Al-Risala · December 1976

تعمیر ملت

Al-Risala, December 1976, pp. 44–50

By Maulana Wahiduddin Khan

مصر کے سلطان صلاح الدین (۱۹۳ھ - ۱۱۳) اور ہندوستان کے سلطان ٹیپو (۱۷۹۹ء - ۱۷۵۱) دونوں جوش ایمان اور شجاعت اور جنگی اہلیت کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک تھے۔ دونوں کو"مغربی طاقت سے مقابلہ پیش آیا۔ مگر اول الذکر فلسطین کا فاتح بنا جب کہ دوسرے کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ حریف سے شکست کھا کر شہید ہو جائے۔ اس فرق کے پیچھے کوئی طلسماتی راز نہیں، ایک سادہ سی حقیقت ہے: سلطان ٹیپو کو اٹھارویں صدی کا زمانہ ملا جب کہ جنگی صنعت میں مغرب نے اجارہ داری حاصل کرلی تھی۔ اس نے روایتی دستی ہتھیاروں کی جگہ بہتر قسم کے دور مار ہتھیار دریافت کر لئے تھے اور سمندری طاقت پر مکمل طور پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔ کے برعکس سلطان صلاح الدین کو بارہویں صدی عیسوی میں کام کرنے کا موقع ملا جب کہ مسلمان جنگی صنعت میں کی امامت کر رہے تھے۔ اس زمانے میں شام و مصر اور عراق میں کثرت سے ایسی کارگا ہیں تھیں جہاں اس وقت کی دنیا کے سب سے بہتر آلات حرب تیار ہوتے تھے۔ عباسی دور میں رومی حملوں کی مدافعت اور صلیبی جنگوں کے دور میں یورپی قوموں کی یورشیں روکنے میں ان کا بڑاہاتھ ہے۔ خاص طور پر صلیبی جنگوں کے زمانے میں اس علاقے میں جنگی صنعت کو بڑا فروغ ہوا۔ حتیٰ کہ صلیبی لڑائیوں کے دور میں جب کوئی صلح کا وقفہ ہوتا تو اہل یورپ خاص طور پر ہتھیار خریدنے کے لئے شام و مصر کے بازاروں میں آتے تھے۔ چنانچہ اس زمانے میں مسلم علماء کو فتویٰ دینا پڑا کہ مسیحیوں کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے، کیونکہ ہم سے خریدے ہوئے ہتھیاروں کو وہ دوبارہ ہمارے ہی خلاف استعمال کریں گے۔

یہی وہ قوت ہے جس کو قرآن میں قوت مرہیہ (انفال۔ ۶۰) کہا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس کو اس حد تک حاصل کرو کہ دوسروں کے اوپر تمھارا رعب قائم ہو جائے۔

قوت مرہیہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور ہر مسلم گروہ اپنی بساط کے مطابق اس کے حصول کی جد و جہد کر سکتا ہے۔ دوسرے وہ جس کا تعلق صرف اس مسلم معاشرہ سے ہے جو با اقتدار ہو۔ موجودہ زمانے میں ان دونوں قوتوں کے معنی کیا ہیں اور ان کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کی وضاحت کے لئے ہم جاپان اور روس کی مثال دیں گے۔

دوسری جنگ عظیم (۱۹۴۵ء - ۱۹۳۹) میں جب جاپان کو شکست ہوئی اور اس کو غیر مسلح کر کے امریکی فوجوں نے جاپان پر قبضہ کر لیا۔ تو جاپان کے لئے عسکری اور سیاسی عزائم کے دروازے بند ہو گئے۔ اس موقع پر شہنشاہ جاپان ہیرو ہٹو(1901 (۱۹۰۱ء) نے تقریر کی اور کہا کہ ”ہمیں ایک ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں۔ اب پورا جاپان غیر سیاسی میدانوں میں ترقی کی راہ پر لگ گیا۔

نے اپنے ماسٹرورں کو منسٹروں کی تنخواہ اور مجسٹریٹوں کے اعتبارات دے دیئے تاکہ تعلیم کے معیار کو انتہائی حد تک بلند کر سکیں۔ صحافت کو اتنی ترقی دی کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ چھپنے والا اخبار جاپانی اخبار ہے۔ صنعت میں اتنا زیادہ کمال پیدا کیا کہ لوہا نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی مشین (سپر ٹینکر) بناتے انھوں نے اپنی مصنوعات کو کوالٹی کے اختیار سے اتنا بلند کیا کہ اس کو نقص بدرجه صفر (ZERO DEFECTS) کے مقام تک پہنچا دیا۔ قومی احساس اور نظم و ضبط میں اتنی ترقی کی کہ آج دنیا کی کوئی قوم اس معاملے میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ ترقیاں اگرچہ بظاہر غیر عسکری اور غیر سیاسی تھیں۔ مگر وہ اتنی طاقت و ثابت ہوئیں کہ اس کے بعد کسی مقابلہ کے بغیر امریکہ نے جاپان کی سرزمین سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔

تعمیر و ترقی کا یہ میدان، اپنی بساط کے مطابق ، ہر مسلمان گروہ کے لئے کھلا ہوا ہے خواہ وہ اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ بے اقتدار ہو یا اقتدار۔ اسی ترقی کی بدولت افریقہ کے متعدد ملکوں میں یہ حال ہے کہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر عملاً سیاست اور دوسرے اجتماعی شعبوں پر عیسائی قبضہ کئے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ علم و سائنس، صنعت و حرفت اور نظم و ضبط میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر نائیجریا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد65 فی صد ہے اور عیسائیوں کی صرف ۲ فی صد ۔ مگر ۱۹۷۲ میں وہاں کی پندرہ رکنی کابینہ میں ۵ مسلم وزیر تھے اور ۱۰ عیسائی وزیر۔ اس فرق کی وجہ تعلیم میں عیسائیوں کی برتری اور مسلمانوں کی پس ماندگی سرکاری مدارس میں مسلم طلبہ کی تعداد 25 فی صد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ اعلیٰ مراحل کی تعلیم میں تناسب اور بھی کم ہو جاتا ہے جب کہ عیسائی طلبہ ملک میں دو فی صد ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں بھرے ہوتے ہیں۔ دوسری نوعیت کی ایک مثال روس ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے اپنے حریف سوویت روس کے خلاف یہ اسکیم بنائی کہ وہ اس کے سرحدی ملکوں سے معاہدے کر کے وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرے اور اس کو اپنے گھیرے میں لے لے۔ ناٹو (NATO)، سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) اسی قسم کے معاہدات تھے جن کے ذریعے امریکہ نے اپنی جنگی مشین کو اٹلانٹک پار کر کے یورپ، شمالی افریقہ اور ایشیا تک پہنچا دیا، اس طرح اپنے دو درجن فوجی اڈوں کے ذریعے وہ اس پوزیشن میں ہو گیا کہ کمیونسٹ دنیا کو عین اس کی سرحدوں کے پاس نشانہ بنا سکے۔ مطلب یہ تھا کہ روس کو تو اپنے دشمن پر وار کرنے کے لئے زمین کے گولے کی ایک چوتھائی مسافت طے کرنی ہوگی۔ جب کہ امریکی اڈے اس کی سرحد کے اتنے قریب ہیں کہ وہ پانچ سے دس منٹ کے اندر سوویت روس کے تمام اہم ترین نشانوں پر پہنچ سکتے ہیں ۔

اب روس نے یہ کیا کہ سائنس دانوں کی ایک فوج اس کام پر مامور کر دی کہ وہ ایسا تیز رفتار ہتھیار دریافت کریں جس کے ذریعہ ماسکو کے حکمراں اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتے ہوں۔ ستمبر ۱۹۵۹ میں روسی راکٹ لیونگ نمبر ۲ کا ٹھیک اندازہ کے مطابق چاند پر پہنچنا اس بات کا خاموش اعلان تھا کہ یہ تحقیق کامیاب ہوگئی ہے۔ زمین سے چاند کا فاصلہ روس سے امریکہ کے فاصلہ کے مقابلہ میں پچاس گنا زیادہ ہے۔

اب جو تیز رفتار راکٹ مشینوں کا بکس چاند پر پہنچا سکتا ہے ، وہ بم کے گولے بھی دور دراز ملکوں میں گرا سکتا ہے۔ ریڈیائی کنٹرول کی جس اہلیت کا مظاہرہ خلائی پرواز میں ہوا ، وہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بعید ترین زمینی نشانوں پر نہایت صحت کے ساتھ گرائے جاسکتے ہیں۔ اس دریافت کا سامنے آنا تھا کہ امریکہ کی فوجی حکمت عملی اچانک بے بنیاد عمارت کی طرح زمین پر آگئی۔

روس کو زمینی چیلنج دیا گیا تھا۔ اس نے اس کا آسمانی حل دریافت کر لیا یہ معلوم ہوا کہ اس دنیا میں ترقی کی کوئی آخری حد نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے طاقت وقوت کے بے پناہ امکانات رکھ دیئے ہیں اور حوصلہ اور ہمت ہو تو ہر مشکل کا ایسا بالا تر حل دریافت کیا جا سکتا ہے کہ دشمن کی ساری کارروائیاں بطل ما كانوا يعملون (اعراف - ۱۱) کا مصداق ہو کر رہ جائیں۔

اگر چہ اس دنیا میں اہل ایمان کا اصل مشن دعوت و تبلیغ ہے۔ مگر یہ واقعہ کہ یہ دنیا ایک مادی دنیا ہے، اور یہ واقعہ کہ یہاں ہمیشہ حق کی مخالفت کرنے والے گروہ موجود رہتے ہیں، اہل ایمان کے لئے ضروری کر دیتا ہے کہ وہ مادی اسباب کی فراہمی میں بقدر وسع پوری جدوجہد کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے ۱۳ ویں سال مکہ سے انتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر اس کے دس برس بعد جب آپ نے فتح مکہ کے لئے مارچ کیا تو ایک طرف تبلیغی کام اس حد تک پھیل چکا تھا کہ دس ہزار مردان کار آپ کے ہمرکاب تھے۔ دوسری طرف تیاری کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے دو ہزار آدمی اس طرح زرہ پوش تھے کہ ان کی صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں (لا یری منهم سوی

موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کرنے کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو گئی ہے۔ آج کی جنگوں میں عضلاتی طاقت کے بجائے مشین کی اہمیت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ فوجی نسلوں (MARTIAL RACES) کا قدیم تصور زمانہ ماضی کا افسانہ بن گیا ہے۔ اس طرح اقتصادی ذرائع نے موجودہ زمانہ میں اس قدر وسعت اختیار کی ہے کہ پوری انسانی زندگی اس کے تابع ہو گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں دعوت و تبلیغ کا کوئی براہ راست تعلق اقتصادیات سے نہ تھا مگر آج اگر آپ ’’قلم‘‘ کو دعوت و تبلیغ کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو عظیم اقتصادی وسائل کے بغیر اس کو مؤثر طور پر استعمال ہی نہیں پھر جب اس واقعہ کو دیکھا جائے کہ دوسرے مذاہب ہوائی جہازوں اور ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے اپنے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں تو یہ اقتصادی ضرورت سیکڑوں گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شخصی ضرورت کے لئے بھی آج اقتصادی وسائل کی اہمیت پچھلے تمام ادوار سے زیادہ ہے۔ آج انسان کی حقیقی ضروریات اتنی بڑھ چکی ہیں کہ قدیم طرز کی افسانوی سادگی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ۔

مسلمان کی اصل ذمہ داری اگر چہ دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ مگر مندرجہ بالا وجوہ تقاضا کرتے ہیں کہ اسی کے ساتھ یہ جدوجہد بھی بھر پور طور پر کی جائے کہ مسلمان جدید اقتصادیات میں اپنا جائز حصہ پاسکیں۔ حیثیت سے بھی اور قومی حیثیت سے بھی۔

آواز : قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ایک شخص کے م سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لئے درمیان میں ہوا کا ہونا ضروری ہے۔ یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو دو قریب بیٹھے ہوئے آدمی ایک دوسرے کا ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے مگر وہ ایک دوسرے کی بات نہ سن سکیں گے۔

اس کو مثال کے ذریعہ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ شیشہ کے ایک فانوس کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ اگر فانوس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال کر اسے بند کر دیا جائے اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے، مگر اس کی آواز نہ سنیں گے۔ کیونکہ گھنٹی کے بجنے سے جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے، اس کو قبول کرکے آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لئے شیشہ کے اندر ہوا موجود نہیں ہے۔ مگر ریڈیائی خبر رسانی کے لئے ہوا کا ذریعہ بالکل ناکافی ہے۔ کیونکہ ہوا کے ذریعہ ہماری آواز پانچ سکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لئے کار آمد ہے۔ وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں اس کا اندازہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ ہندوستان سے اگر ہم اپنی آواز کو امریکہ بھیجنا چاہیں تو ہوا کی رفتار سے وہ اپنی منزل پر سات گھنٹے میں پہنچے ظاہر ہے کہ دوسری طرف سے جواب آنے میں بھی اتنی ہی دیر لگے گی۔ گویا نئی دہلی کا ایک شخص نیو یارک میں اپنے ایک ساتھی کو ٹیلی فون کر رہا ہو تو اس رفتار سے اپنے ایک فقرہ کا جواب سننے کے لئے اس کو چودہ گھنٹہ تک انتظار کرنا پڑے گا اگر آواز صرف ہوا کے ذریعے پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ نے اس کے لئے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل سے بھی زیادہ ہے۔ ریڈیائی پیغامات میں اسی ذریعہ سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی بولنے والا ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائکرو فون کے پاس آواز نکالتا ہے تو مائکرو فون آواز کو لے کر اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے اور تار کے ذریعہ اس کو فی الفور آلہ نشر (ٹرانس میٹر) تک بھیج دیتا ہے۔ نشر آواز کے پہنچتے ہی مرتعش ہو کر فضا میں دوبارہ وہی ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں جو مقرر کے بولنے سے ہوا تھا۔ طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی رفتار حاصل کر لیتی ہے۔ اس طرح آواز نہ ایک سیکنڈ کے 8 ویں حصے میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے کیونکہ زمین کا پورا گھیرا صرف ۲۵ ہزار میل ہے۔ یہی تیز رفتار لاسلکی موجیں ہیں جن کو ہمارے ریڈیو سٹ کی آواز گیر مشین لیتی ہے اور پھر بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے۔ اس طرح ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔

مصری ریڈیو کے ہفت روزہ ترجمان مجلۃ الاذاعتہ والتلیفزیون (۷ار جون ۱۹۷۶) نے مولانا وحید الدین خاں کی تازہ عربی کتاب الاسلام والعصر الحدیث پر جو تبصرہ شائع کیا ہے، اس کا خلاصہ یہاں دیا جارہا ہے۔ طرح کے تبصرے عرب دنیا کے تقریباً تمام قابلِ ذکر اخبارات ورسائل میں نمایاں طور پر شائع کئے گئے ہیں۔ یہ تبصرے بتاتے ہیں کہ سارا عالمِ اسلام آج ایک نئی اسلامی دعوت کے انتظار میں ہے، ایک ایسی دعوت جو ایک طرف اہلِ اسلام کے اندر از سر نو ایمانی حرارت پیدا کرے اور دوسری طرف دیگر اقوام تک خدا کا پیغام پہنچانے کی منصوبہ بندی کرے ۔ ہندوستانی اسلامی مفکر علامہ وحید الدین خاں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے اس سے پہلے اسلامی کتب خانہ کو الاسلام تمدی، الدین فی مواجہۃ العلم حکمہ الدین جیسی کتابیں دی ہیں۔ وہ ہمارے ان بہت سے اسلامی مصنفین کی طرح نہیں ہیں جو محض لکھنے پر قادر ہوتے ہیں اور ان کے بس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں صفحات سیاہ کرکے ان سے بیسیوں کتابیں بنا لیں، جن سے لائبریریاں تو بھر جاتی ہیں، مگر نہ وہ ہمارے اندر کوئی گونج پیدا کرتیں اور نہ ان مسلم نوجوانوں پر کچھ اثر ڈالتی ہیں جو کہ سنجیدہ اسلامی فکر کے پیاسے ہیں۔ ہمارا یہ عظیم اسلامی مفکر ان چند اصحابِ قلم میں سے ہے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جنہوں نے اپنے لئے ایک نہایت مشکل راستہ اختیار کیا ہے، کیونکہ وہ مفکرانہ صلاحیت کے حامل ہیں نہ کہ صرف صاحبِ قلم ہیں۔ یہ مشکل راستہ ان چیلنجوں کا سامنا کرتا ہے جواسلام کو داخلی اور خارجی دونوں حیثیتوں سے

زیر تبصرہ کتاب میں ساٹھ سے زیادہ صفحات نہیں عام قاری اس کو ایک گھنٹہ سے بھی کم میں پڑھ لے گا۔ صاحبِ علم قاری کے لئے اس کو سمجھنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ کیونکہ یہ کتاب حجم کے اعتبار سے اگرچہ مختصر ہے، مگر کیفیت کے اعتبار سے وہ گہری سوچ کی طالب ہے کیونکہ وہ نہایت اہم سوالات پر بحث کرتی ہے۔ ان سوالات پر اس سے پہلے بھی بحثیں کی جاچکی ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں ہے وہ اس کے مفکر مولف کا منہج اور طریقہ جو کہ موضوعی اور مجرد ہے۔ عاقلانہ منطقیت پر مبنی ہے نہ کہ اس دینی جوشیلے پن پر جو کہ ہمارے علاقات پسند اسلامی مصنفین کے محدود افکار پر چھایا رہتا ہے۔

اس عظیم اسلامی مفکر نے فقط میسر شدہ دینی حوالوں پر اکتفا نہیں کیا ہے جن پر عموماً مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ انھوں نے دنیا کی جدید فکری تحریکوں کا مطالعہ کیا ہے، خصوصاً ان تحریکوں کا جو فکر اسلامی سے متصادم ہیں۔ انھوں نے ان تحریکوں کے نقائص اسی معیارِ استدلال سے واضح کئے ہیں جو کہ ان تحریکوں کے نزدیک قابل اعتماد ہیں۔ اس طرح یہ عظیم مفکر اس پر قادر ہوا ہے کہ عام انسانیت کی سطح پر اسلامی فکر کے لئے جگہ پیدا کرے۔ زیر تبصرہ کتاب (الاسلام والعصر الحدیث) جو کہ ہمارے

الفكر الإسلامي الهندى العلامة وحید الدین خان للعلامة وحيد الَّذِينَ خان ليس في حاجة الى التعريف به ، فهو الذى قدم للمكتبة الاسلامية من قبل .. الاسلام يتحدى - الَّذِينَ فى مواجهة العلم - حكمة الدين .. وهو ليس لكثير من كتابنا الاسلاميين الدين يملكون - فحسب - القدرة على الكتابة ، وفى استطاعتهم ان يسودوا آلاف الصفحات ليحولوها الى عشرات الكتب ، تتخم بها المكتبات دون ان يكون لها صدى في نفوسنا ، او تأثير في تفكير شبابنا المسلم المتعطش الى الفكر الاسلامى الجاد .. وانما مفكرنا الْإِسْلَامِيُّ الكبير من الكتاب القلائل ، الدين يعدون على الاصابع ، والذين قد اشتقوا لانفسهم طريقا وعرا ، لانهم يملكون القدرة على التفكير لا القدرة على الكتابة وحدها .. هذا الطريق الوعر هو طريق المواجهة بالاسلام ضد التحديات التي تهب عليه من داخله ومن خارجه على السواء .. ان صفحات الكتاب لم تتجاوز الستين صفحة ، قد يقرؤه القارىء العادي في اقل من ساعة . لكن القارىء المثقف لا يستوعبه الا في بضعة ايام ، لان الكتاب على تواضعه من حيث الكم ، يحتاج الى تأمل عميق من حيث الكيف ، لانه يناقش قضايا على جانب من الاهمية ، هذه القضايا ، هي : الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية - حوار مع المتغربين - امكانيات لم يستخدمها العالم الاسلامي - الايمان والحركة الايمانية - ثم نحو بعث جديد .. ومثل هذه القضايا قد بحثت من قبل وَنُوقِشَتْ، لكن الجديد فيها هنا هو منهج الكاتب المفكر ، المنهج الموضوعي المجرد ، القائم على المنطق الواعي لا على العاطفة الدينية التي تشكل عَقْلِيَّاتِ الكثير من كتابنا الاسلاميين الاقليميين في تفكيرهم المحدود .. فالمفكر الاسلامي الكبير في بحثه ، لا يعكف على النصوص الدينية الميسرة له ، ليعتمد عليها وحدها مجردة في مناقشة القضايا ، بل يتابع مسار الحركة الفكرية الحديثة فى العالم ، ولا سيما المعارض منها للفكر الاسلامي ، ليكشف عن قصورها بنفس المقاييس المنهجية عند أصحابها ، وبذلك يستطيع المفكر الكبير أن يفسح مكانا للفكر الاسلامي على مستوى الانسانية وبعد ـ فان الدراسة التي بين ايدينا .. الاسلام والعصر الحديث .. والتي قامت بنشرها دار .. المختار الاسلامي بالقاهرة .. دراسة جادة بكل ما في هذه الكلمة من معنى ، تجعلنا نزداد اقتناعا بأن المفكر المسلم العلامة وحيد الدين خان يتميز بأنه كاتب يخطط لما يكتب ، ويرسم المنهج لما يفكر ، ليصل الى النتيجة التي يبتغيها ، والنتيجة عنده ذات شعب ثلاث : الأولى مواجهة الافكار التى تتحدى الاسلام وتتربص به ، والثانية : الغرب على الافكار الدخيلة على الاسلام ، التى ابتلى بها الاسلام على فترات من الغفلة ، والثالثة والأخيرة ، صياغة الفكر الاسلامي صياغة جديدة تجعله جديرا بأن يحتل المكان اللائق به ، وجديرا أيضا بان يمثل الاسلام الصحيح الذي رضيه الله لعباده دينا .. المؤلف: لندن ديل / القاهرة / مايو ١٩٧٥ مجلة الإذاعة والتليفزيون (القاهرة) ١٧/ ٦/ ١٩٧٦ نِجَايَتْ کِتْسِتَ اَنْتَ فِى زَمَانِى

سامنے ہے اور جس کو قاہرہ کے المختار الاسلامی نے شائع چیلنج کرنے والے اور اس کا نشانہ بنانے والے افکار کا اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے ایک وسیع مطالعہ سامنا کرنا۔ دوم، ایسے افکار کی سرکوبی جو اسلام کے اس نے ہمیں اس مزید یقین سے ہمکنار کیا ہے کہ مسلم اندر گھس آئے ہوں اور جو غفلت کے زمانوں میں اسلام مفکر علامہ وحید الدین خاں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جو کچھ لکھتے کے لئے آزمائش بنے۔ سوم، اسلامی فکر کو نئے طریقے سے ہے، پہلے اس کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اپنی تفکیر کا منہج خود طے اس طرح ترتیب دینا کہ وہ اس مقام کو حاصل کرے جس کرتے ہیں تاکہ اپنے مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ نتیجہ ان کا وہ مستحق ہے اور اس قابل ہو جائے کہ اس حقیقی دین کی کے یہاں تین شقوں میں تقسیم ہوتا ہے : اول، اسلام کو نمائندگی کر سکے جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پسند فرمایا ہے وہ صحافت کو حقیر پیشہ سمجھتے ہیں شیخ علی یوسف انیسویں صدی کے ایک مصری ادیب تھے جو ایک عربی جریدہ "الموید" کے ایڈیٹر تھے انھوں نے مصر کی ایک خاتون سے شادی کی جس کا نام صفیۃ السادات تھا۔ یہ ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنے والد کی اجازت کے بغیر شیخ علی یوسف سے شادی کرلی تھی۔ بعد کو جب ان کے خاندان والوں کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر ایک صحافی ہیں تو یہ بات انھیں اپنے خاندانی وقار کے خلاف معلوم ہوئی کہ ان کے یہاں کی ایک لڑکی ایسا گھٹیا پیشہ رکھنے والے ایک آدمی سے شادی کر لے۔ انھوں نے خاتون پر زور ڈال کر انھیں راضی کیا کہ وہ عدالت میں تفریق کی درخواست دے کیونکہ ان کا شوہر شریعت کے مطابق ان کا کفو نہیں ہے اور وہ صحافت جیسا غیر شریف پیشہ کرتا ہے یہ دعوی قاضی شرع (شیخ ابو خطوۃ) کی عدالت میں پیش ہوا اور قاضی نے مقدمہ کی سماعت کے بعد فیصلہ کیا کہ ایک شخص جو صحافی ہو، وہ ایک شریف خاتون کا کفو نہیں ہے اور شیخ علی یوسف اور ان کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی۔

سید جمال الدین افغانی (1897-1838) ۱۸۳۸) جن دنوں آستانہ (ترکی) میں تھے، ان کی ملاقات شیخ حسین الجسر ۱۸۴۵ سے ہوئی۔ شیخ جسر اپنے زمانے میں شام کے بڑے علماء میں تھے۔ تاہم وہ جریدہ طرابلس میں مقالات لکھا جمال الدین افغانی کو ان کے بعض خیالات سے اختلاف تھا۔ اتفاقاً دونوں کی ملاقات المابین (سلطانی سرا) میں جمال الدین افغانی نے ان پر تنقید شروع کی۔ شیخ حسین جسر نے جواب میں کچھ کہا۔ اس کے بعد جمال الدین افغانی بلند آواز سے بولنے لگے۔ شیخ حسین جسر نے کہا: آہستہ بولئے، کہیں المابین کے لوگ سن نہ لیں کہ میں صحافی ہوں اور رسائل میں مضامین یہ سن کر جمال الدین افغانی غضبناک ہو گئے اور کہا: ولماذا یا استاذ تحاذر هذا وَتَأْبَى الانتساب الى الصحافة (آپ اتنا ڈرتے کیوں ہیں اور صحافت سے اپنی نسبت کا انکار کر رہے ہیں) صحافت ایک اچھا کام ہے۔ خود صحافی ہوں۔ پیرس سے میں نے العروة الوثقی کے نام سے ایک رسالہ نکالا تھا۔ شیخ جسر نے اس کو نہیں مانا، انھوں نے کہا: ان مثله فى انتسابه الى علم الدين يَزْرِي به فى نظر الناس الاشتغال بالصحافة

Printed page