The mountain, at last, is coming to Mohammad
Al-Risala, October 1976, pp. 24–29
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جملہ کا پس منظر یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد جب یورپ کی مسیحی قوموں نے پیغمبر اسلام کو ”جھوٹا پیغمبر“ ثابت کرنے کے لئے فرضی قصے گھڑنے شروع کئے تو اُنھیں میں سے ایک بناوٹی کہانی وہ تھی جو اتنی پھیلی کہ مغربی لٹریچر میں بطور ضرب المثل مشہور فرانس بیکن (۱۵۶۱ - ۱۲۶۱) نے اپنے مضمون جرات (Boldness) میں لکھا ہے ” ایک جری آدمی محمد جیسے معجزے بار بار دکھا سکتا ہے۔ محمد نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑ کو اپنے پاس بلائیں گے اور وہ ان کے پاس آجائے لوگ اس معجزے کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے۔ محمد نے پہاڑ کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا۔ وہ بار بار پکارتے رہے۔ بدستور اپنی جگہ کھڑا رہا تو وہ ذرا بھی نہ شرمائے۔ اب انھوں نے کہا: اگر پہاڑ محمد کے پاس نہیں آیا تو محمد تو پہاڑ کے پاس
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں تیزی سے ایک تبدیلی آرہی ہے۔ اور اگر ہم گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اس تبدیلی کا رخ کھلے طور پر اسی منزل کی طرف ہے جس کو امریکی میگزین نے لطیفہ کے طور پر ان لفظوں میں ظاہر کیا ہے۔ ”پہاڑ بالآخر محمد کی طرف
پہلی انجمن اقوام، ۱۹۲۰ میں جنیوا میں قائم ہوئی تو روس اور امریکہ ابتداءً اس کے ممبر نہ ہو سکے تھے۔ ۱۹۴۵ میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تو اس کا چارٹر ماسکو میں تیار کیا گیا اور امریکہ اس کا مستقل صدر مقام بنا۔ اگرچہ کسی نئی عالمی تنظیم کے وجود میں آنے کا بظاہر امکان نہیں، تاہم اقوام متحدہ کا ادارہ تیزی سے تیسرے انقلاب کی طرف جارہا ہے اقوام متحدہ کے ابتدائی قیام کے وقت یہ صورت حال تھی کہ ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصہ پر مغربی طاقتیں قابض تھیں اور وہی ان کی سیاسی نمائندہ بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح عالمی برادری کی تنظیم میں مغربی طاقتوں کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ قوموں کو آزادی ملی تو ایک تیسری دنیا وجود میں آئی اور عالمی تنظیم میں اس کی بڑھی ہوئی نمائندگی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان قوموں کو اکثریت دے دی جو اقوام متحدہ کے قیام کے وقت براہ راست نمائندگی سے محروم تھیں۔
اقوام متحدہ کے اکیادن ممبر تھے ۔ ۱۹۶۵ء میں ان کی تعداد ۱۲۰ ہو چکی ہے۔ اس طرح قدیم توازن ٹوٹنے لگا۔ ۱۹۷۱ ء میں جب امریکہ کی مرضی کے خلاف فارموسا کے بجائے کمیونسٹ چین کو چین کا نمائندہ تسلیم کیا گیا تو ظاہر ہو گیا کہ اب عالمی سیاست میں مغربی طاقتوں کا کلی غلبہ ختم ہو رہا ہے۔ پھر اکتو بر ۱۹۷۳ء کی عرب۔ جنگ کے بعد عربوں کی طرف سے تیل کے جزوی بائیکاٹ اور تیل کی قیمت میں اضافہ نے اس عمل کو آخری مقام پر پہنچا دیا اور یہ نوبت آ گئی کہ سلامتی کونسل کے علاوہ اقوام متحدہ کے تمام دوسرے اجلاسوں میں مغربی طاقتوں کے علی الرغم عربوں کے حق میں فیصلہ ہونے امریکہ نے دھمکی دی کہ ’’بلیک ووٹنگ‘‘ کا سلسلہ جاری رہا تو وہ سخت کارروائی کرے گا۔ جب یہ دھمکی کار گر نہ ہوئی تو ستمبر ۱۹۷۵ء میں امریکہ نے یونیسکو کو دی جانے والی ۲۲ ملین ڈالر سالانہ کی امداد روک دی۔ کیونکہ اس ادارہ سے اسرائیل کو نکال دیا گیا تھا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا وہ صرف یہ کہ عربوں نے اس کے فوراً بعد یونیسکو کو ۲۵ ملین ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔ عالمی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ عربی کا اقوام متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان قرار دیا جانا اور عربوں کے مقابلے میں اسرائیل اور اس کے حلیف امریکہ کا احتجاجی پوزیشن میں پہنچ جانا بتاتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کہ اقوام متحدہ کا ’’مغرب‘‘ کے بجائے ’’مشرق‘‘ کی طرف ہو جائے ۔
عربی زبان نئی اہمیت اختیار کر رہی ہے بیروت عربوں کے لئے چھٹیاں گزارنے کا مقام تھا۔ بیروت کی غیر یقینی صورت حال کے بعد بمبئی نے کم از کم عارضی طور پر یہ حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اگست ۱۹۷۶ء کے درمیان بمبئی میں آنے والے مغربی ایشیا کے سیاحوں کی تعداد ۲۱ ہزار تھی یہ سیاح زیادہ تر سعودی عرب، ایران، مصر اور دبئی کے رہنے والے ہیں۔ ان میں سے کچھ صرف اس لئے آئے کہ ’’اپنے ملک میں تیل کی بارش دیکھنے کے بعد ہندوستان میں پانی کی بارش بھی دیکھیں، کچھ تجارت کے لئے اور کچھ علاج کے لئے یہاں آئے۔ عرب سیاحوں کی یہ کثرت دیکھ کر ہندوستان کے محکمہ سیاحی نے اپنا ایک آفس کویت میں کھول دیا ہے دوسرا ایران میں کھولا جانے ڈالا ہے۔
عرب سیاح عام طور پر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آتے ہیں اور زیادہ تر اپنے موٹلی میں مقیم ہوتے ہیں۔ وہ روزانہ جو رقم خرچ کرتے ہیں اس کی تعداد موٹلی کے ذمہ داروں کے بیان کے مطابق فی کس تین ہزار سے پانچ ہزار روپئے تک ہے۔ ایک عرب ’’ سوداگرگر‘‘ نے اپنے بمبئی کے زمانہ قیام میں ۱۷ ہزار روپئے خرچ کئے اور تین ہزار ٹپ کے طور پر دیئے ان عربوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے۔ کی تین چوتھائی تعداد صرف عربی جانتی ہے۔ جو لوگ انگریزی جانتے ہیں ، ان کی انگریزی بھی بہت معمولی ہوتی ہے۔ ان کی اس کمی نے ترجمانوں کی بہت بڑی مانگ پیدا کر دی ہے ہمارے عربی مدارس کے نوجوان اگر عربی بول چال کی مشق کر لیں اور اس کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ہندوستان اور ہندوستان کے باہر بہت معقول کام اپنے لئے پا سکتے ہیں۔ جب کوئی قوم سیاسی یا اقتصادی اعتبار سے اٹھتی ہے تو اس کے ساتھ اس کی زبان بھی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ اس وقت عربی زبان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عرب پٹرول نے عربی زبان کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے۔ بے شمار نئے نئے لسانی کام وجود میں آ گئے ہیں۔ مگر ان نئے مواقع سے وہی لوگ پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عربی کے ساتھ کم از کم ایک اور بین الاقوامی زبان اور جو شخص عربی جیسی زبان جان لے، اس کے لئے دوسری زبان سیکھنا کچھ مشکل نہیں۔
غلط اقدام کبھی صحیح نتیجہ تک وہیں پہنچا سکتا خواہ اس کو کرنے والے کتنے ہی مخلص اور مقدس ہوں مولاناحمید الدین فراہی (۱۹۳۰- ۱۸۶۳)
ایک بلند پایہ محقق اور مفسر تھے۔ اردو کے علاوہ عربی، فارسی انگریزی اور عبرانی زبانیں بخوبی جانتے تھے۔ تقدس اور اخلاص اور اتباع سنت میں ان کو کاملیت کا مقام حاصل تھا۔ اردو یونیورسٹی کا تخیل جس نے بالاخر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کی صورت اختیار کی انھیں کے ذہن کی تخلیق تھی۔ جغرافی اور زمانی حقائق نے ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد اس کا خاتمہ کر دیا۔ عالم اسلام میں ذہنی انقلاب پیدا کرنے کے لئے انھوں نے اپنی عربی تفسیر نظام القرآن لکھنا شروع کی ، مگر اس کی تکمیل سے پہلے اس دنیا سے چلے گئے ۔ شریعت کی بنیاد پر سیاسی نظام قائم کرنے کو مسلمانوں کی اصل اجتماعی ذمہ داری سمجھتے تھے ۔ ” ملکوت اللہ ‘‘ کے نام سے انھوں نے اس موضوع پر ایک عربی رسالہ بھی لکھا ہے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جماعت اسلامی کی حکومت الہیہ کسی حد تک انھیں کے افکار کی عملی صورت تھی۔ مگر ہندو پاک اور بنگلہ دیش میں یہ جماعت حالات کی چٹان سے ٹکرا کر اسی طرح ختم ہورہی ہے جس طرح اس دور کی بہت سی دوسری سیاسی تحریکیں طوفان کی طرح اٹھیں اور بلبلوں کی طرح
مولانا فراہی کے شاگرد خاص مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے : ” علی گڑھ میں مولانانے انگریزی اور دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ خاص توجہ کے ساتھ فلسفہ جدید کی تحصیل کی۔ اس زمانہ میں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریزی مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے ۔ مولا نا نے فلسفہ کے درس تو ان سے ضرور لئے لیکن ان سے خوش نہیں وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساط سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی۔ علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ صاحب کی کتاب ” پریچنگ آف اسلام “ کا بڑا مداح تھا۔ لیکن مولانا اس کتاب کے سخت وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روح جہاد ختم کرنے کے لئے لکھی ترجمہ قرآن مجید صفحه ۱۶ انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول میں جو مفکرین اٹھے وہ تقریباً سب کے سب اسی قسم کے خیالات رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں جو بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں ، انھوں نے سیاسی انقلاب کو اسلام کے احیاءکا واحد راستہ سمجھا۔ دنیوی نتائج کی حد تک یہ تمام تحریکیں ناکام رہیں تاہم اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد اس قسم کے لوگوں کو اب کرنے کا کوئی کام ہی نظر نہیں آتا۔ وہ تحریکیں جو آسمانی عزائم کے ساتھ اٹھی تھیں، اب بے یقینی اور پست حوصلگی کی سطح پر آکر ٹھیر گئی ہیں۔ پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان تحریکوں نے اپنے سیاسی جہاد میں جو دولت و طاقت خرچ کی ہے، ان کو نہ دعوت واشاعت کے ان غیر سیاسی طریقوں میں خرچ کرتیں جن کا تاریخی ریکارڈ ” پریچنگ آف اسلام “ میں جمع کیا گیا ہے، تو اسلام کا احیاء شاید آج ایک واقعہ بن چکا ہوتا۔ اس دور کے مفکرین کی بہت بڑی غلطی تھی کہ انھوں نے
قتال اور سیاسی معرکہ آرائی کو وہ چیز سمجھ لیا جس کو شریعت میں جہاد کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا جہاد، دعوت ہے نہ کہ قتال اور سیاسی معرکہ آرائی۔ یہ بات قرآن میں انتہائی طور پر واضح ہے۔ مگر اس دور کے مجاہدین سے اس بارے میں سخت ذہول ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری ایک صدی تک یہ لوگ سیاست کے میدان میں قربانیاں دیتے رہے؛ اور کسی نے بھی اس اصل ضرورت کا احساس نہ کیا کہ دین حق کی پیغام رسانی کے لئے دعوتی مہم کا آغاز کیا جائے۔ اگر یہ فکر ہوتا تو دعوتی انداز کا لٹریچر تیار کیا جاتا۔ دعوتی انداز کی تنظیم قائم دعوتی انداز کی سرگرمیوں کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی۔ اس دور میں دعوت الی اللہ کے زبر دست نئے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ مگر وہ سب غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہے اور تمام لوگ سیاسی قربانیوں کا ٹائٹل لے لے کر اس دنیا سے چلے گئے۔
اس ابد وہمناک غلطی کی تلافی یہ ہے کہ دعوتی بنیادوں پر از سر نو کام کا آغاز کیا جائے۔ صرف دعوتی کام ہی ہم کو دنیا و آخرت میں سرخرو کر سکتا ہے۔ اس کے سوا جتنے کام ہیں خسر الدنیا و الآخرۃ کا مصداق ہیں۔
غلط اقدام کبھی صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ کی پشت پر ہم نے اخلاص اور تقدس کی کتنی ہی مقدار جمع کر دی ہو۔ صوفی نذیر احمد کاشمیری اگر مہاتما بدھ کے انتقال کے دو سو برس بعد مہاراجہ اشوک بدھ مت میں داخل نہ ہوتے اور حضرت مسیح کے دنیا سے چلے جانے کے ساڑھے تین سو برس بعد شہنشاہ قسطنطین عیسائیت کو قبول نہ کرتے تو یہ مذاہب شاید ہی عالمی مذاہب بن کر کوئی تاریخی حیثیت اختیار کر سکتے۔ شاید یہ دونوں اپنے اپنے وقت کے مذاہب (برہمن ازم اور یہودیت) کی بے اعتدالیوں کے خلاف محض احتجاجی قسم کے فرقوں کی حیثیت سے آگے نہ بڑھتے۔ اس کے برعکس اگر اسلام کو اپنی اسی ابتدائی صورت میں سو برس تک کام کرنے کا موقع نہ رہتا جس صورت پر اس کو حضرت خاتم الانبیاء نے قائم کیا تھا اور جو صرف حضرت ابو بکر و عمر کے دور کے خاتمہ تک جوں کی توں قائم رہی، تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شاید ہی دنیا کا اکثر حصہ مسلمان ہو جاتا۔ اور کان الناس اُمَّۃً وَاحِدَۃً کی علی تعبیر چودہ سو برس پہلے ہو چکی تھی۔ لیکن دور ملوکیت کے بھرپور قیام نے ملت اسلامیہ کو كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اِنَّ تَمُرُّونَ وَتَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنْكَرِ کے مقام سے گرا کر اور اسے ایک دنیا دار ملت بنا کر بالکل بنی اسرائیل اور برہمنوں کی طرح کتبہ داری، تحاسد و تبا بغض و تنا فر کا شکار کر دیا اس کا ابتدائی سہرا تو بنو امیہ کے سر ہے بعد میں بنو ہاشم نے اسے آج تک جاری رکھا ہے۔ گویا جس ملوکیت نے بدھ مت اور عیسائیت کو عالمی مذاہب بنا کر ان میں چار چاند لگا دیئے، وہی ملوکیت اسلام کی عالم گیری کے مقابل سب سے بڑی روک ثابت ہوئی ۔ اسی طرح یہ بھی ایک افسوسناک تقابل ہے کہ جہاں راہبان مسیح نے مختلف کشف و رویا ر و الہام کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دعوت کا رخ بنی اسرائیل سے ہٹا کر سارے عالم کی طرف کر دیا، وہاں ملت اسلامیہ کے ارباب کشف و رعیک نے انہیں کشفیات و رویا ر کے سہارے امت اسلامیہ کو اپنے عالمی مشن سے ہٹا کر اس کا رخ ایسی باطنیت کی طرف کر دیا جو امت میں عالمگیر تفرقے کو جنم دے کر ایک خواب و خیال کی دنیا بنا چکا ہے۔
کبھی پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام ہوتا ہے مگر اس کو وہی لوگ جانتے ہیں جو بڑے دل والے ہوں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (11ھ) کے بعد ۲۰ سال تک فتوحات اسلام کا زبردست سلسلہ جاری رہا۔ مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقے کے فتح کی خبر آتی تھی۔ مگر تیسرے خلیفہ کی شہادت (۳۵ ھ) کے ساٹھ جو باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں، انھوں نے تقریباً سا سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ وہ شخص جس نے اس بند دروازہ کو دوبارہ کھولا، وہ حضرت امام حسن تھے جنہیں میں آپ کی خلافت سے دست برداری بظاہر میدان عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا۔ مگر اس واپسی نے اسلامی تاریخ میں اقدام وعمل کے نئے امکانات کھول دیئے۔
حسن بن علی بن ابی طالب شعبان ۳ھ میں پیدا ہوئے۔ ربیع الاول ۵۰ھ میں وفات پائی۔ آپ کے والد حضرت علؓی کی شہادت ، ۴ رمضان ۵۰ھ کو کوفہ میں ہوئی تو آپ کی عمر ۳۷ سال تھی۔ اس وقت صرف عراق اور ایران حضرت علؓی کے زیر خلافت رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ میں امیر معاویہ کی حکومت قائم تھی۔ حضرت علؓی کے زیر خلافت علاقہ میں بھی بہت سے لوگ درپردہ آپ کے مخالف تھے۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد لوگوں نے امام حسن کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی جو آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے تھے۔
حضرت حسن نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خلافت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ مگر ان کے اندر چونکہ اقتدار کی ہوس نہ تھی، انھوں نے بہت جلد اس حقیقت کو محسوس کر لیا کہ موجودہ حالات میں ان کا خلافت پر اصرار کرنا صرف ملت کے انتشار میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا۔ انھوں نے ایک حقیقت پسند انسان کی طرح ایک بار اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے کہا تھا: ”میں جانتا ہوں کہ نبوت و خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں، اسی نزاکت کی وجہ سے آپ نے بیعت کے وقت لوگوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ ”میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے “۔
حضرت علی کے بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا۔ دوسری طرف حضرت امیر معاویہ کے لئے حضرت علی کا اس دنیا سے جانا گویا راستہ صاف ہونے کے ہم معنی تھا۔ انھوں نے حضرت علی کی شہادت کی خبر ملتے ہی اپنے لئے ”امیر المومنین “ کا لقب اختیار کر لیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ بقیہ اسلامی علاقوں (عراق و ایران) کو بھی اپنے ماتحت کرکے اپنی حکومت کو مکمل کر لیں۔ تجدید بیعت سے فارغ ہونے کے بعد ساتھ ہزار کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کوفہ میں داخلہ سے پہلے انھوں نے امام حسن کو پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر یہ ہے کہ آپ مجھ سے صلح کر لیں اور مجھ کو خلیفہ وقت تسلیم کرلیں۔ امام حسن کے پاس بھی اس وقت ساٹھ ہزار کا لشکر تھا جو لڑنے مرنے پر تیار تھا۔ مگر امام حسن نے مسلمانوں کو باہمی خوں ریزی سے بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ اپنے حق خلافت سے ازخود دست بردار ہو گئے اور صرف چھ ماہ خلیفہ رہ کر امیر معاویہ کے ہاتھ کوفہ کی مسجد میں بیعت کر لی۔
امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لئے یہ "ذلت" ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔ کو مارا المسلمین (مسلمانوں کے لئے ننگ) کا خطاب دیا، کہا کہ آپ کا فر ہو گئے ہیں۔ آپ کے کپڑے نوچے، حتیٰ کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ بلکہ فرمایا : " خلافت اگر معاویہ بن ابو سفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا۔ اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا اور اس طرح جو اسلامی تاریخ میں ، صفین و جمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خون ریزی کا عنوان بنتا ، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا ۔ کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی ، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے ہی کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں ۔ ہمارے ملک کی مسلم قیادت نے مسلمانوں کے مسئلہ کے حل کا جو آخری راز دریافت کیا ہے، وہ یہ کہ "مسلمانوں کو وہ رعایتیں دی جائیں جو شیڈیولڈ کاسٹ کے لئے مخصوص کی گئی ہیں" اولاً تو یہ ممکن نہیں۔ اور بالفرض یہ نا ممکن اگر ممکن بھی ہو جائے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی رعایت زندگی کے وسیع تر حقائق کا بدل نہیں بن یہ دنیا استعداد کی بنیاد پر جگہ حاصل کرنے کی دنیا یہاں محض رعایت سے کوئی شخص بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
ونے کرپال اور گووندسلیکر نے شیڈیولڈ کاسٹ اور قبائل کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان رعایتوں نے ان طبقات کی حالت میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ اب بھی اگر کوئی ہر کجن کامیاب ہے تو وہ وہی ہے جس نے اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پیدا کی تھی۔ مثلاً ڈاکٹر امبید کر، شری جگ جیون رام۔ شری کے، آرنارائن