Al-Risala · October 1976

روزہ

Al-Risala, October 1976, pp. 10–15

By Maulana Wahiduddin Khan

غالباً ۱۹۳۹ء کی بات ہے۔ گورکھپور میں ایک بڑے مسلم افسر رہا کرتے تھے۔ رمضان کے مہینے میں کچھ روز کے لئے ان کے یہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ ان کے بنگلے کے سامنے ایک علیحدہ بیٹھک بنی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ روزانہ صبح کے ایک ”حافظ صاحب“ قرآن بغل میں لئے ہوئے آتے ہیں۔ کچھ دیر بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں، پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ”یہ کون صاحب ہیں جو روزانہ صبح کو یہاں آتے ہیں؟ کئی روز تک یہ منظر دیکھنے کے بعد میں نے صاحب خانہ سے میرا سوال سن کر پہلے وہ ہنسے۔ اس کے بعد جواب دیا: ”بات یہ ہے کہ میں روزہ نہیں رکھ پاتا۔ اس لئے میں نے حافظ صاحب کو مقرر کر دیا ہے کہ وہ رمضان کے پورے مہینے میں میرے یہاں آکر قرآن پاک کی تلاوت کر دیا کریں۔ ختم پر ان کی کچھ خدمت کروں گا۔ یہ ایک ”بے روزہ دار“ کا قصہ تھا۔ اب روزہ داروں کو دیکھئے۔ ایک بار میں نے اذان کی آواز آنے سے پہلے گھڑی دیکھ کر افطار کر لیا ۔ کئی لوگ سنجیدگی سے اس شبہ میں پڑ گئے کہ میرا روزہ نہیں ہوا۔ آج کل کے روزہ داروں کا حال یہ ہے کہ وہ اس کا سخت اہتمام کریں گے کہ طلوعِ سحر سے کچھ منٹ پہلے کھانا پینا بند کر دیں اور غروب آفتاب کے کچھ منٹ بعد افطار شروع کریں۔ اس کا نام انھوں نے ”احتیاط“ رکھا ہے۔ ایک طرف اوقاتِ روزہ میں احتیاط کا یہ عالم کہ سحری میں تعجیل اور افطار میں تاخیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صریح طور پر سنت کے خلاف ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں تعجیل (جلدی کرتی رہے گی۔ دوسری طرف مقاصد روزہ میں لیے احتیاطی کا یہ حال ہے کہ وہ اس کو ضروری نہیں سمجھتے کہ روزہ رکھ کر کسی کی برائی نہ کریں، کسی سے جھگڑا نہ کریں، منہ سے جھوٹ بات نہ نکالیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص روزہ رکھ کر جھوٹ بات کرے تو اس کا روزہ روزہ نہیں۔ اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ کوئی روزہ دار کسی مسلمان کی غیبت کرے تو گویا اس نے خدا کی حلال کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا اور اس کی حرام کی ہوئی چیز سے افطار کر لیا۔

یہ دونوں واقعات بظاہر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک جگہ روزہ داری ہے، دوسری جگہ بے روزہ داری۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو دونوں کی شعوری سطح ایک نظر آئے گی۔ دونوں عبادت یا روزہ کو ایک قسم کا رسمی عمل سمجھ رہے ہیں نہ کہ ایک ایسا عمل جو انسان کی اندرونی گہرائیوں سے نکلتا ہے جو اس کے پورے وجود کا نمائندہ ہوتا ہے۔ عبادت کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ ایک زندہ عمل ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ محض ایک رسم ہو۔ زندہ عمل آدمی کے پورے وجود سے نکلتا ہے۔ وہ اس کی مکمل ہستی کا ایک اظہار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس رسم کی حیثیت محض ایک بے روح خارجی عمل کی ہوتی آدمی قلب و روح کو اس میں شامل کئے بغیر اوپری طور پر اسے انجام دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر تنہائیوں میں اللہ کو یاد کر کے رونا ایک عبادت ہے جب کہ اپنے دنیوی دھندوں میں مشغول رہتے ہوئے تسبیح کے دانوں پر ”اللہ اللہ“ شمار کرنا محض ایک رسم۔ تنہائی میں مومن کی آنکھ سے جو آنسو نکلتے ہیں وہ اس کی پوری ہستی کا نچوڑ ہوتے ہیں جبکہ لفظ ”اللہ“ کو شمار کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ پلاسٹک کے دانوں کو مقررہ تعداد میں دھاگے میں پرولیتا ہے اور اپنے مشاغل میں مصروف رہتے ہوئے محض انگلیوں کی حرکت کو اوپر اس کو گنتا رہتا ہے۔ زندہ عمل میں آدمی اور اس کے عمل کے درمیان گہرا نفسیاتی ربط ہوتا ہے جب کہ رسم میں دونوں کے درمیان اس قسم کا کوئی ربط نہیں ہوتا۔

موجووہ زمانہ میں روزہ کی حیثیت ایک قسم کی سالانہ رسم کی ہو گئی ہے۔ لوگوں کی اصل زندگی بدستور اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ روزہ کا زمانہ آتا ہے تو وہ بس ہجری کیلنڈر کے نویں ماہ میں داخل ہوتا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں داخل نہیں روزہ رکھ کر نہ لوگوں کے دل نرم پڑتے۔ نہ ان کے اندر عجز پیدا ہوتا ، نہ جائز اور ناجائز کے معاملہ میں ان کی قوتِ شامہ میں کوئی اضافہ ہوتا۔ ان کے نزدیک روزہ کے معنی صرف یہ ہیں کہ ایک خاص وقت سے خاص وقت تک کھانا پینا بند وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس طرح بھوکے رہنے سے خدا خوش ہو جائے گا ____________ ایسی حالت میں ایک بے روزہ دار کیوں نہ سوچے کہ جب خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ رسم ہی ادا کرنی ہے تو جیسا روزہ کی رسم ویسا تلاوت کی رسم۔ ایک رسم نہ کی، دوسری رسم کر لی۔ خدا جیسے اس رسم سے خوش ہوتا ہے، اسی طرح دہ دوسری رسم سے بھی خوش ہو جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ روزہ محض ایک خارجی رسم نہیں۔ بلکہ وہ ایک باطنی عمل ہے۔ وہ مومن کی نفسیاتی حالت کا ایک جسمانی اظہار ہے۔ مومن کا مطلب ہے ایک ایسا شخص جو دنیا کی زندگی میں برائیوں سے بچ کر ر ہے جو کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کی پابندی کرے۔ روزہ اسی قسم کی پابند زندگی کی مشق ہے۔ روزہ میں کھانا پینا چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو روزمرہ زندگی میں ”یہ کرو اور وہ نہ کرو“ کے ایک لازمی کورس سے گزار کر اس کو سبق دیا جائے کہ اسی طرح تم کو پوری زندگی گزارنی ہے۔ اسی طرح ساری عمر کے لئے تم کو ”روزہ دار“ بن جانا ہے جب کہ تم خود اپنے ارادہ سے ایک طرح کی زندگی کو چھوڑ دو اور دوسری طرح کی زندگی کو بالقصد اختیار کر لو۔ روزہ کے مہینے کی پابند زندگی دراصل پورے سال اور ساری عمر کے لئے پابند زندگی کی ایک علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے سارے معاملات میں ”روزہ داری“ کے اسی طریقہ پر عمل کرے جو اس نے رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کے معاملہ میں کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حدیث کے الفاظ میں ”اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ اگر روزہ دار لوگ اپنے عمل سے حقیقی روزہ داری کا نمونہ پیش کریں تو غیر روزہ داروں کو ہمت ہی نہیں پڑے گی کہ وہ سوچیں کہ اپنے روزہ کی تلافی کے لئے کسی حافظ صاحب کی خدمات بالمعاوضہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد انھیں یہ عمل بالکل مضحکہ خیز دکھائی دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کی یہ بے قدری روزہ داروں نے کی ہے نہ کہ بے روزہ داروں نے۔ بے روزہ دار تو اسی کو روزہ سمجھیں گے جس کا نمونہ روزہ دار دکھارہے ہوں۔

میں ایک وزیر ہیں۔

ایشیا اور افریقہ کے اس علاقہ کی نمائندگی کرنے والی کوئی کانفرنس اگر پچاس برس پہلے ”کولمبو“ میں ہوتی تو ہم اس قسم کی خبر اخبار میں نہ پڑھے تھے۔ کیونکہ اس وقت ان ”۳۵“ اسلامی ملکوں کے نمائندے مسلمان سربراہ نہ ہوتے، بلکہ یورپی ملکوں کے گورنر اور وائسرائے ہوتے۔ موجودہ زمانہ نے اسلام کو زندہ کرنے کے بہت سے نئے امکانات کھول دیئے ہیں۔ ابھی تک لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔

زمانہ کا فرق کہاں سے کہاں پہنچا ہے ناوابستہ ملکوں کی کانفرنس جو کولمبو میں اگست ۱۹۷۶ کے دوسرے ہفتہ میں ہوئی اس کی خبروں میں سے ایک خبر یہ تھی کہ ۳۵ مسلم ملکوں کے سربراہ اور ان کے ساتھی جو اس کانفرنس میں شریک ہوئے انھوں نے ۱۳ اگست کو جمعہ کی نماز مقامی جامع مسجد میں ادا کی۔ اس کے انتظام کے لئے جو کمیٹی بنی، اس کے صدر الحاج بدیع الدین تھے جو سری لنکا کی حکومت

اسلام کی عظمتیں اسلام کی چوکی دار ہیں دہلی کی جامع مسجد، شاہجہاں کی ایک حیرت انگیز یہ عظیم مسجد چھ سال (1650-1656) میں بن کر چھ ہزار کاریگروں اور مزدوروں نے مسلسل اس میں اور اس کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ تین سو برس پہلے کی بات ہے جب کہ ایک مستری کی اجرت دو پیسے اور مزدور کی ایک پیسہ یومیہ ہوتی تھی۔ نیز مسجد کے قیمتی پتھر اور عمارتی سامان راجاؤں کی طرف سے مفت پیش کئے گئے تھے۔ عمارت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انتہائی سادہ ہونے کے باوجود انتہائی پرکشش ہے۔ تاج محل نے اپنے رومانی پہلو کی وجہ سے غیر معمولی شہرت پائی۔ مگر متنا سب شکوہ اور لطیف حسن جس طرح جامع مسجد کے سرخ و سفید پتھروں میں ڈھل گئے ہیں، اس کی کوئی دوسری مثال زمین پر مشکل سے ملے گی ۔ شاہجہاں کے زمانے میں جامع مسجد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا خصوصی اہتمام ہوتا تھا۔ جامع مسجد اور لال قلعہ اور مینا بازار کا مجموعہ اس زمانے میں دنیا کے چند انتہائی پرکشش مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ مگر ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد وہ گندگی کا علاقہ بنتا چلا گیا۔ مسجد کے چاروں طرف دکانوں کے لا تعداد گھروندے کھڑے ہو گئے اور اس کی عالیشان سیڑھیاں گداگروں کا اڈہ بن گئیں۔ مولانا محمد علی جوہر (۱۹۳۱ ۔ ۱۸۷۸) کو ایک بار ایک پیشہ ور مصور نے ایک روغنی تصویر فروخت کے لئے پیش کی۔ یہ جامع مسجد دہلی کی تصویر اس کی سیڑھیوں پر ایک بھکاری عورت کو اپنی دو بچیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے دکھایا گیا تھا جامع مسجد کی سیڑھیوں کے لئے یہ اتنا عام منظر تھا کہ محمد علی اس کی تردید نہ کر سکے البتہ اس کو با معنی بنانے کے لئے انھوں نے کہا: میں تمھاری تصویر کو خرید لوں گا، تم تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھ دو:

Her Fathers Built It اس کے پرکھوں نے اسے بنایا تھا۔

مسجد کے چاروں طرف جو تعمیری گھردندے کھڑے ہوئے تھے ان کو ہٹانے کا کام ۲۲ نومبر ۱۹۷۵ کو شروع ہوا تھا۔ ساڑھے سات سو د کانوں کے ہٹانے کے بعد اب ایسا نظر آتا ہے جیسے کوئی سرخ پہاڑ تھا جس کو ملبہ نے ڈھک لیا تھا اور اب اس کو اچانک کھول دیا گیا۔ بلند چٹان پر بنی ہوئی مسجد اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آگئی۔ " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کے چاروں طرف عظمت کے چوکیدار کھڑے ہو گئے ہیں۔ دوست نے مسجد کے نئے منظر کو دیکھ کر کہا" ایک عظیم وجود خود ہی اپنا چوکیدار ہوتا ہے، اگر اس کو پستیوں سے ڈھانک نہ دیا جائے۔ مجھے خیال آیا کہ اسلام کی عظمت کو بھی اسی طرح اس کے پیروؤں نے اپنی پستیوں سے ڈھانک رکھا ہے۔ اگر ہم اپنی پستیوں کے نشانات کو اس کے گرد و پیش سے ہٹا دیں تو معلوم ہو گا کہ ـــــــــ اسلام کی عظمتیں خود ہی اسلام کی چوکیدار ہیں۔ اس کو اپنی عظمت کا منارہ کھڑا کرنے کے لئے کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں۔ ۱۸۵۷ کے ہنگامہ کے بعد دہلی کے مسلمان جب دوبارہ آیاً ہوئے تو ان کا رجحان زیادہ سے زیادہ جامع مسجد کے گرد جگہ حاصل کرنے کا تھا۔ یہاں وہ اپنے کو ایک قسم کی پناہ کے اندر

محسوس کرتے تھے۔ مگر یہ کوئی صحت مند رجحان نہ تھا۔ زندگی کا راز پھیلنے میں ہے نہ کہ سمٹنے میں۔ حکومت کے تازہ عمل نے مسلمانوں کو دوبارہ جدوجہد کے پھیلے ہوئے میدان کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ ایک قسم کی مہمیز ہے جوان کے لئے ترقی اور عروج کا ایک نیا وسیع تر راستہ کھول دے گی۔ میں حکومت کی تعمیر پسندی کے ثبوت کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ جامع مسجد سے جن دکانداروں کو ہٹایا گیا ہے، ان کو نئی زیادہ بہتر دکانیں حکومت کی طرف سے بنا کر دے دی گئی ہیں۔ پہلے ان کی دکانیں اگر کھوکھوں میں تھیں تو اب وہ سرخ پتھروں سے بنے ہوئے ’’مینا بازار‘‘ میں اپنی دکانیں سجائے ہوئے ہیں۔ شاہجہاں کا دور نئی شکل میں دوبارہ واپس آگیا ہے۔

جامع مسجد کے علاقہ کے لئے حکومت کا یہ منصوبہ اچانک طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔ تقریباً ۲۰ برس پہلے جامع مسجد کی ترقیاتی اسکیم بن چکی تھی۔ اس اسکیم کا محرک دراصل ہندوستان میں سیاحت کو ترقی دینا ہے۔ سیاحت موجودہ زمانہ میں ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ ۱۹۷۴ میں عالمی سیاحوں کی تعداد ۲۱۰ ملین تھی۔ آج تمام ممالک اپنے تاریخی مقامات اور قدرتی مناظر کو ترقی دے رہے ہیں تاکہ وہ بیرونی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں جو اپنے ساتھ بیرونی دولت کی بہت بڑی مقدار لے آتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں ’’پیٹر و ڈالر‘‘ کے ظہور نے سیاحت کے عالمی نقشہ پر عربوں کی اہمیت بہت بڑھادی ہے۔ ہندوستان اب تک سیاحت کی انڈسٹری میں پیچھے رہا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں ۲۳۲۰۰ کروڑ روپے سیاحوں کے ذریعے گردش مگر ان کا ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہندوستان پہنچا۔ عالمی سیاحوں کی ۸۰ فی صد تعداد صرف ۲۰ ملکوں میں جاتی

حالاں کہ اس عظیم ملک میں وہ سب کچھ ہے جو اس کو عالمی سیاحت کا مرکز بنانے کے لئے کافی ہے ۔ خاص طور پر مغربی ایشیا کے مسلم ملکوں کے سیاح اور اس علاقے سے آنے والی اہم شخصیتوں کو دکھانے کے لئے ہمارے یہاں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ سامان موجود ہے ۔ ان میں بھی تاج محل کے بعد شاہ جہانی مسجد اور لال قلعہ اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے اہم ترین درجہ رکھتے ہیں ۔

حکومت کے اس اقدام نے اس علاقے کو اچانک مقامی اہمیت کے ایک بازار سے اٹھا کر بین الالالاقوامی اہمیت کا بازار بنا دیا ہے ۔ یہ علاقہ عنقریب ہندوستان میں سیاحوں کی آمدورفت کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا ۔ یہاں سفراء اور وزراء اور حکومتوں کے سربراہ آئیں گے ۔ اہم شخصیتوں کے پروگرام میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی ۔ مسلمان اس راز کو جان لیں تو موجودہ ” توڑ پھوڑ کو اپنے لئے عظیم تعمیرِ نو کی بنیاد بنا سکتے اس علاقہ کے دکان دار اگر اپنی دکانوں کو بین اقوامی معیار کے مطابق ترقی دیں اور بیرونی مہمانوں کی دل چسپی کی چیزیں فروخت کے لئے رکھیں تو وہ عالمی سطح پر اپنے خریدار پاسکتے ہیں آخری اہم ترین بات یہ ہے کہ اس علاقہ میں ایک اسلام بھون قائم کیا جائے ۔ یہاں اسلام کی تاریخی چیزیں رکھی جائیں اور ملک کی اور دیگر قوموں کی زبانوں میں اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے ۔ یہاں آنے والے سیاح اور بڑی بڑی شخصیتیں اس سے خصوصی دل چسپی لیں گی ۔ اور وہ نہ صرف تجارتی حیثیت سے کامیاب ہوگا بلکہ اسلام کی بین اقوامی اشاعت کا ایک اہم مرکز بن جائے گا ۔

جامع مسجد کا نیا منظر پیدا ہونے کے بعد خود دہلی کے غیر مسلم اور ملکی سیاح بڑی تعداد میں یہاں آنے لگے ہیں ۔ وای مدیونی وای شادی کی شعاعی سحرعی ثانی فرای مائی کی میں مدوری دغار تجد دی وی اسلام اور مسلمانوں کے لئے میرے اس ملک میں مستقر کھویا ہوا ہے اسلام اور مسلمانوں کے احیا میں سکون دیا ہے

یہاں اسلام کی بین الاقوامی اشاعت کا ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے لوگوں کی یہ آمد ان کے درمیان اسلام کے تعارف کا بہت قیمتی ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر جامع مسجد کے قریب کوئی اسلام بھون قائم ہو، وہاں ملک کی مختلف زبانوں میں لٹریچر ہو اور ہندی اور دوسری زبانوں کے جاننے والے لوگ وہاں ان سے ملاقات اور گفتگو کے لئے موجود ہوں تو وہ کثرت سے وہاں آئیں گے اور اسلام کے متعلق معلومات حاصل کریں گے مسلمانوں کی غلط سیاست نے ان کے لئے جو مشکلات پیدا کی ہیں ان کو دور کرنے کی اس سے بہتر کوئی صورت نہیں۔ جامع مسجد کے علاقہ کو حکومت جس طرح کروڑوں روپیہ صرف کر کے خوبصورت بنا اس میں ہمارے لئے ایک زبردست روشنی ہے۔ مسلمانوں کا ایک خالص مذہبی نشان ہے۔ اس کے باوجود یہاں میں دل چسپی لینے کے لئے کوئی تعصب حائل نہ ہو سکا۔ ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کے لوگوں میں کس قدر رواداری ہے وہ اگر کسی چیز کو پسند کر لیں تو ہر قسم کے تعصب سے بالا ہو کر اس میں اپنی بہترین قوت صرف کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جامع مسجد کے معاملہ کو بے تعصبی کا معاملہ بنا کر حکومت نے اسلام کے معاملہ کو بے تعصبی کا معاملہ بنا دیا ہے، اس واقعہ نے بہترین طور پر وہ فضا پیدا کر دی ہے جس میں اسلام کے تعارف واشاعت کا کام نہایت کامیابی کے ساتھ کسی مزاحمت کے بغیر کیا جاسکتا بشرطیکہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہمارے اندر موجود ہو۔

حضرت یحییٰ بن زکریا (متوفی ۳۰ء) بائبل کے الفاظ میں ، بیابان میں پکارنے والے کی آواز مگر آج پریس کا زمانہ ہے ۔ آج پیغمبرانہ دعوت کو پھیلانے کے لئے ضروری ہے کہ پریس کی طاقت کو استعمال کیا جائے ۔

الرسالہ کوئی تجارتی پر چہ نہیں ، یہ تعمیر ملت اور احیائے اسلام کی اشاعتی مہم ہے ۔ زندہ رہنے اور مؤثر بننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ آپ اس کو اپنا کام سمجھیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر تعاون فرمائیں ۔

الرسالہ کا صرف عام چندہ اس کی زندگی کا ضامن نہیں بن سکتا ۔ رایج الوقت دوسرے ذریعے بھی اس کی مالی تقویت کے لئے اختیار کرنا ممکن نہیں ۔ ایسی حالت میں اس کی زندگی کی واحد صورت یہ ہے کہ آپ اس کی خصوصی خریداری قبول فرمائیں ۔ کے لئے کم سے کم ایک سو ایک روپیہ سالانہ (ہندوستان کے لئے) رکھا گیا ہے ۔ زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ ملتِ اسلام کے مستقبل کو بدلنے کے لئے ایک نئی جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ الرسالہ اسی جدوجہد کا ایک عنوان ہے ۔ اگر اس مہم کو آپ کا خصوصی تعاون مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ اس آغاز سے وہ انجام ظہور میں آئے جس کا صدیوں سے زمین و آسمان کو انتظار ہے۔

نئے حالات نے مذہب کو پھیلانے کا نیا دروازہ کھول دیا ہے سفر کی سہولتوں نے موجودہ زمانہ ہیں بین الالاقوامی سیاحت کو ایک مستقل انڈسٹری بنا دیا ہے۔ آج جو لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرتے ہیں، ان میں بڑی تعداد سیاحوں کی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں پچھلے چند برسوں کے اعداد و شمار کا جو تجزیہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے اندر آنے والے سیاحوں میں تنہائی کی تعداد میں وہ لوگ تھے جن کی عمریں ۷ سال اور ۳۰ سال کے درمیان تھیں۔ ان میں بھی ۲۷ فی صد وہ نوجوان تھے جو اپنے اپنے ملکوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ سیاحت کی دنیا میں ایک نئی چیز ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس قسم کی سیاحت کے لئے زیادہ تر بوڑھے لوگ نکلا کرتے تھے۔ سیاحوں کی فہرست میں نوجوانوں کا اضافہ بہت معنی خیز ہے۔ جوانی کا زمانہ جوش و خروش کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں زندگی امنگوں اور حوصلوں سے لبریز ہوتی ہے۔ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ نوجوان، قدیم سیاحوں سے مختلف ہیں اور کچھ نئی چیزوں کے طالب ہیں۔ قدیم سیاح آرام دہ ہوٹل، ائیر کنڈیشنڈ، کار اور کھانے پینے کے عمدہ انتظام کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ نوجوان سیاح ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرتے وہ اوسط درجہ کے انتظام پر بالکل مطمئن ہو جاتے وہ آرام اور فیشن کی تلاش سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ڈاکومنٹری فلم، کلچر اور تعلیم یافتہ گائیڈ کا انتظام ہو، جوان کے ملک کی تہذیبی وراثت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات دے سکے۔

اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا: "یہ نئے قسم کے سیاح محض تماش میں نہیں میں جو وقت گزاری کی خاطر یہاں آتے ہیں۔ ان کے اندر علم کی پیاس ہے۔ وہ ہندوستان کے آرٹ اور کلچر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس، ۸ مارچ ۱۹۷۲ یہ دراصل اس عام رَو، کا ایک نمونہ ہے جو ساری دنیا میں نئی نسل کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ آج کی نئی نسل، خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں کی نئی نسل، اپنے ماحول سے غیر مطمئن ہے۔ یہ ماحول اس کو مادی مواقع دیتا ہے۔ مگر اس کے ذہنی اور روحانی سوالات کا جواب اس میں نہیں ملتا۔ چنانچہ جدید دنیا میں عام طور پر ماضی کی طرف دیکھنے کا ذہن ابھر رہا ہے جب کہ انسانی سماج مشین کی پیدا کردہ الجھنوں سے پاک تھا۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس سوال کا جواب حال میں موجود نہیں، اس کا جواب شاید ماضی کے خزانہ میں اسے مل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق میں مغربی سیاحوں کی آمد بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مشرق میں وہ ماضی ابھی تک محفوظ ہے جو مغرب میں بڑی حد تک ضائع ہو چکا ہے۔ اس صورت حال نے مذہب کی تبلیغ واشاعت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ مزید یہ کہ بین اقوامی سیاحی نے مدعو کو خود داعی کے پاس پہنچا دیا ہے۔ جن لوگوں کو پانے کے لئے ہمیں سمندر پار کا سفر کرنا پڑتا وہ خود ہمارے قریب آکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ مگر داعیوں کا حال یہ ہے کہ مسلم تاریخی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو وہ اپنے لئے تجارت کا مال سمجھتے ہیں، نہ کہ دعوت کا موضوع۔ دہلی کی جامع مسجد میں نماز کے اوقات میں ان کے لئے داخلہ ممنوع ہے۔ حالاں کہ اس وسیع مسجد میں اگر نماز کے وقت غیر مسلم آئیں اور قرآن کے بتائے ہوئے طریق عبادت کو دیکھیں تو یہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے ہم معنی ہوگا اور اس حکم خداوندی کی تعمیل ہوگی جو سورہ تو بہ آیت ۶ میں بیان کیا گیا ہے۔

Printed page