عمل نے ہم کو دھواں، شور، غلاظت، توڑ پھوڑ، لڑائی جھگڑا اور طرح طرح کے ناقابلِ حل مسائل سے گھیر لیا ہے۔ ہم اپنے کارخانوں
یا تمدّنی سرگرمیوں کی صورت میں جو تھوڑاسا عمل کرتے ہیں، وہی عمل کائنات میں بے حساب گنا زیادہ بڑے پیمانے پر رات دن ہو رہا ہے، مگر یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ زمین مسلسل دو قسم کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ ایک، اپنے محور (axis) پر اور دوسری، سورج کے گرد اپنے مدار (orbit) پر، مگر وہ کوئی شور برپا نہیں کرتی۔ درخت ایک عظیم الشان کارخانہ کی صورت میں کام کرتے ہیں مگر وہ دھواں نہیں بکھیرتے۔ سمندروں میں بے شمار جانور ہر روز مرتے ہیں مگر وہ پانی کو خراب نہیں کرتے۔ کائنات کا نظام کھرب ہا کھرب سال سے چل رہا ہے۔ مگر اس کا منصوبہ اتنا کامل ہے کہ اس کو کبھی اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بے شمار ستارے اور سیارے خلا میں ہر وقت دوڑ رہے ہیں۔ مگر ان کی رفتار میں کبھی فرق نہیں آتا، وہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ یہ تمام معجزوں سے بڑا معجزہ اور تمام کرشموں سے بڑا کرشمہ ہے، جو ہر لمحہ ہماری دنیا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی اور ثبوت چاہیے کہ آدمی اس کائنات کے پیچھے ایک عظیم خدائی طاقت کو تسلیم کرے۔ پھر زندگی کو دیکھیے۔ فطرت کا کیسا انوکھا واقعہ ہے کہ چند مادی چیزیں خود بخود ایک جسم میں یکجا ہوتی ہیں، اور پھر ایک ایسی شخصیت وجود میں آ جاتی ہے، جو مچھلی بن کر پانی میں تیرتی ہے، جو چڑیا بن کر ہوا میں اڑتی ہے۔ طرح طرح کے جانوروں کی صورت میں زمین پر چلتی پھرتی ہے، انھیں میں وہ جان دار بھی ہے، جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ پر اسرار اسباب کے تحت ایک موزوں جسم بنتا ہے، اور اس کے اندر ہڈیاں ایک انتہائی بامعنی ڈھانچے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ پھر اس کے اوپر گوشت چڑھایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر کھال کی تہیں اوڑھائی جاتی ہیں، بال اور ناخن پیدا کیے پھر سارے جسم میں خون کی نہریں جاری کی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک خود کار عمل کے ذریعے ایک عجیب و غریب انسان بنتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سونگھتا ہے، جو چکھتا ہے، جو سوچتا ہے، جو یاد رکھتا ہے، جو معلومات جمع کر کے ان کو مرتب کرتا ہے، جو لکھتا اور بولتا ہے۔ مردہ مادّے سے اس قسم کے ایک حیرت ناک وجود کا بن جانا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے کہ معجزے کا لفظ بھی اس کے اعجاز (miracle) کو بتانے کے لیے کافی نہیں۔
اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے مٹی کو بولتے ہوئے سنا اور پتھر کو چلتے ہوئے دیکھا تو لوگ حیران ہو کر اس کی تفصیل دریافت کریں گے۔ مگر یہ انسان جو چلتا پھرتا ہے، جو بولتا اور دیکھتا ہے آخر مٹی پتھر ہی اس کے اجزاء وہی ہیں، جو مٹی اور پتھر‘‘ کے ہوتے ہیں۔ مٹی اور پتھر کے بولنے اور دیکھنے کی خبر کو ہم جس طرح عجیب سمجھیں گے، اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعجب ہم کو اس مخلوق پر ہونا چاہیے جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ بے جان مادّے میں اس قسم کی زندگی اور شعور پیدا ہو جانا کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہاں ایک برتر ہستی ہے، جس نے اپنی خصوصی قدرت سے یہ عجیب و غریب معجزہ رونما کیا ہے۔ انسان اگر اپنے اوپر غور کرے تو بہ آسانی وہ خدا کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی صورت میں ایک ’’میں‘‘ زمین پر موجود ہے۔ اس کی اپنی ایک مستقل ہستی ہے۔ چیزوں سے الگ اپنا ایک وجود رکھتا ہے۔ یہ میں‘‘ بلا اشتباہ یقین رکھتا ہے کہ وہ ہے۔ وہ سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ وہ ارادہ کرتا ہے، اور اس کو بالفعل نافذ کرتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کے تحت کہیں ایک رویہ اور کہیں دوسرا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہی شخصیت اور قوت جس کا ایک آدمی اپنی ’’میں‘‘ کی سطح پر ہر وقت تجربہ کر رہا ہے یہی ’’میں‘‘، اگر خدا کی صورت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ - وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (14-75)۔ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے، چاہے وہ کتنی ہی معذرت کرے۔
لوگ خدا پر اور خدا کے پیغام پر یقین کرنے کے لیے معجزاتی دلیل مانگتے ہیں۔ آخر لوگوں کو اس کے سوا اور کون سا معجزہ درکار ہے، جو نا قابل قیاس حد تک بڑے پیمانے پر ساری کائنات میں اگر اتنا بڑا معجزہ آدمی کو جھکانے کے لیے کافی نہ ہو تو دوسرا کوئی معجزہ دیکھ کر وہ کیسے ماننے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے اور اس کے آگے اپنے آپ کو سرینڈر کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہر وقت ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ با وجود آدمی اگر خدا کو اور اس کے جلال و کمال کو نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے، نہ کہ کائنات کا۔