Al-Risala · October 1976

پتھرائے ہوئے درخت

Al-Risala, October 1976, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

پانڈیچری سے ۱۳ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے یہاں قدیم زمانہ سے درختوں کے تنے کی شکل کے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ عوام کا خیال تھا کہ یہ بھوتوں یا راکشوں کی ہڈیاں ہیں جن کو وشنو بھگوان نے ہلاک کیا تھا۔ حال میں ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ دراصل فالس (FOSSILS) ہیں۔ قدیم زمانہ کے درختوں کے پتھرائے ہوئے تنے۔ اندازہ ہے کہ یہ درخت ۲۰ ملین سال پہلے پائے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک شجری فانسل نومبر ۵ ۱۹۷ء میں نئی دہلی لایا گیا اور یہاں نیشنل میوزیم میں عام نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ ان پتھرائے ہوئے درختوں پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا ۔

کے پاس جانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں بھوت انھیں پکڑ اب وہ تاریخ فطرت کے ایک صفحہ کی حیثیت سے ان کو دیکھیں گے اور ان سے زمین کے قدیم حالات کا اندازہ

ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سیاست کی نذر ہو گیا آخر میں انھوں نے تعمیری کام کرنا چاہا مگر اب موت کا وقت آ پہنچا تھا۔

Printed page