Al-Risala · December 1976

رسالہ بک ڈپو ۱۰۳۶ کشن گنج دہلی ۔ ۶

Al-Risala, December 1976, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال : قرآن میں ہے کہ " اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ " یہ آیت مجھے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ بظاہر اس میں ہلاکت اور خطرہ والے راستے سے بچ کر چلنے کی تعلیم ہے۔ مگر اسی کا نام تو ہلاکت ہے کہ آدمی خطرات کے راستے پر چلنے سے ڈرے اور رسک نہ لینا چاہئے۔ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا، تمام بڑی بڑی ترقیاں انہیں ملتی ہیں جو اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈال کر اقدام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ زندگی کی اس حقیقت کو اسمعیل میرٹھی نے بڑی خوب صورتی سے دو شعروں میں بیان کر دیا ہے :

گھوڑ دوڑ میں کدائی کی باری تھی ایک دن ترکی پہ کوئی تازی پہ اپنے سوار تھا جو ہچکچا کے رہ گیا سورہ گیا ادھر جن نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا جس قوم کا نظریہ یہ ہو کہ " خطرات سے بچ کر چلو ، " وہ قوم کبھی اونچی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتی۔ جواب : زندگی کی حقیقت جو آپ نے بیان کی، وہ صد فی صد صحیح ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ رسک کے بغیر کوئی کامیابی مگر آیت کا جو مطلب آپ نے لیا، اصل مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ پوری آیت یہ ہے : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ إِلى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا ڈالو (کہ خرچ کرنے سے رک جاؤ) اور کام کو خوب اچھی طرح

Printed page