بقرہ - ۱۹۵
Al-Risala, December 1976, pp. 56–60
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کی ضرورتوں میں اپنے جان و مال کو خرچ کرنا، اپنی ذاتی ضرورتوں میں کمی کیے بغیر نہیں ہو سکتا۔ کیا گیا کہ خواہ اپنی ذات کے لئے کمی کرنا پڑے، مگر دین کے لئے جد و جہد کو بہر حال جاری رکھو۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی برباد ہو جائے تو فرد بھی اپنے آپ کو بربادی سے بچا نہیں سکتا۔ اسی لئے ان راہوں میں خرچ کرتے رہو جس سے اجتماعی زندگی طاقت ور ہوتی ہے اس آیت کے سلسلہ میں حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے جو اس کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب ہے اپنے مال اور اپنے گھر میں بیٹھ رہنا اور جہاد کو چھوڑ دینا ( التهلکة الاقامة في الاهل والمال وترك الجهاد
بخاری نے حضرت حذیفہ سے اس آیت کی مختصر شان نزول نقل کی ہے۔ اس کی صراحت حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد، ترمذی، حاکم، نسائی، ابن حبان وغیرہ نے روایت کہا ہے اور حاکم نے شرط شیخین پر اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ ہم انصار لوگ جب کچھ لڑائیاں آنحضرت کی ہمراہی میں لڑ چکے تو ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ اب تو رسول اللہ
کے ساتھ بہت اہل اسلام منع ہو لئے ہیں ، اگر ہم چند لول لڑائیوں میں اپنے ساتھ نہ جائیں تو اپنی اقتصادیات کو درست کر سکتے ہیں اور مدتوں باہر رہنے سے جو گھر بار اجڑ گئے ہیں ان کی تلافی کی جا سکتی ہے اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری۔ اور آگاہ کیا کہ اس طرح کے اخراجات سے ہاتھ روکنا ہلاکت کا باعث ہے ، اپنے آپ کو اس ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور دین کے لئے جان و مال خرچ کرنے میں لگے رہو۔ یہ آیت خطرات اور اندیشوں کے علی الرغم حق کی راہ میں اقدام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ نہ یہ کہ آدمی خطرات اور اندیشیوں سے گھبرا کر ایسا اقدام کرنے سے رک جائے۔ Americans turning religious سائنس اور صنعت کی ترقیار انسانا کو خدا سے دور نہیں کرتیں عام طور پر مشہور ہے کہ امریکا ایک سیکولرافتڈ تشکیل قوم ہے ۔ مگر گیلپ پول کے ذریعہ دو سال تک جائزہ لینے کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی لوگ غیر معمولی حد تک مذہبی ہیں اور یہ ملک فی الواقع احیائے روحانیت کے نئے مرحلے میں ہے ۔
امریکہ کے 94 فیصد لوگ خدا کے معتقد ہیں ۔ 69فی صد زندگی بعد موت پر عقیدہ رکھتے ہیں ۔ انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو واشنگٹن سے " ریلیجن ان امریکہ " کے عنوان سے چھپی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کیا کیا مذہبی عقائد ہیں اور ان کے رہن سہن کے طریقے کیا ہیں۔ گیلپ انٹر نیشنل نے یہ جائزہ کیٹرنگ فاؤنڈیشن کی فرمائش پر کیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکی عوام تمام صنعتی قوموں میں سب سے زیادہ مذہبی لوگ ہیں۔ مذہب پر عقیدہ کا خاتمہ ممکن طور پر بعض یورپی ملکوں اور دنیا کی بعض دوسری قوموں میں متوقع ہو سکتا ہے ۔ امریکہ کا تقابل صرف افریقہ اور مشرق بعید سے کیا جا سکتا ہے جہاں اب بھی عوام پر مذہب کی گرفت مضبوط ہے۔ جاپان اور سکینڈے نیویا کے عوام، تمام ترقی یافتہ قوموں میں سب سے زیادہ غیر مذہبی پائے گئے ہیں ۔
۱۹۶۰ کے بعد کے سالوں میں جب کہ امریکہ بحران سے دوچار تھا، لوگوں میں مذہب سے دل چسپی اور مذہبی عمل کم ہو گیا تھا۔ مگر اب صورت حال اس سے مختلف ہے امریکی عوام کی ۵۶ فی صد تعداد نے جائزہ کے دوران بتایا کہ مذہبی عقیدہ بہت اہم ہے، ۳۰ فی صد نے اس کو مناسب حد تک اہم بتایا۔ صرف ۵ فی صد نے یہ جواب دیا کہ مذہب کی کوئی اہمیت نہیں۔ (ہندوستان ٹائمز ۲۴ جولائی ۱۹۷۶)
اسلامی مرکز کا مقصد، اسلام کا پیغام سارے انسانوں تک پہنچانا ہے۔
ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے مسلمانوں کو اب قیامت تک ٹھیک وہی کام انجام دینا ہے جس کے لئے اس سے پہلے پیغمبر آتے تھے۔ پیغمبر اپنے رب کے یہاں صرف اس وقت بری الذمہ ہو سکتے تھے جب کہ وہ اس پیغام کو اپنے تمام مخاطبین تک پہنچا دیں جو ان کو وحی آسمانی کے ذریعے دیا گیا ہے۔ اسی طرح امت محمدی کی نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ قوموں کے سامنے خدا کے دین کی گواہ بن کر کھڑی ہو، وہ لوگوں کو آنے والے یوم الحساب سے آگاہ کرے۔ اس دعوتی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتی تو کوئی بھی دوسری چیز اس کو نجات دینے والی نہیں بن سکتی، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
پیغام آخرت کا حامل ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کی لازمی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ دوسری قوموں سے وہ دنیوی مفادات کے لئے کش مکش کرنے سے مکمل پر ہیز کریں۔ ان کے ساتھ حق تلفی کی جائے جب بھی اپنے دنیوی مسائل کے سلسلے میں ان کے لئے واحد صحیح رویہ ”صبر“ ہے۔ یعنی خود اپنی تعمیری کوششوں پر بھروسہ کرنا۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کی مہم چلانے کے بجائے اپنے خدا داد مواقع میں اپنے لئے رزق تلاش کرنا۔ مسلمانوں کے لئے دوسری تمام قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں ان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کسی عمل سے ان کو اپنا سیاسی اور معاشی حریف بنالیں۔ ان قوموں کو دعوت حق کا مخاطب بنانا ہے، نہ یہ کہ دنیوی مسائل کے نام پر ان سے جھگڑا کر کے ان کو اپنے سے دور کر دیا جائے۔
اسلامی مرکز کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اصل ذمہ داری کے لئے تیار کیا جائے اور موجودہ زمانہ کے تقاضوں کے لحاظ سے خدا کے پیغام کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔
مسجدیں عالم اسلامی کی نگہبان ہیں۔ مغلوں نے تیرھویں صدی عیسوی میں مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا اور اس کے بڑے حصے کو تاراج کر ڈالا۔ مگر وہی مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمرقند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کیا تھا، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا۔ مسجد ایک قسم کا دارالاسلام ہے۔ وہ اللہ کی یاد کی جگہ ہے۔ وہ اسلامی اتحاد کا مرکز ہے، وہ مسلمانوں کے اعتماد علی اللہ کا نشان ہے۔ جب اسلام زندہ تھا تو مسجد صرف مسجد نہ تھی بلکہ وہاں اسلامی زندگی کے تمام شعبے قائم ہوتے تھے۔ مثلاً عبادت گاہ، مدرسہ، دار القضاء، اجتماع گاہ، اسپتال کتب خانہ، مسافر خانہ، تبلیغی مرکز، مقام مشورہ و غیره ــــــ اسلامی مرکز میں ہم چاہتے ہیں کہ مسجد کو دوبارہ اس کی اصل حیثیت میں زندہ کریں۔
راقم الحروف نے ہفت روزہ الجمعیۃ ۲۷ نومبر ۱۹۷۰ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں مسلمانوں کی پچھلی ڈیڑھ سو سالہ کوششوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا تھا کہ اس مدت میں بے شمار بڑی بڑی تحریکوں کے وجود میں آنے کے باوجود اسلام کو زندہ نہ کیا جا سکا۔ اس سلسلہ میں تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ اس ناکامی کی واحد بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمارے مصلحین کی کوششوں کا رخ تعمیر کے بجائے سیاست کی طرف رہا۔ یہ تجویز درج تھی :
"موجودہ حالات میں احیائے اسلامی کے کام کا آغاز جہاں سے ہونا چاہئے، اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ اعلیٰ پیمانہ پر ایک اسلامک سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ اسلامک سنٹر ہر قسم کے عصری ذرائع سے اس قدر مسلح ہو کہ وہ تمام مسلمانوں کے لئے پاور ہاؤس کا کام وہ اسلامی بھی ہو اور عالمی بھی اور جدید بھی۔ (صرف ایک استثناء کے ساتھ: وہ کسی بھی معنی میں سیاسی
اس تجویز کو پچھلے چھ برسوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ پورا مضمون عربی میں ترجمہ ہو کر ۳۴ صفحات کے کتابچہ کی شکل میں قاہرہ اور بیروت سے شائع ہوا اور اس کے متعدد ایڈیشن نکل گئے۔ علمی و دینی جرائد میں اس کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا تبصرے شائع ہوئے ۔
اب مختلف حضرات کے شدید اصرار پر اسلامی مرکز کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ الرسالہ اسی کے ترجمان کے طور پر نکالا جا رہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا مسئلہ اس کے لئے جگہ کی فراہمی ہے۔ فی الحال عارضی طور پر اس کا دفتر ایک مکان میں رکھا گیا ہے۔ مگر اس کی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ضروری ہے کہ اس کے لئے مستقل عمارت ہو جہاں اس کے تمام شعبوں کو زیر عمل لایا جاسکے ۔
بہتر یہ ہے کہ یہ مرکز کسی مسجد کے ماحول میں قائم ہو کوئی قدیم مسجد ہو تو اس کے گرد و پیش کمرے تعمیر کرائے جائیں اور اگر خالی جگہ ملے تو وہاں مسجد کے ساتھ ضروری تعمیرات کرائی اس سلسلے میں جو لوگ کسی قسم کا تعاون کر سکتے ہوں وہ تفصیلات سے مطلع فرمائیں ۔
داعی نہ سیاح ہوتا نہ شعبدہ باز، وہ اپنے مدعو گروہ کے درمیان اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح ایک باغبان اپنے باغ میں مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب تسلیم الرسالہ کا پہلا شمارہ نظر سے گزرا۔ کئی مضامین جزوی یا کلی طور پر محل نظر ہیں۔ وقت خاص طور پر " سوال و جواب " کے حصے کے متعلق کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ جناب والا اگلے شمارے میں وضاحت فرمائیں گے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ " مسلمانوں کا کوئی الگ کلچر ہی نہیں " اور " داعی کے مشن کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مدعو سے کلچرل یگانگت پیدا کیے نہ کہ کلچرل بے گانگی " اگر مندرجہ بالا اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو ان احادیث کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت ہے جن میں تشبہ بالیہود سے منع فرمایا گیا ہے۔ ثانیاً کیا داعی اور مدعو کے کلچرل یگانگت کا تقاضا یہ بھی ہو گا کہ اگر کسی " برہنہ کلیپ " کے ممبر یا ایسے شخص کو دعوت دینی ہو جو عورتوں کی طرح سر پہ کیا میں امید کروں کہ قارئین کے استفادہ کے لئے آپ ان امور کا مبسوط جواب آئندہ شمارے میں شریک اشاعت فرمائیں گے ۔