Al-Risala · December 1976

مسیح الدین احمد ایم اے

Al-Risala, December 1976, pp. 60–63

By Maulana Wahiduddin Khan

بٹلا ہاؤس، جامعہ نگر، نئی دہلی الرساله : " کلچرل یگانگت" کی بات ہم نے اس لفظ کے اجمالی مفہوم میں کہی ہے نہ کہ انتہائی مفہوم میں ۔ یہ زبان و ادب کا عام طریقہ ہے ۔ پیغمبروں کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے ( فرقان ۔ ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا کام بس یہ تھا کہ کھانا کھائیں اور بازاروں میں چلتے رہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اکل طعاماور مشی فی الاسواق کی تمام رائج قسموں میں ہر اعتبار سے وہ مکمل طور پر چوٹی رکھتا ہو تو کیا ان سے بھی داعی کو کلچرل یگانگت پیدا کرنی چاہئے ۔ نیز یہ کہ یکے بعد دیگرے اگر مختلف کلچرل گروہوں کو دعوت پیش کرنی ہو تو کیا داعی کو بار بار اپنی وضع قطع میں تبدیلی کرنا پڑے گی ۔

ایک اور بات وضاحت طلب ہے ۔ اور وہ یہ کہ سورہ انعام کی آیت ۹ کے ترجمے میں آپ نے ”لباس پہنانے کا جو مفہوم شامل کیا ہے ۔ کیا تمام مفسرین خلف و سلف اس کا ترجمہ اسی طرح کرتے آئے ہیں یا یہ آپ کی ذاتی تحقیق ہے ؟

دوسروں کی مانند تھے ۔ بات خواہ عمومی الفاظ میں ہی جائے، وہ ہمیشہ کسی خاص مفہوم ہی میں ہوتی ہے، اور موقع کلام اس کے حدود کو متعین کرتا ہے۔ وہ چیزیں جو شریعت میں حرام ہیں، مثلاً برہنگی، وہ ہمارے مسلمہ عقیدہ کے مطابق خود بخود یگانگت کے عموم سے خارج ہو جائیں گی۔ اسی طرح جو چیزیں کسی گروہ کا مذہبی شعار ہوں، مثلاً صلیب کا نشان ، ان میں بھی یگانگت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ کے اپنے مخصوص مذہبی شعار ہوتے ہیں اور کوئی مذہب

ان میں کبھی سمجھوتہ کی اجازت یں دیتا(تشبہ بالیہود عباس، مطبع محمدی، ۱۲۸۰ھ سے ممانعت اسی دوسرے مفہوم میں ہے) تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ غیر مسلم کا جوتا گول کنارے کا ہے تو ہم نوک دار کنارے کے جوتے کو اسلامی جوتا سمجھیں ۔ یا غیر مسلم گھروں میں پیتل کا برتن رائج ہو تو ہم تانبے کے برتن کو اسلامی آداب قرار دیں۔ الرسالہ (اکتوبر ۱۹۷۶ء) میں جو بات کہی گئی تھی، وہ بس اسی محدود مفہوم کے اعتبار سے ہے اور ہندوستان میں جنوب کے علاقہ کے مسلمانوں کی زندگی اس کی ایک مثال ہے ۔

۲ ، سورہ انعام کی آیت ۹ کے سلسلہ میں عرض ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور ان کے شاگردوں سے اس سلسلے میں تین تفسیریں منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں لبس بمعنی التباس ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالی فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا تب بھی ان کو انسان کی صورت میں بھیجتا اور مخاطبین کو پھر وہی اشکال ہوتا جو اشکال وہ اب کر رہے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے، دوسرا مفہوم تحریف کا لیا گیا ہے اور اہل کتاب کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے

تیسری رائے وہ ہے جس کو ہم نے الرسالہ میں نقل کیا ہے۔ تفسیر کی جو کتاب عبداللہ بن عباس کی طرف منسوب ہے، اس میں اسی رائے کو اولیت دی گئی ہے یہاں ہم اس کے الفاظ نقل کرتے ہیں :

(ولو جعلناه ) یعنی الرسول (ملكا لجعلناه رجلا) في صورة رجل آدمي حتى يقدروا ان ينظروا اليه (وللبسنا عليهم) على الملائكة (ما يلبسون) مثل ما يلبسون من الثياب . (تفسير عبد الله بن اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی کی صورت میں بھیجتے تاکہ وہ اس کو دیکھ سکیں اور ان فرشتوں کو وہی کپڑے پہناتے جو کپڑے یہ لوگ پہنتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مفسرین میں مولانا حمیدالدین فراہی نے آیت کا یہی مفہوم لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: قد جعل اللہ الانبیاء ھداۃ خلقه فالبسهم النبي يبعث في قوم ليصلحهم ويدعوهم الى الصراط المستقيم، فلا بد ان يكون مثلهم في الزى وَالشَّمَائِلِ، والا كان خلاف البعثة كما قال : ولو جعلناه ملكا لجعلناه رجلا وَلَلَبَسْنَا عليهم ما يلبسون القائد الی عیون العقائد، ۳۱۔

اللہ نے پیغمبروں کو اپنی خلق کا ہادی بنایا ہے۔ لئے انھیں بشری لباس پہنایا۔ پیغمبر کسی قوم میں اس لئے آتا ہے کہ اس کی اصلاح کرے اور اس کو صراط مستقیم کی طرف بلائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پوشاک اور عادات میں انھیں کی طرح ہو۔ ورنہ مقصد بعثت کے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ "یکے بعد دیگرے اگر مختلف کلچر ل گروہوں کو دعوت پیش کرنی ہو تو کیا داعی کو بار بار اپنی وضع قطع میں تبدیلی کرنا پڑے گی"۔ یہ اعتراض بتاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے کام کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا دعوت کوئی شعبدہ بازوں کا تماشا نہیں ہے کہ آج یہاں دکھایا جائے اور کل وہاں نہ وہ ایک انتہائی سنجیدہ اور انتہائی طویل عمل کا نام ہے۔ نہیں باغبان ہوتا ہے۔ وہ ایک مخاطب گروہ کا تعیین

کو کے اس کے ساتھ اپنے کو وابستہ کر دیتا ہے۔ وہ اس کا بخوبی مطالعہ کر کے اس کو سمجھتا ہے، حقیقت پسندی کے تمام تقاضوں کے مطابق وہ ان کے درمیان کام کا نقشہ بناتا ہے۔ وہ ان کے اوپران کا خیر خواہ بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ ان کو راہ حق پر لانے کے لئے اپنی ساری عمر لگا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا ایک کام کسی خاص گروہ کا پابند ہو کر ہی انجام دیا جاسکتا ہے، نہ اس طرح کہ روزانہ نئے نئے گروہوں کے سامنے اپنا جلوہ دکھایا جائے۔ یہ ایک قسم کا حوالہ کی سپردگی کا معاملہ ہے نہ کہ تقریری مشاعروں کے دعوت نامے قبول کرنے کا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی دعوت کے لئے کسی مستقل مدعو کا انتخاب نہیں کیا ہے، وہ سرے سے داعی ہی نہیں ہے۔ دعوت تو پوری عمر کا ایک فیصلہ ہے۔ اُس کو اس تلون کے ساتھ کس طرح انجام دیا جاسکتا ہے کہ آدمی ہر دن کسی مقام پر تقریری کرتب دکھانے کے لئے پہنچ جائے۔

پھر بھی ان کے بستر کانٹوں کے بستر نہیں بنے مشہور پلے بیک سنگر مکیش چند ماتھر (۱۹۲۳-۱۹۰۶) امریکہ کے ایک سفر میں تھے کہ اچانک انتقال کر گئے۔ ان کے حالات جو اخباروں میں آئے ہیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ اردو زبان بہت اچھی جانتے تھے ۔ وہ ہندی سے ناواقف تھے۔ بعد کو اپنے پیشہ کی ضرورت کے تحت سخت محنت کر کے ہندی زبان سیکھی۔ نے اپنی زندگی میں جو دس ہزار گانے ریکارڈ کرائے ہیں، ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن بھی ہے جس کو انھوں نے تین سال میں مکمل کیا تھا۔

۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو برادران وطن میں اس طرح کے بے شمار لوگ تھے جنھوں نے اپنے اسکولوں میں اردو پڑھی تھی۔ پنجابیوں کا سیلاب یہاں پہنچا تو اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ۔ کے انقلاب کے بعد تقریباً ًچوتھائی صدی تک اس ملک کی عام زبان اردو ہی تھی ۔ ہم نہایت آسانی کے ساتھ اردو کے ذریعے ان سب لوگوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچا سکتے تھے جس کے پہنچانے کی لازمی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی ہے۔ اب یہ لوگ اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ دوسری نسل لے رہی ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان لسانی بعد بڑھتا جا رہا ہے ، جو کام پہلے ہم اپنی مادری زبان میں کر سکتے تھے، اس کے لئے اب ہم کو دوسری زبانیں سیکھنی ہیں انسان کے اندر مہارت پیدا کرنا ہے۔ ایک کام جو پہلے آسان تھا، مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود لوگ راتوں کو اطمینان کی نیند سوتے ہیں، ان کے بستر ان کے لئے کانٹوں کے بستر نہیں بنے۔ انھیں یاد نہیں رہا کہ ان کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب خدا پوچھے گا کہ تم نے ہمارا پیغام ہمارے بندوں تک کیوں نہ پہنچایا تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اور اگر ہم کو ” خدا کی گواہی چھپانے “ کا مجرم قرار دے دیا جائے جس کے مجرم یہودی قرار دیے گئے تھے تو ہمارے پاس اس سے بچنے کی کیا سبیل ہوگی۔

حکمت کی باتیں جامع مسجد کی سیڑھیوں سے ابھی تک دستکاری کے دور میں پانچویں نہ سنو ہمارے اور آخرت کے درمیان فرشتے ہر وقت بتا رہے ہیں خوابوں کے فریب میں ٹھیکہ مل گیا مہا بھارت سے تاج محل کو دیکھ کر شاعری اور تصنیف کا فرق صنعتی ثقافت کا مسئلہ کیا یہ لوگ بچے ہیں ایک نے کیچڑ دیکھا، دوسرے نے ستارے مرد و عورت کے درمیان تقسیم عمل غطی کا انجام موت کے بعد لار ڈٹا مسن کا واقعہ جاپانی کا قبولِ اسلام مواقع کی بربادی جدید مسئلہ کیا ہے دنیا داری اس کا محرک ہے اسلام کا مطلب اختلاف کے نقصانات عربی ہفت روزہ کا تبصرہ سوال و جواب امریکہ میں مذہب ایڈیٹر کے نام الرسالہ کے لئے رجسٹری یا زر اعانت بھیجتے ہوئے پتے پر شخصی نام نہ لکھیں بلکہ تمام چیزیں منیجر الرسالہ کے نام روانہ فرمائیں۔ ایجنٹ حضرات کے لئے مطلوبہ پرچے پر ۲۵ فی صد کمیشن وضع کر کے بذریعہ وی پی روانہ ہوں گے۔ ڈاک خرچ ادارہ الرسالہ کے ذمے ہوگا

Printed page