مطالعہ کتب
Al-Risala, October 1976, pp. 30–35
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظ ہے اور واحد پوزیشن ہے جہاں سے ایک شخص تمام مذاہب اور فرقوں کو محبت کی نظر سے دیکھ دور جدید کے ہند ومفکرین میں سوامی ویویکانند (۱۹۰۲- ۱۸۶۳) ایک نمایاں نام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا انتقال صرف ۳۹ سال کی عمر میں ہو گیا۔ مگر وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے انگریزی زبان میں ہندو فلسفہ کی تشریح کی اور مغربی دنیا میں اس ایشیائی مذہب کے پرچار کی ابتدائی اگرچہ اس سے پہلے خود مغرب میں کئی ایسے مفکرین پیدا ہو چکے تھے جنھوں نے مغرب کو ہند وفلسفہ سے مثلاً شوپنہار (۱۸۶۰- ۱۷۸۸) ایمرسن (۱۸۸۲- ۱۸۰۳) اور میکس مولر (۱۹۰۰ - ۱۸۲۳) وغیرہ مگر خود بھارت کی طرف سے اس خدمت کو انجام دینے والوں میں پہلا قابل ذکر نام ویویکانند ہی کا ہے ۔ جب شکاگو کی پارلیمنٹ آف ریلیجنز میں وہ اجنبی سنیاسی کے روپ میں کھڑے ہوئے اور اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا : (امریکہ کے بہنو اور بھائیو)
SISTERS AND BROTHERS OF AMERICA تو ان کے اس انداز خطاب پر کئی منٹ تک تالیاں بجتی رہیں ۔ امریکہ کے لوگ جو لیڈیز اینڈ جنٹلمین (حاضرین اور حاضرات) جیسے خشک فقرے ہی سننے کے عادی تھے اس برادرانہ خطاب سے بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد عرصہ تک امریکہ میں ان کا لکچر ہوتا رہا اور وہاں انھوں نے پہلا ویدک سنٹر قائم کیا ۔ حال ہی میں سوامی ویویکانند کے انگریزی خطوط کا مجموعہ ساڑھے چار سو صفحات پر شائع ہوا ہے۔ میں بہت سے دل چسپ خطوط ہیں جو سوامی جی کی زندگی اور خیالات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہاں ہم اس مجموعہ کے خط نمبر ۱۷۵ کا ترجمہ درج کر رہے ہیں۔ سوامی جی نے یہ خط الموڑہ سے ۱۰ جون ۱۸۹۸ کو لکھا تھا :
" "ادویتا واد مذہب اور فکر کی دنیا میں آخری مجھے یقین ہے کہ مستقبل کی روشن خیال انسانیت کا مذہب یہی ہوگا۔ یہ کریڈٹ مل سکتا ہے کہ وہ اس نظریہ تک دوسری نسکوں سے قبل پہنچے۔ تاہم علی ادویتا جو تمام انسانیت کو خود اپنی طرح دیکھتی ہے اور اپنوں سا سلوک کرتی ہے کبھی ہندوؤں میں پیدا نہ ہوسکی۔ دوسری طرف میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب قابل لحاظ حد تک اس مساوات تک پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اسی لئے میں قطعی طور پر یہ خیال رکھتا ہوں کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر، ویدانت کے نظریات، خواہ وہ کتنے ہی عمدہ اور حیرت انگیز ہوں، وہ وسیع انسانیت کے لئے بالکل ہی بے قیمت ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ ہماری مادر وطن کے لئے، جو دو عظیم نظامَات ہندوازم اور اسلام کا مقام اتحاد ہے، ویدانت کا دماغ اور اسلام کا جسم ہی واحد امید ہے۔ میں اپنے تصور کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان موجودہ انتشار اور اختلاف سے نکل کر شان دار اور غیر مفتوح بن رہا ہے اور یہ ویدانت کے دماغ اور اسلام کے جسم کے ذریعہ ہورہا ہے (صفحه ۴۵۳)
SEE IN MY MIND'S EYE THE FUTURE PERFECT INDIA RISING OUT OF THIS CHAOS AND STRIFE, GLORIOUS AND INVINCIBLE, WITH VEDANTA BRAIN AND ISLAM BODY. (P. 453)
ادویتا (یعنی خدا اور مخلوقات میں دوئی نہیں، سب ایک ہیں) میں بلاشبہ بظاہر ایک فلسفیانہ حسن ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ اخوت انسانی کے مسئلہ سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں جس کے لئے ایک نظریاتی بنیاد کے طور پر پہلے
کرنے کے فلسفیانہ فرائض کی وضع کا انتقاد حقہ میں سکا میروجہ کرنا مقابلہ میں روحیات کی اور ہادی اور معرفت پر آدم کا زمانے کے مسیحیوں نے اس کو وضع کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدت وجود کے مقابلہ میں وحدت الٰہ اور وحدت بنی آدم کا عقیدہ انسانی اخوت مساوات کی بالکل کافی بنیاد ہے اور اسلام کی تاریخ، کم از کم تجرباتی طور پر، اس کی حقانیت کا بھی ایک واضح ثبوت پیش کر رہی ہے ۔
اخوت اور مساوات کی نظریاتی بنیاد ہمیں اس وقت مل جاتی ہے جب ہم دریافت کرتے ہیں کہ سارے انسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ اس کے بعد یہ ضروری نہیں رہتا کہ اس سلسلہ نسب کو خدا تک بھی پہنچایا جائے اصل مسئلہ مخلوق اور مخلوق کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا ہے نہ کہ مخلوق اور خدا کے درمیان۔ اس لئے مخلوق کی نسلی یکسانیت مانتے ہی یہ مقصد حاصل ہو جاتا اس کے بعد اس رشتہ کو خدا تک وسیع کرنے کی کوشش، مقصد کے اعتبار سے غیر ضروری ہے اور عملی اعتبار سے غیر ثابت شدہ اور نا قابل فہم ۔
دوسری بات یہ کہ وحدت وجود کے نظریہ کو ماننے کے بعد صرف خدا اور انسان ہی ایک کل کا جزو نہیں بنتے بلکہ انسان اور بھیڑیا بھی ایک سطح پر آجاتے ہیں خواہ وہ انسانی بھیڑیا ہو یا حیوانی بھیڑیا۔ گو یا ٹکراؤ کے جس مسئلہ کو ختم کرنا مقصود ہے وہ دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آتا ہے ۔ سمیہ ارسد لِئے بیداری اور فکری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے Letters of Swami Vivikanand 5, Dehi Entally Road Calcutta 14 (1970, pp. 463)
اسلام نے اس کے اندر نئی طاقت پیدا کردی خنساء (م ۴۲ ھ ) اسلامی دور کی شاعرہ ہے۔
اس خاتون کا اصل نام تُماضر بنت عمرو بن الشريد سلمیہ ہے خنسار اس کا لقب تھا۔ بعد کو وہ اسی سے مشہور ہو گئی۔ وہ ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ مضر کے قبیلہ بنو سلیم کا سردار تھا۔ اس کے دو بھائی جاہلی جنگ میں مارے گئے۔ اس کا اسے بہت صدمہ ہوا۔ بھائیوں کے قتل سے پہلے وہ دو یا تین اشعار سے زیادہ نہ مگر جب وہ مارے گئے تو اس کی آنکھوں سے آنسو اور دل سے اشعار امنڈ نے لگے۔ اس نے دونوں بھائیوں خصوصاً صخر کے لئے انتہائی درد ناک مرثیے لکھے۔ مرثیہ کہتی رہی اور روتی رہی ، یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔
فتح مکہ کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اسلام قبول کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو اس نے اپنے کچھ اشعار سنائے تو آپ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا " اور سناؤ خناس" چنانچہ اس نے مزید اشعار آپ کو سنائے۔ مگر جوانی کی عمر میں جو عورت اپنے بھائی کی موت کو برداشت نہ کر سکی تھی، اسلام نے اس کے اندر وہ طاقت پیدا کی کہ بڑھاپے کی عمر میں اس نے خود اپنے لڑکوں کو خدا کی راہ میں نثار کر دیا۔ اس کے چار جوان بیٹے تھے۔ چاروں کو اس نے جنگ قادسیہ میں جانے کے لئے آمادہ کیا۔ گئے اور چاروں لڑ کر شہید ہو گئے۔ جب اس کو خبر ملی کہ اس کے چاروں بیٹے ختم ہو گئے تو اس نے رونے یا مرثیہ کہنے کے بجائے نہایت صبر و سکون کے ساتھ اس خبر کو سنا اور پھر بولی: "خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت سے عزت بخشی۔ امید کرتی ہوں کہ وہ مجھے ان سے ملا دے گا۔
السيد جمال الدين وجه الأستاذ الإمام محمد عبده كل عنايته للسياسة قال السيد جمال الدين الأفغاني ان أهل أوروبا مستعدون لقبول الاسلام ، اذا أحسنت الدعوة اليه فقد قارنوا بين الدين الاسلامى وبين غيره فوجدوا البون شاسعا من حيث يُسْرُ العقائد وقرب تناولها ، وأقرب من أهل أوروبا الى قبول الاسلام أهل أمريكا لإنه لا يوجد بينهم وبين الأمم الاسلامية عداوات موروثة. ولا أضغان مَدْفُونَةٌ، مثلما هو الحال بين المسلمين والاوروبيين والقرآن من أكبر الوسائل في لفت نظر الافرنج الى حسن الاسلام ، فهو يدعوهم بلسان حالة اليه ، لكنهم يرون حالة المسلمين السوآى من خلال القرآن فيقعدون عن اتباعه والايمان به ، فاذا أردنا اليوم أن نحمل غيرنا على الدخول في ديننا ، وجب علينا قبل كل شيء أن نُقِيمَ لهم البرهان - على أننا متمسكون بخصال الاسلام .. والا لم نكن مسلمين كاملين . وأفاض السيد فى ) بيان ( مزايا القرآن وتعاليمه السامية : من ذلك أنه ( أى القرآن ( أول من دلنا على الوصول الى الحقائق بالطريقة الفلسفية وهى ( لمه ) و ( ولماذا ) ، اذ أن معظم آيات القرآن واردة في معرض : لم كان الأمر كذا ؟ ولماذا كان الأمر كذا ؟ وتكليف المخاطبين أن يعطوا الجواب المعقول على هذا السؤال ، وليست الفلسفة سوى ذلك . قال : ومن مزايا القرآن « أن العرب قبل انزال القرآن عليهم كانوا في حالة همجية لا توصف ، فلم يمض عليهم قرن ونصف من الزمان حتى ملكوا عالم زمانهم ، وفاقوا أمم الارض سياسة وعلما وفلسفة وصناعة وتجارة ، وكل هذا لعمري لم ينتج الا عن هدى القرآن - فالقرآن وحده الذي كان كافيا في اجتذاب الامم القوية وهدايتها جدير أن يكون كافيا اليوم أيضا في اجتذاب الامم الحديثة وهدايتها . السيد جمال الدين رجل عالم وأعرف الناس بالاسلام ، وحالة المسلمين ، وكان قادرا على النفع العظيم بالافادة والتعليم ، ولكنه وجه كل عنايته الى السياسة فضاع استعداده هذا وانتي أعجب لجعل نُبَهَاءِ المسلمين وجرائدهم - كل همهم في السياسة ، واهمالهم أمر التربية الذى هو كل شيء ، وعليه يبنى كل شيء !
ان السيد جمال الدين كان صاحب اقتدار عجيب لو صرفه ووجهه للتعليم والتربية لأفاد الاسلام أكبر فائدة ، وقد عرضت عليه حين كنا في باريس أن تترك السياسة ونذهب الى مكان بعيد عن مراقبة الحكومات ، ونعلم ونربي من نختار من التلاميذ على مشربنا ، فلا تمضى عشر سنين الا ويكون عندنا كذا وكذا من التلاميذ الذين يتبعوننا فى ترك أوطانهم والسير فى الأرض لنشر الاصلاح المطلوب فينتشر أحسن الانتشار ! فقال : انما أنت مثبط !
۱۸۸۴ء میں جب کہ سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ پیرس میں تھے ، انھوں نے جان لیا تھا کہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اہل مغرب کے درمیان اسلام کی اشاعت کی جائے اور اس کام کا سب سے موثر ذریعہ قرآن ہے۔ مگر انھوں نے اور ان کے بعد تقریباً تمام بہترین صلاحیت کے لوگوں نے اپنی عمریں اور اپنے ذرائع و وسائل لاحاصل قسم کی سیاسی مقابلہ آرائی میں کھودئے سید جمال الدین افغانی نے کہا : یورپ کے لوگوں کے سامنے اگر اسلام کی دعوت اچھی طرح پیش کی جائے تو وہ اسلام قبول کرنے کے لئے بالکل تیار کیونکہ انھوں نے اسلام اور دوسرے ادیان کا تقابلی مطالعہ کیا تو انھوں نے پایا کہ عقیدہ وعمل کی آسانی کے اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے۔ مغربی اقوام میں قبول اسلام کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب امریکہ کے لوگ ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اور اسلامی قوموں کے درمیان اس طرح کی قدیم عداوتیں نہیں ہیں جو مسلمانوں اور یورپی قوموں کے
اہل مغرب کو اسلام کی طرف متوجہ کرنے کے لئے سب سے بڑا ذریعہ قرآن ہے۔ قرآن کی دعوت اصل اسلام کی طرف ہے۔ مگر وہ قرآن کے حاملین کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتے اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسری قوموں کو اسلام کی طرف لے آئیں تو ہر چیز سے پہلے ضروری ہے کہ ان پر برہان قائم کریں ، اس طرح کہ ہم اسلام کی صفات پر عامل ورنہ ہم پورے مسلمان قرار نہیں پا سکتے ۔ قرآنی تعلیمات کے فضائل کے بارے میں سید افغانی نے فرمایا: قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے سب سے پہلے فلسفیانہ طریق سے حقائق تک پہنچنے کا راستہ بتایا۔ قرآن کی بیشتر آیات میں اس طرح کے سوالات قائم کئے گئے ہیں: ایسا کیوں، اور مخاطب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس کا معقول جواب دے۔ اور فلسفہ اس کے سوا کسی اور چیز کا
انھوں نے کہا: قرآن کے اترنے سے پہلے عرب کے لوگ انتہائی پست حالت میں تھے۔ مگر ان پر ڈیڑھ سو سال بھی نہیں گزرے کہ انھوں نے اپنے وقت کی آباد دنیا کو فتح کر لیا۔ اور دنیا کی قوموں سے سیاست، علم، فلسفہ، صنعت تجارت ہر چیز میں بڑھ گئے، اور بخدا یہ سب کچھ قرآن کا قرآن تنہا پچھلی قوموں کو کھینچنے اور ان کو ہدایت پر لانے کے لئے کافی تھا۔ وہی آج بھی جدید قوموں کو کھینچنے اور ہدایت دینے کے لئے بالکل کافی ہے۔
سید جمال الدین ایک بڑے عالم تھے اور اسلام اور مسلمانوں کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔ ان کی ذات سے لوگوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ مگر انھوں نے اپنی ساری توجہ سیاست کی طرف موڑ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی صلاحیتیں ضائع ہوگئیں۔
مجھے حیرت ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ صلات
کے مسلمانوں اور ان کے جرائد نے اپنی ساری توجہ سیاست کی طرف موڑ دی اور تربیت و تعلیم کے کام کو چھوڑ دیا جو کہ کہ ” ہم سیاست کو چھوڑ دیں اور حکومت کی نظروں سے دور جاکر نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کریں۔ اگر ہم ایسا کریں تو دس برس میں ہمارے پاس ایک ٹیم تیار ہو جائے گی اور وہ ساری دنیا میں اصلاح و تبلیغ کا کام نہایت کامیابی کے ساتھ انجام دے گی۔ انھوں نے جواب دیا: ” تم تو حوصلہ پست کرنے والی باتیں کرتے ہو۔ جمہوریہ لیبیا کے صدر معمر القذافی کی ” الکتاب الاخضر “، لیبی اعلان انقلاب کی بائبل سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کا پہلا اردو ترجمہ انشاء اللہ جلد ہی پیش کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ لیبی انقلاب اور جدید عرب دنیا کے بارے میں دوسری اہم کتابوں کے اردو ترجمے شائع کرنا بھی ادارہ کے پروگرام میں شامل ہے:
تفصیل اعلان آئندہ ملاحظہ فرمائیں الرسالہ بک ڈپو، ۱۰۳۶ ، کشن گنج ۔
یہ کیامیابی محض پر جوش اقدام کا نتیجہ نہ تھی بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے ذریعہ حاصل کی گئی بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے اس طرح کے الفاظ نے مسلمانوں میں عاقبت اندیشانہ اقدام کا ذہن پیدا حالاں کہ خود اس شعر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ ایک سوچی سمجھی پیش قدمی تھی نہ کہ محض ایک پرجوش چھلانگ ۔ ۱۶ھ میں اسلامی فوج سعد بن وقاص کی قیادت میں عراق کے علاقوں کو فتح کر رہی تھی۔ بہرہ شیر کو فتح کر کے جب وہ آگے بڑھی تو سامنے دریائے دجلہ تھا اور اس کے دوسری طرف مدائن جو ایرانیوں کا ایک اہم شہر تھا اور وہاں انھوں نے زبردست قلعہ بنا ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوائے دجلہ کے پل کو توڑ دیا تھا اور دور تک کوئی کشتی بھی نہ چھوڑی تھی جس سے اسلامی لشکر دریا کو عبور کر سکے۔
سعد بن وقاص اگلے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا :
نستعين بالله ونتوكل عليه حسبنا الله ونعم الوكيل ولا حول ولا قوة الا بالله العظيم ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین عظیم و برتر خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔
آپ کو دیکھ کر دوسروں کو بھی جرات ہوئی اور پورا لشکر اپنے گھوڑوں کے ساتھ دریا میں تیرنے لگا۔ یہ لوگ نصف سے زیادہ دریا پار کر چکے تھے کہ ایرانی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش شروع کر دی جو دریا کے دوسرے کنارے پہلے سے موجود تھے۔ دریا میں تیرتا ہوا لشکر اس ناگہانی آفت کا خود مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ پھر کا چیز تھی جس نے فوج کو برباد ہونے سے یہ کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ محض جوش کا کرشمہ تھا۔ یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی، جو کچھ ہوا، وہ عین اس نقشہ کے مطابق ہو جو پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔
صورت حال پیش آنے کے بعد سعد بن وقاص نے باقاعدہ مشورہ کیا۔ سعد بن وقاص جہاں نصرت الہی پر یقین کرتے ہوئے دریا میں کو دپڑے،وہیں وہیں انھوں نے حالات کا مکمل جائزہ لے کر اس آنے والی آفت کا بھی پیشگی اندازہ کر لیا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انھوں نے گھوڑا دریا میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو لشکر یوں سے فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے امکانی حملہ سے بچائے گا۔ عاصم بن عمرو نے اس کی ذمہ داری لی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی ایرانی تیر اندازوں نے دجلہ میں تیرتے ہوئے اسلامی لشکر پر تیر پھینکنے شروع کئے، عاصم بن عمرو کا دستہ فوراً متحرک ہو گیا۔ اس نے ایرانی تیر اندازوں پر اتنی قوت کے ساتھ مسلسل تیر برسائے کہ انھیں دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا، کثرت سے ایرانی مجروح اور ہلاک ہونے لگے حتی کہ بھاگ کھڑے اس درمیان میں اسلامی لشکر دریا پار کر کے دوسرے کنارے پہنچ گیا اور ایرانی لشکر پر سخت حملہ کر کے مدائن پر قبضہ کر لیا ۔