Al-Risala · October 1976

سبق آموز

Al-Risala, October 1976, pp. 37–43

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی پاکستان کے سابق گورنر امیر محمد خاں (متوفی ۱۹۶۷ء) نے یورپ میں زرعی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ صدر ایوب کی حکومت کے زمانہ میں پاکستان میں جو "سبز انقلاب" آیا تھا اس کا سہرا در اصل ملک امیر محمد خاں ہی کے سر ہے۔ اس وقت پاکستان کے غذائی وزرعی کمیشن کے صدر تھے اور بعد کو اپنی خدمات کے اعتراف میں گورنر بنا دیے گئے۔ وہ مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے۔ گورنر ہاؤس میں نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتے اور ان کے گھر کی خواتین ہمیشہ پردہ کے اندر رہتیں۔ جب پاکستان کے تیسرے منصوبہ میں خاںدانی منصوبہ بندی کے لئے ۳۰ کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تو انھوں نے اس کی سخت مخالفت بات بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب نے جھنجھلا کر کہہ دیا کہ اگر آبادی کی روک تھام نہ ہوئی تو ایک وقت وہ آئے گا جب اناج کی کمی کی وجہ سے ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو بھون کر کھائے گا خوشی صرف اس بات کی ہے کہ اس وقت میں زندہ نہیں رہوں گا۔

ملک امیر محمد خان نے ستمبر ۱۹۶۶ء میں گورنری سے استعفا دے دیا۔ اور اپنے آبائی وطن کالا باغ جہاں ان کے کھیت اور باغات تھے۔ ان کے گھر پر جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا ۔ ایک روز وہ خود اپنے بیٹے ملک محمد اسد خاں کے خلاف رائفل لے کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے پر گولی چلائی مگر وہ کندھے کو زخمی کرتی ہوئی نکل اب بیٹے کی باری تھی۔ اس نے چھ گولیاں اپنے باپ کے جسم میں اتار دیں۔ اور وہ وہیں موقع پر ختم ہو گئے ۔

وہ شخص جس نے خاندانی منصوبہ بندی کو ناجائز قرار دے کر گورنری کے عہدہ کو چھوڑ دیا تھا، بالآخر خود اپنے بیٹے کے خلاف بندوق لے کر کھڑا ہو گیا اگرچہ اس مقابلہ میں جوان بیٹا بوڑھے باپ پر غالب آیا اور نتیجہ بر عکس شکل میں برآمد ہوا۔ اگر آپ الرساله کے خریدار نہیں ہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ پرچہ آپ کی خدمت میں اس امید میں حاضر کیا گیا ہے کہ آپ اس کی خریداری قبول براہ کرم اپنا سالانہ چندہ بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیں تاکہ آپ کا نام الرسالہ کے باقاعدہ خریداروں میں درج کر لیا جائے۔ چندہ وصول نہ ہونے کی صورت میں روکریں نہیں چھاپا جائے گا۔

اگلا حصہ نہیں چھاپا جائے گا۔

چندہ سالانہ : ۲۴ روپے ۔ خصوصی چندہ: کم از کم ایک سوا یک روپیہ کیشن گنج ، دھلی ۶

مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴ء-۱۸۵۷ء) نے اسی برس پہلے اپنی کتاب الکلام میں لکھا تھا کہ ”دوسری دنیا“ کے وجود کو عقلی ذرائع سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے پہلے امام غزالی بھی یہی بات کہہ چکے ہیں مگر آج دوسری دنیا کا وجود اسی طرح ایک ثابت شدہ چیز بن رہا ہے جیسے ہماری موجودہ دنیا۔

اگلے صفحہ پر جو مضمون درج کیا جارہا ہے، وہ ایک نمونہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید سائنس نے کس طرح ان مذہبی حقائق کو ”عقلی طور پر ثابت کر دیا ہے جن کو اس سے پہلے صرف قیاسی بحث کا موضوع سمجھا جاتا تھا۔

سائنس کے طریقوں سے حقیقت کی تلاش کرنے والے اب اس رائے پر پہنچ رہے ہیں کہ کائنات ایک جوڑے کی شکل میں ہے۔ ہماری دنیا کے ساتھ ایک اور دنیا ہے جو اس کے متوازی اپنا وجود رکھتی ہے۔ وہ دنیا ہماری دنیا سے زیادہ پائیدار ہے مگر چوں کہ وہ ہمارے ورلڈ کا اینٹی ورلڈ ہے، اس لئے یہ دوسری دنیا ہم کو موجودہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔

یہ ٹھیک وہی بات ہے جو قرآن میں ڈیڑھ ہزار برس پہلے بتا دی گئی تھی۔ نے کہا تھا کہ ہر چیز کو اللہ نے جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔ تاکہ تم سوچو کہ جب ہر چیز کا جوڑا ہے تو اس دنیا کا جوڑا کہاں ہے جس سے مل کر وہ مکمل ہو سکے۔ (ذاریات - ۴۹) دنیا کا یہ جوڑا (آخرت) ۲۵ سال پہلے تک صرف ایک قیاسی چیز تھی، اب جدید علم نے خالص سائنسی طریقوں سے اس کے وجود کو معلوم کر لیا ہے، اس طرح کی بے شمار دریافتیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں الحاد کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیا ہے اور اگر ان کی مدد سے نیا علمِ کلام مرتب کیا جائے تو وہ قدیم علمِ کلام کے مقابلہ میں ایسا ہی ہوگا جیسے تلوار کے مقابلہ میں ایٹم بم۔

یہاں ایک اور مخفی دنیا ہے جو ہماری دنیا کے متوازی موجود ہے ۱۹۲۸ تک طبیعیات داں یہ سمجھتے تھے کہ تمام ایٹم صرف دو قسم کے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں، مثبت برقی چارج رکھنے والے پروٹان اور منفی برقی چارج رکھنے والے الیکٹران۔ مگر داںی سال پال اے ایم ڈیراک Paul A. M. Dirac نے، جو ایک انتہائی تخلیقی قسم کا ریاضیاتی طبیعیات داں تھا ذرات کا ایک نیا نظریہ پیش کیا اور ایک نئے قسم کے ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جو اب تک تجرباتی طبیعیات دانوں کے لئے لامعلوم تھا اس نے کہا کہ "اس کا مقدار مادہ الیکٹران جیسا ہے۔ اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ ہم اس ذرہ کو اینٹی الیکٹران کہہ سکتے ہیں" ۱۹۳۲ میں یہ اینٹی الیکٹران دریافت اس کو کے، اینڈرسن (K. Anderson) نے کاسمک شعاعوں میں دریافت کیا اور اس کا نام پازیٹران یہ پہلا اینٹی پارٹیکل تھا جو انسان کے علم میں آیا۔ وقت سے اب تک ۳۵ سے زیادہ ایلیمنٹری پارٹیکل ایٹم کے اندر دریافت ہو چکے ہیں اور اگر تمام نیو کلییر واقعات کو شمار کیا جائے تو یہ تعداد ۲۰۰ تک پہنچ جائے گی بشمول ان کے اینٹی پارٹیکل کے کیونکہ ایٹم کے ہر پارٹیکل کا ایک اینٹی پارٹیکل پروٹان ایک اینٹی پروٹان رکھتا ہے نیوٹران کا ایک اینٹی نیوٹران ہے اور اسی طرح دوسرے۔ صرف تین انتشار اب تک معلوم ہو سکے ہیں: فوٹون اور دو قسم کے میسان۔ مگر ان کی حیثیت خود اپنے ہی اینٹی پارٹیکل کی ہے۔ ذراتی جوڑوں (Pair Particles) کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ ایک دوسرے کو فنا کر دیتے ہیں۔ مگر فنا کا مطلب مادہ کا بالکل فنا ہو جانا یں ہے، جیسا کہ بعض فلاسفہ غلطی سے طبیعیات میں "فنا" کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ مادہ رکھنے والا ایلیمنٹری پارٹیکل مادہ یا انرجی کی کسی دوسری صورت میں تبدیل ہو جائے۔ یہ پروٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے جو کہ زیرو مادہ کی حالت میں رہتا ہے۔ طور پر جب ایک پازیٹران اور ایک الیکٹران ٹکراتے ہیں، وہ فی الفور ایک دوسرے کو فنا کر کے دو فوٹان پیدا کر دیتے ہیں، اس سے یہ نکلتا ہے کہ ایک ایٹم اور ایک اینٹی ایٹم کا ٹکراؤ نہایت زبردست مقدار میں انرجی خارج کرے گا۔ مادہ اور اینٹی مادہ کا فنا ہونا، یورینیم کے ذریعہ پیدا کی جانے والی انرجی کا ایک ہزار گنا اور تھرمو نیوکلیئر کا ۳۳ گنا زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔ ایک دن آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ اس کبھی نہ ختم ہونے والے ذریعہ توانائی پر قابو پالے۔ جب ایک بار اینٹی پارٹیکل کو مان لیا گیا اور ان کا وجود محقق ہو گیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوا کہ سائنسی فکر اینٹی نیوکلیس اور اینٹی ایٹم کی طرف مڑ گیا۔ ایک اینٹی ہائیڈر و جن ایٹم میں منفی برقی چارج رکھنے والا ایک اینٹی پروٹان ہوگا اور اس کے گرد مثبت برقی چارج نہ رکھنے والا الیکٹران (پازیٹران) اس کے گرد گھوم رہا ہوگا۔ ڈیوٹریم، ہائیڈ روجن کا ایک آئیسو ٹوپ ہے جس کے نیو کلیس میں ایک پروٹان اور ایک نیوٹران اب اینٹی ڈیوٹریم کا نیو کلیس ایک اینٹی پروٹان اور ایک اینٹی نیوٹران پر مشتمل ہوگا۔ زیادہ دن نہیں گزرے کہ سائنس اس اس قسم کا اینٹی ڈیوٹریم پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ طرح اینٹی آکسیجن، اینٹی آئرن وغیرہ کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ فطری طور پر اس کے بعد دوسرا قدم انٹی میٹر اور اینٹی ورلڈ ہے۔

ہماری دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم ( Unstable ) حالت میں ہیں ، مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم ( Stable ) ورلڈ کو بنانے کے لئے الگ الگ ہو گئے ہوں گے۔ یہ نظریہ پہلے سویڈش طبیعیات داں اوسکر کُلیَن (Oskar Klein) نے پیش کیا حالت میں ہوں گے کیونکہ تمام ایٹموں کے نیو کلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج ۔ اینٹی ورلڈ کی موجودگی کوئی بعید از قیاس بات نہیں در حقیقت اس قسم کے ایک اینٹی ورلڈ کے موجود ہونے کا امکان پہلی بار ۱۹۳۳ء میں ڈیراک نے اپنے لیکچر میں بیان کیا تھا مگر اب اس کے بعد اس کی بنیاد پر مشہور طبیعی فلکیات داں ہنیز الفون (Hannes Alfven) نے 1963ء میں ایک تفریقی میکانزم کا امکان ظاہر کیا جس کے ذریعہ ایک ہی کہکشاں میں میٹر اور اینٹی میٹر دونوں موجود رہتے ہیں۔ مگر ابھی تک تفریقی میکانزم کا کوئی طریقہ وضع نہیں ہو سکا ہے جس کے مطابق ہماری کسی معلوم تک کوئی سائنس داں اس کی نشان دہی نہیں کر سکا۔

اس راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ اپنی دنیا میں دور کی چیزوں کو کوسم فوٹان کی مدد سے پہچانتے ہیں جو کہ برقی مقناطیسی شعاؤں کے ذرات ہیں۔ اینٹی ورلڈ ، انٹراسکول وجود ہے تو وہ بھی اسی قسم کے فوٹان کا اخراج کرتی ہوگی جو کہ بیک وقت پارٹیکل بھی ہیں اور اینٹی اینٹی ورلڈ ، وہ دور ہو یا نزدیک ، اس کی روشنی فوٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے کہ مسلسل ہم تک پہنچ نہ رہی ہو۔ مگر ہم اس کو اپنے پازیٹو ورلڈ کی چیزوں کی روشنی سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ اصولی طور پر نیو ٹرینو کو ہمیں اینٹی ورلڈ کو جاننے میں مددگار ہونا چاہئے۔ مگر یہ نیو ٹرینو نیز اینٹی نیو ٹرینو بہت زیادہ گریز صفت ذرات ہیں اور ان کو پکڑنا انتہائی مشکل ہے۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے۔ صرف پارٹیکل اور اینٹی پارٹیکل کے حساب سے اضافی نہیں ہے بلکہ میٹر اور اینٹی میٹر کے حساب سے بھی اضافی ہے تو ایک نیا اینٹی میٹر سے ترکیب یافتہ موجود ہونا چاہئے۔ تخلیق کے بارے کہکشاں کے قریب کوئی اینٹی کہکشاں موجود ہو یا ہماری دنیا سے متصل کوئی اینٹی دنیا پائی جاتی ہو۔

اب تک ہم نے ایک اینٹی ورلڈ پر غور کیا ہے جس میں صرف مادہ منفی ہوتا ہے۔ یہ ڈیراک کا اینٹی ورلڈ ہے۔ مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں، تمام مادہ، تمام اجسام مکاں میں حرکت کرتے ہیں اور زماں میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ ہماری دنیا میں یہ تینوں اجزار ـــ مادہ، مکاں اور زماں ــــ مثبت ہیں۔ ڈیراک کے اینٹی ورلڈ میں جس کو ہم تلاش کر رہے ہیں، صرف مادہ منفی ہوگا جبکہ مکاں اور زماں مثبت ہوں گے۔ مگر الجبرا کے عمل کی منفی مقداروں کی طرح ہم منفی زماں اور منفی مکاں کے امکانی وجود کو بھی سوچ ایسی حالت میں تینوں اجزار ــــ مکاں، زماں اور مادہ ــــ اینٹی ورلڈ کے سات الگ وجود بنائیں گے ہماری مثبت دنیا (پازیٹو ورلڈ) کو ملا کر کل تعداد آٹھ ہو جائے گی۔ کے سات وجودوں میں سے ایک، جس میں مکاں، زماں اور مادہ سب منفی ہیں، بظاہر سب سے زیادہ یقینی اینٹی ورلڈ ہے۔ سوویت یونین کے ڈاکٹر گستاف نان Gustav Naan میں عظیم دھما کہ (Big Bang) کا نظریہ فرض کرتا ہے کہ تقریباً ۱۰ سے ۲۰ بلین سال پہلے سارا مادہ منجممد حالت میں ابتدائی ایٹم کی شکل میں تھا اور فوٹان انرجی پر مشتمل تھا۔ کائنات واقعی متناسب ہے تو عظیم دھماکہ کے ساتھ فوٹان، میٹر اور اینٹی میٹر کی صورتوں میں مجتمع ہو گئے ہوں گے اور فنڈ منٹل انٹی نے اس مکمل طور پر سچی ایلینی ورلڈ کی ریاضیات کے ذریعہ ایسی ٹھوس احاطہ بندی کردی ہے کہ اس کے مخالفین تک اس کو انتہائی زبردست قسم کا متوازن تصور مانتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹان کے ایلینی ورلڈ میں ہر چیز مکان ، زمان اور مادہ ۔ کے مخالف سمت میں بھاگ رہے ہیں ۔ نظریاتی طور پر یہ ناممکن

مقناطیس کا ہر ٹکڑا اپنے دونوں سروں پر ایک دوسرے کی ضد ہونا ہے۔ ایک سرے کو ساؤتھ پول (قطب جنوبی) اور دوسرے سرے کو نارتھ پول (قطب شمالی) کہتے ہیں۔ مقناطیس کے دو ٹکڑے لیجئے ۔ اگر آپ دونوں کے ساؤتھ پول کو آمنے سامنے کریں تو وہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے اور اگر ایک ساؤتھ پول دوسرے کے نارتھ پول کے سامنے لائیں تو وہ ایک دوسرے سے چمٹیں گے ۔ حیوانات کے نر و مادہ سے لے کر ایٹم کے مثبت اور منفی ذرات تک ہر جگہ یہی اصول جاری ہے۔ ہر چیز اسی لئے " ایک " ہے کہ وہ " دو " ہے ، اگر دو نہ ہو تو ایک بھی نہیں ۔ اس قسم کے اینٹی ورلڈ میں وہی طبیعیاتی قوانین ، بالفاظ دیگر فطرت کے قوانین ، منطبق ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم موجودہ دنیا میں جانتے ہیں۔ یہ انقلابی قسم کا اینٹی ورلڈ کہاں ہے۔ کیا وہ آج موجود ہے، کیا وہ ’’عظیم دھماکہ ‘‘ کے ابتدائی ایٹم سے پہلے موجود اس ایک اینٹی ورلڈ کی موجودگی کو ہم بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں، قبل اس کے کہ وہ ابتدائی ایٹم کی صورت میں منجمد ہوا ، ہر چیز الٹی شکل میں تھی۔ تب ایک انقلاب عظیم برپا ہوا زماں رک گیا اور اینٹی ورلڈ نے پازیٹو ورلڈ کی صورت اختیار کی جو کہ آج ہماری دنیا ہے۔

اس قسم کی ایک صورت حال کے لئے کوئی چیز تا ممکن مگر ڈاکٹرنان کا کہنا ہے کہ اس کو طبیعیات کے معلوم نظریات اور قوانین کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکا۔ ان کا یقین ہے کہ وہ مختلف دنیا آج بھی موجود ہے مگر وہ ہم سے آزاد اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ کیا کوئی مواصلاتی سلسلہ ہے جس کے ذریعے سے ہماری دنیا اینٹی ورلڈ سے تعلق قائم کرتی ہے۔ اور انرجی لاشے (Nothing) سے پیدا نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنا کوئی نشان چھوڑے بغیر مٹ جائیں۔ مگر ایک ’’ بلیک ہول ‘‘ کے بارے میں غور کرو۔ بلیک ہول ایک ختم شدہ ستارہ ہے جس کی طاقت ور کشش ثقل اس کی روشنی لیا جا سکتا ہے۔ مگر بہت سے فلکیات داں یقین رکھتے ہیں کہ کویسار (Quasars)، پلسار (Pulsars) در حقیقت بلیک ہول ہیں جو گیسوں کی اکسرے شعاعوں کے پھٹنے سے اپنے وجود کو بتا رہے ہیں۔

امکانی طور پر کائنات میں وھائٹ ہول بھی ہیں۔

ان کے ذریعہ سے مادہ یا شعاعیں بالکل غیر متوقع طور پر خلا میں بکھر سکتی ہیں۔ مگر کیا بلیک ہول اور وھائٹ ہول میں کوئی رشتہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی سلسلہ ہو جو دونوں کو جوڑ رہا ہو۔ ممکن ہے کہ جو مادہ ایک بلیک ہول سے غائب ہو جاتا ہے، وہ دوبارہ ایک وھائٹ ہول میں ظاہر ہو جاتا ہو۔ ڈاکٹر نان کا خیال ہے کہ بلیک اور وھائٹ ہول کو ورلڈ اؤ اینٹی ورلڈ کے درمیان ایک مقامی واسطہ سمجھنا چاہئے۔ اب تک یہ سب کچھ مفروضہ ہے۔ نان کے اینٹی ورلڈ میں منفی انرجی رکھنے والے اجسام مخالف زمانی رخ پر سفر کرتے اس طرح وہ ایک زمان معکوس کی کائنات ہے۔ یونیورس اور اینٹی یونیورس دونوں ایک دوسرے سے بندھی ہوئی اور باہم متعلق ہیں، ہر دنیا دوسری دنیا کے مقابلہ میں ایک اینٹی ورلڈ ہے۔ یہ ایک قسم کا اتحاد اور باہمی نفی اور اتحاد اور اپنے مخالف سے مقابلہ کی صورت ہے۔ سکڑتی ہے اور پھیلتی ہے اور سی کائنات کے واقعات کا تک کو نکلنے سے روک دیتی ہے اور اس طرح اس کو ناقابل دید بنا دیتی ہے۔ اب تک کوئی بلیک ہول مثبت طور پر شناخت نہیں اصل سر چشمہ ہے۔

ویکلی لنک ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۵ء

جب تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو جائیں ابو علی محمد بن علی بن مقلہ (۳۲۸ - ۲۷۲ھ)

ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والا فن کار تھا۔ اس نے قدیم عربی خط (خط کوفی) میں اصلاحات کر کے اس کو حسین اور طبع بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔ ابتدا میں وہ عباسی حکومت کے ایک دفتر میں چھ دینار ماہوار پر منشی تھا۔ پھر اس کا فنی کمال اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ مسلسل تین بادشاہوں کا وزیر بنتا رہا۔ مقتدر باللہ عباسی (۳۲۰ - ۲۸۲) کا، پھر اس کے بھائی قاہر باللہ (۳۲۲ - ) کا، اس کے بعد راضی باللہ (۳۲۹ - ۲۹۷) کا۔ واضح ہو کہ ”وزیر“ قدیم زمانے میں وزیر اعظم کے ہم معنی ہوتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد بن عباس وزیر تھا۔ اس کے ساتھ اس نے علی بن عیسی الجراح کو نائب وزیر بنایا تو لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر یہ ہے۔ اعجب من کل ما رأينا ان وزيرين في بلاد سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط بہت پہلے اپنے معراج کمال کو پہنچ جاتا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری ایجادیں جو اس کے بہت بعد سامنے آئیں اسی کے زمانے میں وجود میں آگئی ہو تیں ۔ مثال کے طور پر کاغذ ابن مقلہ سے آٹھ سو برس پہلے ۱۰۵ء میں چین میں ایجاد ہوا۔ اس کا ایجاد کرنے والا سانی لون تھا جو ابن مقلہ کی طرح چینی شہنشاہ ہوئی کا روسی ترکستان میں عربوں اور چینیوں کی جنگ میں کچھ چینی قیدی جو مسلمانوں کے ہاتھ آئے وہ کاغذ بنانا سمرقند میں ان سے کاغذ بنوایا گیا۔ اس کے بعد ۷۹۵ء میں دستی کاغذ کی صنعت بغداد میں قائم ہوئی۔ تاہم مشین کے ذریعے کاغذ بنانے کا کام پہلی بار ۱۷۵۰ء ، ۶۱ میں ہالینڈ میں کیا مسلسل رول کی شکل میں کاغذ بنانے کی صنعت ۱۸۹۸ء میں فرانس میں شروع ہوئی۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس پہلی بار غالباً چینیوں نے ۷۷۰ء میں دریافت کیا۔ یہ ابن مقلہ (۸۸۵-۹۴۰ء) کی پیدائش سے ۱۱۵ سال پہلے کا زمانہ پرنٹنگ کا قدیم ترین نمونہ اس سے بھی پہلے پانچویں صدی عیسوی کا چین میں دریافت ہوا ہے۔ یورپ میں ترقی یافتہ پرنٹنگ پریس ۱۵ ویں صدی میں گوٹن برگ نے بنایا اور بائبل تاہم مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس نپولین کے ذریعے ۱۷۹۸ء میں پہلی بار مصر پہنچا۔

ابن مقلہ جو نہ صرف فن تحریر کا ماہر تھا بلکہ حیرت انگیز تخلیقی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگر وہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو اپنے میدان میں لگاتا تو کاغذ اور چھپائی اور اس طرح کی دوسری نعمتیں جو عالم اسلام کو بہت بعد کو ملیں شاید ابن مقلہ کے زمانہ ہی میں اس کو مل چکی ہوتیں ۔ مگر وہ اس پر قانع نہ رہ سکا کہ اپنے آپ کو مخصوص میدان میں محدود رکھے۔ وزارت کے ملے ہوئے مواقع کو وہ تحریر اور کاغذ اور چھپائی کی ترقی میں استعمال کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری کی طرف چھلانگ لگانے کے لئے ایک زینہ کے طور پر استعمال ابن مقلہ جب وزیر کے منصب پر پہنچ گیا تو اس کے ساتھ وہی حادثہ ہوا جس سے وہ لوگ بہت کم بچتے ہیں جن کو حالات کسی بلند مقام پر پہنچا دیں ۔ اس کے فنی جو عیا اب سیاست

عزائم میں تبدیل ہو گئے ۔ خاموش تعمیری کاموں میں مشغول رہنے کے بجائے وہ سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابنِ مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کئے ۔ وہ کہتا تھا : " وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسولِ اللہ ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا حکمران بنا دیا جائے ۔ راز کھل گیا ۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونس خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوا دیا گیا۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چین کی فلاں فلاں حدیثیں لکھیں، جس نے مشرق و مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔ ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جد و جہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی دیا گیا تھا۔ تاہم ابن مقلہ کی نہانت اس کے کام آئی۔ ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کرلی۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لئے مسائل پیدا کئے۔ یہاں تک کہ راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کرکے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا۔ اس میں سے ایک شعر یہ تھا: لیس بعد الیمین لذة عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی ایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں ، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا۔

ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی ۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے مواقع کو برباد کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انہیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

Printed page