کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں
Al-Risala, December 1976, pp. 41–43
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر نہیں تو فوراً سالانہ خریداری کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیے، تاکہ آپ دینِ حق کو زندہ کرنے کی اس تاریخی مہم میں شریک ہو سکیں جو اس ماہنامہ کے ذریعہ شروع کی گئی ہے زر تعاون سالانه : عمومی ۲۴ روپے خصوصی کم از کم ایک سو ایک روپیہ
اس کا محرک دنیا داری ہے نہ کہ دین داری »ملوی صاحب« ایک صاحب نے تیز و تند لہجے میں کہا » آپ لوگ اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہوئے ہیں« » آپ لوگ اب تک عوام کو یہ نہ بتا سکے کہ نس بندی جائز ہے یا ناجائز۔ کوئی مولوی کہتا ہے جائز ہے، کوئی کہتا ہے ناجائز ہے« آج کل اکثر اس قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو زندگی کے معاملات میں جائز اور ناجائز جاننے کی بہت زیادہ فکر ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں انھیں اسلام کا ٹھیک ٹھیک حکم معلوم ہو جائے تاکہ اس پر وہ صدق دل کے ساتھ عمل شروع کر دیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ پہلے بے شمار امور میں علماء نے متفقہ طور پر صاف صاف فتوے دیے ہیں۔ مثلاً یہ کہ صاحبِ نصاب کے لئے اپنے مال سے ہر سال زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔ اگر ایک شخص صاحبِ نصاب ہوتے ہوئے زکوٰۃ نہیں نکالتا تو اس کا سارا مال اس کے لئے حرام ہے تاؤقتیکہ وہ اس کی باقاعدہ زکوٰۃ نہ نکالے۔ کیا اس مسئلہ کو بیان کرنے کے بعد سارے مسلمان اپنے اموال سے باقاعدہ زکوٰۃ نکالنے لگے۔ علماء نے بار بار شریعت کا یہ حکم مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان، مال اور آبرو و حرام ہے۔ کیا اس کے بعد ایسا ہوا کہ ہر مسلمان اپنے دوسرے بھائی کی ان چیزوں کو خنزیر کی طرح حرام سمجھ کر اس سے بچنے لگا۔ علماء نے کتنی ہی بار اپنی تقریروں اور تحریروں میں بتایا ہے کہ "استمداد" صرف اللہ کے لئے شفیق احمد انبالہ والے ، دہلی تکرارِ محبت کٹھن سہی لیکن کہا جاتا ہے کہ مالک دینار، رابعہ بصری کی خدمت میں آئے۔ دیکھا کہ وہ ٹوٹے ہوئے لوٹے سے وضو کر رہی ہیں، پرانی چٹائی کا بستر ہے اور تکیہ کی جگہ اینٹ رکھی ہوئی ہے۔ افسوس کے ساتھ بولے: ”اے رابعہ ! میری ملاقات دولت مندوں سے ہے۔ اگر اجازت ہو تو ان سے کہہ دوں “ رابعہ بصری نے جواب دیا: ”کیا ایک ہی خدا سب کو روزی نہیں دیتا۔ کیا وہ درویشوں کو روزی دینا بھول گیا ہے اور دولت مندوں ہی کی روزی یاد رکھتا ہے؟ مالک دینار نے کہا: ”نہیں “ رابعہ بصری نے جواب دیا: ”پھر اس کو یاد دلانے کی کیا ضرورت ہے؟
غیراللہ کو پکارنا یا اس سے مدد چاہنا مطلق حرام ہے۔ کیا اس کے بعد سارے مسلمان غیر اللہ سے استعانت چھوڑ کر صرف اللہ سے امیدوار بن کر اس سے لپٹ گئے ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ علماء کے کھلے کھلے فتاوی کے باوجو دلوگوں نے شریعت کے علم کی کوئی پروا نہیں کی اور ان کی زندگی کی گاڑی بدستور اپنی ڈگر پر چلتی رہی ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ نس بندی کے معاملے میں لوگ اتنا زیادہ بے تاب ہیں کہ شریعت ان کی رہنمائی کرے۔
اس کی وجہ لوگوں کی دنیا پرستی ہے نہ کہ آخرت دراصل لوگوں کی صاحب اولاد ہونے کی تڑپ آپس کا لڑائی جھگڑا آسمان سے آئی ہوئی مدد کو دوبارہ لوٹا دیتا ہے اسلام میں اتحاد و اتفاق کو بے حد اہمیت دی گئی اس کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ مسلم گروہ خدا کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے جس کے افراد آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگیں : حدیث میں ہے: اس معاملہ سے اس کے انہیں اس معاملہ میں اس پر تجسس بنا دیا ہے نہ کہ صاحب شریعت ہونے کی تڑپ نے۔ ایسے معاملات جن میں وہ خود اپنے دنیا پرستانہ ذہن کی وجہ سے پر شوق ہیں، ان میں وہ شریعت کو بھی اپنے ساتھ ایک تائیدی عنصر کی حیثیت سے شامل کر لینا چاہتے ہیں اور جن معاملات کو ان کا دنیا پرستانہ ذہن کوئی اہمیت نہیں دیتا، ان میں انہیں شریعت کا حکم جاننے کی بھی ضرورت نہیں۔
ایک مثال لیجئے، آزادی کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ سرکاری تعلیم گاہوں میں سیکولر تعلیم دی جائے گی، کسی خاص مذہب کی تعلیم و تربیت ممنوع ہوگی۔ یہ کتنا اہم مسئلہ مگر اس کے لئے مسلمانوں میں کوئی خاص بے چینی پیدا اس لئے کہ اس فیصلہ سے ان کی دنیا پرستانہ زندگی پر کوئی براہ راست زد نہیں پڑتی تھی۔ جس چیز کے بگڑنے کا اندیشہ تھا وہ آخرت تھی نہ کہ دنیا۔ اور جب دنیا سلامت ہو تو کسی کو پریشان ہونے کی کیا
میں ایک دوسرے کے بارے میں ہے: حدیث یہ ہے کہ لیلۃ القدر کے تعین کا علم صرف اس لئے اٹھا لیا گیا کہ مدینہ میں دو مسلمان باہم لڑ پڑے تھے :
عن عبادۃ بن الصامت قال خرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیخبرنا بلیلۃ القدر فتلا حی رجلان من المسلمین فقال خرجت لاخبركم بلیلۃ القدر فتلا حي فلان وفلان فر فعت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکلے کہ ہم کو شب قدر کے بارے میں بتادیں کہ وہ کس روز ہے۔ اس وقت دو مسلمان آپس میں (ایک قرض کے بارے میں) لڑپڑے۔ آپ نے فرمایا میں اس لئے نکلا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دے دوں۔ مگر فلاں اور فلاں آپس میں لڑپڑے۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں " اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لڑائی جھگڑوں کو کس قدر برا سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے بڑی بڑی برکتیں اٹھالی جاتی ہیں ۔