Al-Risala · October 1976

Without being a Muslim, you can experience Namaz

Al-Risala, October 1976, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

(مسلمان نہ ہوتے ہوئے آپ نماز کا تجربہ کر سکتے ہیں) جہاں تک یاد آتا ہے، اس کے بعد ان لوگوں نے وضو کیا اور میرے ساتھ نماز کا یہ تجربہ ان کے لئے اتنا مؤثر ہوا کہ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ صرف نماز کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہند جگر خوار کے اسلام سے متاثر ہونے کا ابتدائی سبب نمازہی تھی ۔ مسلمان جب مکہ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے تو انھوں نے وہاں ظلم اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ مسجد میں جاکر اللہ کے سامنے اپنے عجز اور بندگی کا اقرار کیا۔ ابن مندہ نے روایت کیا ہے کہ ہند نے اپنے شوہر ابو سفیان سے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں۔ ابو سفیان نے کہا، تم تو ابھی کل تک اسلام کی سخت مخالف انھوں نے جواب دیا ہاں، مگر رات جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرے ذہن کو بالکل بدل دیا ہے : واللہ ما رأیت الله تعالیٰ عبد حق عبادتہ فی خدا کی قسم آج کی رات سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس هذا المسجد قبل الليلة ، والله ان باتوا الا مسجد میں خدا کی عبادت اس طرح کی گئی ہو جیسا کہ اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ خدا کی قسم یہ لوگ ساری رات نماز پڑھتے انھوں نے قیام اور رکوع اور سجود میں رات گزار دی۔

افریقہ کی تاریخ کا ایک مبصر لکھتا ہے:

” وسط افریقہ میں اسلام کی اشاعت بہت بڑی حد تک سیاحوں اور عرب تاجروں کے ذریعہ ہوئی۔ ان کا سب بڑا معجزہ جس سے افریقہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی، نماز تھا۔ جہاں یہ لوگ ایک امام کے پیچھے ایک صف میں کھڑے ہوئے اور ان کے چہروں سے خدا کا خوف ظاہر ہوادیکھنے والے گھل کر رہ گئے۔ لوگ ایک طرف اپنی ذلیل بت پرستی پر نادم ہوئے، دوسری طرف اسلامی عبادت نے ان کو اپنی طرف کھینچا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف نماز نے وسط افریقہ کی اکثر آبادی کو اسلام میں داخل کر دیا۔ Winwood Reade, Martyrdom of Man, P.32

شاہجہاں کے زمانے میں منگولوں سے مغل سلطنت کا مقابلہ پیش آیا۔ اورنگ زیب اس وقت شہزادہ تھا۔ اس کو مقابلے کے لئے بھیجا گیا۔ اس نے منگولوں کو سنکیا نگ تک دھکیل دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت اورنگ زیب اور جے سنگھ کی فوجیں سنکیا نگ کے صحرا میں منگولوں کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ اورنگ زیب گھوڑے سے اتر گیا اور میدانِ جنگ میں رومال بچھا کر نماز ادا کرنے لگا۔ منگولوں نے دیکھا کہ بادشاہ "ڈنڈ بیٹھک" کی طرح کوئی عمل کر رہا ہے۔ انھیں اس عمل پر سخت نماز کے آداب کو قریب سے دیکھنے کے لئے انھوں نے جنگ روک دی اور اورنگ زیب کا محاصرہ کر لیا۔ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ اور منگول چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے حیرت کے ساتھ اس کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے تھے۔ جب بادشاہ نے سلام پھیرا تو منگولوں نے پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ اورنگ زیب نے جواب دیا: "میں اس خدا کی عبادت کر رہا تھا جو سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مہربان ہے۔

بادشاہ کا یہ جواب سن کر منگول کانپ اٹھے۔ ان کا حوصلہ پست ہو گیا۔ انھوں نے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیئے کہ ایسے بہادر انسان کو زیر کرنا ممکن نہیں۔ یہ ۱۶۴۷ء کا واقعہ ہے۔

محمد حسنین ہیکل (سابق ایڈیٹر الاہرام) نے لکھا ہے کہ جمال عبدالناصر جب پہلی بار روس گئے تو اس وقت کے روسی وزیر اعظم نیکیتا خروشیوف کے گفتگو کے دوران نماز سے بڑی دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ ۹ اپریل ۱۹۵۸ء کا واقعہ ہے: آخر خروشیوف کو مسلمانوں کے نماز پڑھنے کا منظر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جب خروشیوف کے گھر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد صدر ناصر ظہر کی نماز کے لئے ماسکو کی مسجد جانے لگے تو خروشیوف نے سوالوں کی بھر مار کر دی ۔ ناصر جتنی دیر وضو کرتے رہے، خروشیوف بذاتِ خود تولیہ لئے کھڑا رہا، اس نے بڑی عقیدت و احترام کا مظاہرہ کیا۔

علم الانسان پر جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ معبود کی پرستش کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اسے ختم نہیں کر سکتی۔ نماز اسی فطری جذبے کے اظہار کا فطری طریقہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے آداب اور طریقوں میں یہ فطری تقاضا اس طرح سمیٹ دیا گیا ہے کہ نماز میں اور انسان میں خاص مناسبت پیدا ہو گئی ہے۔ نماز انسانی فطرت کی عکاس بن گئی ہے۔ جون ۱۹۷۶ء میں ایک بار مجھے ایک غیر مسلم کے مکان پر نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔ ہم دو آدمی تھے۔ جب تک ہم لوگ نماز پڑھتے رہے، چھ افراد کا پورا خاندان دم بخود ہوکر ہم کو دیکھتا رہا۔ نماز سے فراغت کے بعد صاحب خانہ نے کہا: "آپ کی نماز کو دیکھ کر میرے ماتھے پر پسینہ آگیلہ می چاہتا تھا کہ میں بھی اس میں شریک ہو جاؤں" اس قسم کا تجربہ مجھے اپنی زندگی میں کئی بار پیش آیا ہے۔

ہماری یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچائیں۔ اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ اس کے آغاز کی عملی شکل کیا ہو۔ دین کو ان کے لئے بحث کا موضوع کس طرح بنایا جائے ۔ موجودہ حالات میں اس کی ایک قابلِ عمل شکل نماز نظر آتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نماز کی اٹھ بیٹھ " بعض لوگوں کو عجیب سی چیز معلوم ہوگی۔ جیسا کہ مکہ میں ابوطالب کے ساتھ پیش مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ ان کے صاحبزادے علی بن ابی طالب ابتدا نماز ہی کو دیکھ کر اسلام سے متاثر ہوئے تھے، اور پھر اسلام کے سب سے بڑے جہاں باز ثابت ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسری اقوام تک دین کو پہنچانے کے لئے نماز نہایت کامیاب ذریعہ بن سکتی ہے ۔ فطری کشش تو اس کے اندر ہمیشہ سے تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے تجرباتی اور مشاہداتی مزاج نے اس کے اندر ایک "سائنسی اہمیت پیدا کر دی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کسی بات کو ماننے سے پہلے اس کو عملی شکل میں جانے، وہ اس کا ذاتی تجربہ کر سکے۔ نماز اس ضرورت کو کمال درجہ

میں پورا کرتی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں مشغول ہو تو وہ حیرت انگیز طور پر محسوس کرتا ہے کہ یہ خود اس کی اندرونی مانگ کا جواب نماز کے مختلف اعمال میں خود اس کے اپنے روحانی تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کی پوری ہستی نماز میں اس طرح شامل ہو جاتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اور حقیقت اعلیٰ دونوں ایک دوسرے میں جذب ہو گئے ہیں۔ جو شخص دور سے صرف نماز کا مشاہدہ کر رہا ہو، وہ بھی اس کی سادگی، اس کی عظمت اور انسانی وجود کے ساتھ اس کی مطابقت پر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ کھلم کھلا محسوس کرنے لگتا ہے کہ معبود کی پرستش کا اس سے بہتر کوئی طریقہ ممکن ہمیں۔ جہاں تک نجات آخرت کا سوال ہے آدمی کے لئے با ایمان نمازی ہونا ضروری ہے۔ مگر اس کی کیفیات کو پانے کے لئے رسمی ایمان کی ضرورت نہیں۔ ایک شخص، اگر وہ سنجیدہ ہو، ایمان لائے بغیر بھی نماز کے مقررہ طریقے میں اپنے آپ کو مشغول کر کے نماز کی کیفیتوں اور لذتوں کا ایک حصہ پا سکتا ہے۔ نماز کا یہ پہلو اس کے اندر ایک دعوتی قدر پیدا کر دیتا ہے۔ بلکہ کی تاریخ اس کی عملی تصدیق بھی کر رہی ہے کیونکہ مکہ میں، اسلام کے ابتدائی دور میں، قرآن کے بعد نماز ہی سب سے زیادہ لوگوں کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ بنی تھی ۔

دوسری قوموں میں دین کی اشاعت کے لئے موجودہ زمانے میں ہمیں جو کام کرنے ہیں ان میں سے ایک کام یہ ہے کہ عالمی سطح پر مسلم نوجوانوں کی ایک تنظیم قائم کی جائے ۔ اس تنظیم کا خاص مقصد نماز پڑھنا اور پڑھانا ہو۔ اس کے افراد تمام شہروں میں ہوں اور وہ ہر دن کسی نہ کسی ایسے پارک میں جائیں جہاں غیر مسلم مرد اور عورتیں تفریح کے لئے آتے ہوں۔ وہاں وہ ایک دو گھنٹہ اس طرح گزاریں کہ ان کی گفتگو اور اٹھنے بیٹھنے میں مکمل طور پر سنجیدگی کا اظہار ہو۔ ان کے پاس قرآن کا ترجمہ ہو یا ایسی کوئی کتاب ہو جس میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے اخلاقی اور ایمانی واقعات درج ہوں۔ وہ آپس میں بیٹھ کر اس کو پڑھیں۔ بالقصد اپنی طرف سے کسی کے اوپر تبلیغ کی کوشش نہ کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص خود سے ان کے حلقہ درس میں بیٹھنا چاہے تو اس کو عزت کے ساتھ بٹھائیں۔ کوئی سوال کرے تو انتہائی نرمی اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ جواب معلوم نہ ہو تو صفائی کے ساتھ کہیں کہ نہیں اس کا جواب معلوم نہیں۔ ہم تحقیق کر کے اگلے دن آپ کو بتائیں گے ۔ ان کے پاس نماز اور دوسری اسلامی تعلیمات کے بارے میں چھوٹے چھوٹے کتابچے مختلف زبانوں میں ہوں جو وہ شائقین کو مفت دے سکیں ۔ پارک کے اس پروگرام کا سب سے اہم جزو نماز ہو۔ اس مقصد کے لئے غالباً عصر کی نماز زیادہ موزوں ہوگی۔ سب نوجوان مل کر نماز ادا کریں۔ ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ۔ ایسا ہرگز نہ کریں کہ جلدی جلدی پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ چار رکعت نماز میں لگ بھگ ۲۰ منٹ صرف کئے جائیں۔ نماز اس طرح پڑھی جائے گویا ہم فی الواقع اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور اس کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ یہ کام اگر کچھ برسوں تک مسلسل نہایت خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے تو اس کے غیر معمولی نتائج برآمد ہو ں گے مسجدوں میں نماز کی تحریک مسلمانوں کی اصلاح کے لئے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اسی طرح پارکوں میں نماز کی تحریک غیر مسلموں تک دین کا پیغام پہنچانے کے لئے چل پڑے تو ہماری ذمے داری کے دونوں تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ اور دنیا میں اگر خدانخواستہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو آخرت میں انشاء اللہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہوں نے خلق اللہ کے سامنے حق کی گواہی دی تھی اور ایک مومن کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ کام نظم کے ساتھ ہو۔ جو لوگ اس پروگرام میں شریک ہوں وہ باہم مشورہ سے ایک شخص کو متکلم مقرر کریں۔ وہی شخص کتاب پڑھے اور وہی شخص بوقت ضرورت بولے۔ بقیہ لوگ بالکل خاموش رہیں اور متکلم کے حق میں دل ہی دل میں دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے اور اس کی زبان سے وہی کلمات نکالے جس میں حق اور خیر ہو۔

Printed page