Al-Risala · October 1976

A Spiritual Turn To American Life

Al-Risala, October 1976, pp. 14–22

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ کا صدارتی الیکشن ۲ نومبر ۱۹۷۶ء کو ہوگا۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے اس کے لئے جمی کارٹر کو اپنا نمائندہ چنا ہے۔ ریپبلکن پارٹی اُس وقت جس حالت انتشار میں ہے اس کے پیش نظر اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے ۵۲ ویں صدر جمی کارٹر ہوں گے۔ یہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں کیونکہ ۱۹۱۸ء کے بعد پہلی بار امریکہ کے جنوبی علاقہ کا کوئی شخص اقتدار کی کرسی پر بیٹھے گا۔ جمی کارٹر (پیدائش ۱۹۲۴ء) امریکہ کی جنوبی ریاست جمیا کے رہنے والے ہیں۔ چند ماہ پہلے تک باہر کی دنیا میں انھیں کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ ان کے مقابلہ میں تقریباً ایک درجن امیدوار تھے۔ ان میں بعض عالمی شہرت کے مالک ہیں مثلاً ہیوبرٹ ہمفری۔ ایسی حالت میں جمی کارٹر کی کامیابی کارِ از کیا ہے ۔

اس کی وجہ امریکی عوام کی موجودہ نفسیات ہیں۔

۱۹۴۵ء میں جاپان کو ایٹم بم سے تباہ کرنے کے بعد امریکہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر ویت نام اور کمبوڈیا کی پسپائی ، روس کا متوازی ایٹمی طاقت کی حیثیت سے ابھرنا ۔ سمندروں پر امریکی بالا دستی کا خاتمہ، اسرائیل قضیہ میں یک طرفہ کارروائی کے مواقع ختم کہ وہ انسانی حقوق اور قدیم اقدار کی باتیں کرتے ہیں۔ تقریروں میں ایک قسم کا اخلاقی اور مذہبی رنگ پایا جاتا ہے۔ وہ خدا کا نام لیتے ہیں اور بائبل کے حوالے دیتے ہیں۔ میں ایک تقریر میں انھوں نے کہا:

کچھ چیزیں ہیں جو امریکی قوم کے لئے دولت ، جائیداد، پیداشی مواقع سے بھی زیادہ بڑی ہیں۔ مادی اعتبار سے ہم ایک عظیم اور طاقت ور قوم ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ مگر ہمارے اصول اور ہماری اسپرٹ اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ (اسٹیشمین ۱۷ جولائی ۱۹۷۶)

اس کا یہ مطلب نہیں کہ جمی کا رٹر امریکی صدر بننے کے بعد اپنے ملک میں اخلاقی اور مذہبی حکومت قائم کردیں گے۔ یقینی طور پر ایسا کوئی سیاسی معجزہ پیش آنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور جدید کی سب سے زیادۃ ترقی یافتہ قوم کو اس کے مادی سفر نے بالآخر کہاں پہنچایا ہے؟ جی کارٹر جس روحانی احیار ایسے واقعات تھے جنھوں نے امریکی باشندوں کے احساس برتری کا خاتمہ کر دیا۔ اسی طرح پٹرول اور خام مواد کی راہ میں رکاوٹیں ہر ملک کی سر اٹھانے والی پرواز اور آواز

کا نام لیتے ہیں ، وہ ان کے اپنے صدارتی عزائم سے زیادہ امریکی وٹ دل کا ر ہو خودرو نفسیات کو بتاتی ہے سر اساسور نفسلاتی طلبی موادین امریکیہ کا دوسرے ملکوں پر انحصار، مادی درآمداتی کے باوجود ٹکنالوجی کے پیدا کردہ سنگین مسائل اور اس طرح کی دوسری چیزیں ہیں جنھوں نے امریکی شہریوں کے اس پر فخر یقین کو کھو دیا ہے جس سے جنگ عظیم ثانی کے بعد ہر امریکی سرشار نظر آتا تھا۔

جمی کارٹرذہنی یا عملی اعتبار سے کسی غیر معمولی شخصیت کے مالک نہیں ہیں۔ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے دور دریشی اور دورہ سیاسیات کا دباؤ ہے ۔ اس سیاسی طبقہ کا جواب فراہم کرنا کسی سیاسی لیڈر کے لئے ممکن نہیں۔ کو تو کوئی خدا پرستانہ تحریک ہی انجام دے سکتی ہے اور وہی اسے انجام دے گی ۔ خواہ آج یا آج کے کئی سو برس بعد ۔ آج ساری دنیا میں ایک نیا عمل جاری ہے ۔

دو سو سال کی عارضی مادہ پرستی کے بعد دوبارہ مذہب اور روحانیت کی طرف واپسی ۔

کے طرز کے تعلیمات اسلامی کا ایک ادارہ قائم کرنے کی ضرورت سر آر تھر کیتھ (۱۹۵۵ - ۱۸۶۶) نے مصر کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے "مصر کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا"۔ یہی بات ایشیا اور افریقہ کے اس پورے خطے کے لیے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ہوا کہ یہ ساری قو میں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو گئیں۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دور اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے۔ انھوں نے اپنی اسلامی مہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کئے ۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی تھی اور قرآن و حدیث پڑھایا جاتا تھا۔ ان مدرسوں سے جو لوگ پڑھ کر نکلتے ، وہ اپنی اپنی بستیوں میں جا کر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے ۔ مدرسوں کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔

قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعے اپنے بندوں سے کلام کیا ہے وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے ، وہ دلوں کو گرماتا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلیٰ مضامین اور اس کا آسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے ، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول کی زندگی اور آپ کے اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرمانے کی بے پناہ صلاحیت دور اول کے مدرسے بس انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے ۔ وہ سادہ طور پر عربی زبان سکھا کر آدمی کو قرآن و حدیث سے وابستہ کر دیتے تھے ۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے علم دین اس کے لئے صحبت رسول اور صحبت صحابہ کے ہم معنی بن جاتا تھا۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جو خدا کے لئے جینے اور خدا کے لئے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔

آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدرسے قائم ہیں مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہو رہا ہے جو دور اول میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ قرآن اس لئے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل خدا کی یاد سے دہل اٹھیں۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام رسول کی زندگی اور صحابہ کے حالات جو تاریخ انسانی میں آتش فشاں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سرے سے پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدارس میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جا سکیں اسی کے ساتھ " علوم آلیہ" کے نام پر جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ

ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہیے۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے زوال کی جس سطح پر ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے کچھ بزرگ اور اکابر بنا رکھے ہیں اور مدرسہ کی تمام سرگرمیاں بس انھیں بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لئے وقف رہتی ہیں ۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے ، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا و آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں ، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دور اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔

ضرورت ہے کہ دوبارہ دور اول کے طرز کے مدرسے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح امت کا کام کیا ان مدارس کا نصاب بالکل سادہ اور غیر فنی ہونا چاہیے۔ موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم اس کو چار مرحلوں پر تقسیم کر سکتے ہیں :

پہلا مرحلہ: عربی زبان اور قرآن 2 چُور در دنده، اور اس پر ٹوکرا دوسرا مرحلہ : حدیث ، سیرت رسول ، حالات صحابہ ، اسلامی تاریخ وغیرہ ( عربی زبان میں ) تیسرا مرحلہ : عالمی زبانیں ، دیگر مذاہب اور ان کی تاریخ۔ فلسفہ جدید ، ضروری سائنسی معلومات چوتھا مرحلہ : اختصاصی مطالعہ کسی ایک اسلامی موضوع پر ( عربی میں ایک مقالہ تیار کرنا ) اس قسم کا ایک مدرسہ اعلیٰ معیار پر قائم ہو جائے تو بلاشبہ وہ دور جدید کا سب سے بڑا کام ہوگا ۔ اصل کام علوم قرآنی کو زندہ کرنا ہے اس بو العجبی پر ہمیشہ ماتم کیا جائے گا کہ تمام علوم اسلامیہ کے درس و تدریس کا اصل مقصود قرآن تھا اور سب کے سب اس کے لئے بمنزلہ آلات و وسائل تھے۔ مگر اجرامِ سماوی کا مطالعہ کرنے والا دوربین کے بنانے میں ایسا غرق ہوا کہ اسے آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی مہلت ہی نہ ملی یعنی معقولات اور فلسفہ و کلام اصل مقصود بن گئے اور قرآن اور علوم قرآن بالکل نظر انداز کر دیئے گئے پھر یہ حالت یہاں تک بڑھی کہ یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ہمارے مدارس کا اصل مقصود کیا ہے ۔ ارسطو اور اس کے بہت بعد کے کج فہم ترجمانوں کی پرستش یا قرآن حکیم و حدیث نبوی کا فہم و درس (ہمارے مدارس میں) معقولاتِ قدیم کے لئے تو متونِ وشروح کے بوجھ سے دماغوں کو کچلا جاتا ہے۔ مگر قرآن اور علوم قرآن کے لئے صرف جلالین و بیضاوی کے چند اجزا ہی کافی سمجھ لئے گئے اور پھر کیا ان کتابوں کے ذریعے قرآن اور علوم و معارف قرآن سے کوئی حقیقی مناسبت پیدا ہو سکتی ہے فیروز شاہ تغلق . شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی سلطان محمد شاہ بہمنی . شیخ زین الدین شہنشاہ بابر . شیخ عبد القدوس گنگوہی شہنشاہ اکبر . ملا عبد النبی شہنشاہ جہانگیر . شیخ احمد سرہندی احمد شاہ ابدالی . شاہ ولی اللہ دہلوی نظام حیدر آباد . شیخ حسین احمد مدنی

پچاس برس پہلے کی بات ہے جب کہ ساری دنیا میں یورپ کی مسیحی قوموں کا غلبہ ۔ قاہرہ کے ایک عیسائی مشنری مسٹر واٹسن سے ایک شخص نے پوچھا: کتنے دنوں سے آپ مسیحی تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ "پچاس سال سے" پادری نے جواب دیا۔ "اتنے دنوں میں کتنے مسلمانوں نے عیسائیت کو " اس کا اگلا سوال تھا۔ "تقریباً ڈیڑھ سو" پادری اور پھر فوراً ہی بولا: "مگر پھر بھی آپ کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

سوال کرنے والے کے لئے پادری کا یہ جملہ غیر متوقع تھا۔

Printed page