ہمال ورق کہ سیہ گشته مدعا ایں جا است
Al-Risala, October 1976, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
افریقی ریاست گابون کے صدر البرٹ برنارڈ بانگو (پیدائش ۱۹۳۵) نے ستمبر ۱۹۷۳ء میں اسلام قبول کر لیا۔ کی خبریں مسلسل آتی رہتی ہیں جب کہ نہ صرف عوام بلکہ ممتاز افراد اسلام کی صداقت کا اعتراف کرتے رہتے ہیں مسٹر نشیشی تتا کا جاپان کے محکمہ پولیس کے ڈائرکٹر تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ سیاست میں داخل ہوئے اور جاپانی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۵ء میں وہ ٹوکیو کے اسلامی مرکز میں آئے اور کلمہ شہادت پڑھ کراپنے اسلام کا اعلان کیا۔ مسٹر ٹامسن امریکہ کے ۳۱ سالہ صحافی ہیں، انھوں نے فارسی زبان سیکھی ہے۔ فل برائٹ اسکالرشپ کے تحت وہ ایک سال سے افغانستان میں ہیں اور مولاناروم کی مثنوی کا انگریزی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے قرآن کا ترجمہ پڑھا تھا اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ۔ وہ اسلام سے متاثر ہو گئے۔ ۱۶ اپریل ۱۹۷۶ء کو وہ اجمیر میں مسلمان ہو گئے ۔ ان کا اسلامی نام معین الدین ٹامس رکھا گیا۔ شاہجہانی مسجد درگاہ خواجہ صاحب میں مولانا محمد یحییٰ صاحب نے ان کو کلمہ شہادت پڑھایا۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے بے شمار تحریکیں اٹھائیں۔ حتیٰ کہ ان کی تحریکوں کے غلغلہ سے فضائے آسمانی گونج اٹھی۔ ایک کام انھوں نے نہ کیا جو ان کے خدا نے سب سے زیادہ ان پر فرض کیا تھا یعنی اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانا۔ تا ہم مسلمانوں کی کسی کوشش کے بغیر دین فطرت لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں یہ واقعہ پیش نہ آتا ہو کہ اللہ کے بندے اللہ کے دین کو قبول کر کے اس میں داخل نہ ہو رہے ہوں مسلمانوں کو تو یہ توفیق بھی نہ ہو سکی کہ وہ کوئی ایسی ایجنسی
قائم کرتے جو ان نو مسلموں کے اعداد و شمار جمع کر کے شائع کرتی ، البتہ عالمی ادارہ مذہب (World Religions institute) نے حال میں کچھ اعداد و شمار شائع کئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۶ء تک کے پانچ سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف یورپ اور امریکہ سے متعلق ہیں۔ افریقہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی اور عیسائی مشنریوں کی غیرمعمولی جدوجہد کے باوجود عیسائی بننے والوں کے مقابلے میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ السٹریٹڈ ویکلی کے ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنے افریقی دورہ کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا : کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگر و قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے تسلیم کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوش گوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائی بننے والوں سے زیادہ ہے ۔ (السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا۔ ۷ جولائی ۱۹۷۶ء ، صفحہ ۲۷) اگرچہ ہمارے پاس قطعی اعداد و شمار دیا۔ وہیں ہیں تاہم یہ اندازہ مبالغہ آمیز نہیں کہ آج بھی کسی خاص تبلیغی کوشش کے بغیر دنیا بھر میں جو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ان کی تعداد سالانہ دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر ان نو مسلموں سے روابط قائم کئے جائیں اور ان سے معلوم کیا جائے کہ اسلام کی کون سی خصوصیت نے انہیں متاثر کیا اور پھر ان معلومات کی روشنی میں عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت کی منصوبہ بندی کی جائے تو صرف دس برس میں اسلام کی سر بلندی کا وہ خواب پورا ہو سکتا ہے جس کو دوسری راہوں سے دو سو برس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ حاصل نہیں ہوتا۔