Al-Risala · October 1976

لطیفہ

Al-Risala, October 1976, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۱۹۳ء) کی عمر کا بیشتر حصہ بے سر و سامان درویشوں کی طرح سفر میں گزرا۔ ایک مرتبہ دمشق میں تھے، وہاں کے لوگوں سے کسی بات پر ناراضگی ہوئی تو فلسطین کے بیابان میں چلے گئے ۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا۔ عیسائیوں نے ان کو پکڑ لیا اور طرابلس الشرق (لبنان) کے علاقہ میں خندق کھودنے کے کام پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ لگا دیا۔ نہ خاموشی کے ساتھ اس مشقت کو برداشت کرتے رہے۔ مدت کے بعد حلب کا ایک معزز آدمی اس طرف سے گزرا۔ سعدی کو جانتا تھا، انھیں اس حال میں دیکھ کر اس کو بہت افسوس ہوا۔ دس دینار دے کر شیخ کو قید فرنگ سے چھڑایا اور اپنے ساتھ حلب لے گیا۔ عزت کے ساتھ اپنے گھر رکھا اور مزید عنایت یہ کی کہ اپنی ناخுتڈ بیٹی سے ان کا نکاح ایک سو دینار مہر موجل پر کر دیا۔ مگر بیوی سخت بد مزاج اور تیز زبان اس نے شیخ کو بے حد پریشان کر دیا۔ روز طعنہ دیتے ہوئے کہا: ” تم وہی ہو جس کو میرے باپ نے دس دینار میں خریدا تھا۔ “ شیخ سعدی نے فوراً جواب دیا:

”ہاں میں وہی ہوں جس کو آپ کے باپ نے دس دینار میں خریدا اور سو دینار میں آپ کے ہاتھ

Printed page