Al-Risala · October 1976

طرابلس کی ایک تقریر

Al-Risala, October 1976, pp. 49–50

By Maulana Wahiduddin Khan

طرابلس کے دو ماہ قیام (فروری مارچ ۱۹۷۶ء) میں وہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کو تقریبا ایک درجن مواقع پر خطاب کرنے کا یہاں ایک تقریر کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔ یہ ۲۰ مارچ کو کی گئی تھی اور خود ہمارے لئے بھی سبق آموز ہے۔ طرابلس کے متحف (میوزیم) میں ایک بکری رکھی ہوئی ہے جس کی گردن کے اوپر دوسر ہیں۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا، اگر ایک شخص اس کو دیکھ کر آئے اور آپ اس سے پوچھیں کہ سب سے عجیب چیز متحف میں تم نے کیا دیکھی۔ تو شاید وہ جواب دے گا کہ ”دوسروں والی بکری“۔ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے سب سے عجیب چیز جو دنیا میں دیکھی وہ دوسروں والے طرابلس کے متحف میں تو صرف ایک ایسی بکری ہے جس کے دوسر ہیں۔ مگر میں نے اپنی ساری عمر میں جتنے انسان دیکھے سب دوسرے رکھنے والے انسان تھے۔

آپ شاید تعجب کریں۔ ممکن ہے آپ میں سے کوئی کہے کہ اس شخص کو تقریر کی مجلس میں کھڑا کرنے کے بجائے آنکھ کے اسپتال میں بھیجنا چاہئے۔ آپ جو بھی سمجھیں۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ مجھے کوئی ایک سرکا انسان دکھائی نہیں دیتا۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کو مثال سے سمجھیے۔ آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے۔ کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر بی، ایس، سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کو ایف آر سی ایس کرنے کے لئے لندن ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ

جو بات ایک شخص اپنی ذات کے بارے میں جانتا ہے وہی بات قوم کے بارے میں بھول جاتا ہے آپ میں سے کوئی شخص ایسا یں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ بعد جب وہ ۲۵ برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پر جوش تقریریں شروع کر دے، وہ حکومت کو تار بھیجے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو " پس ماندہ " قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کر لو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔

مگر یہی بات جو ہر آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں جانتا ہے، قومی معاملہ میں نہ وہ اس سے بے خبر ہے، جہاں کسی شخص کو قوم کا درد اٹھا اور وہ اصلاح کے میدان میں کھڑا ہوا، فوراً ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک اور سر پیدا ہو گیا ہے جو بالکل دوسرے ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ اب وہ " تیاری" کے بجائے " مطالبہ " کو کامیابی کا راز سمجھنے لگتا ہے۔ مفروضہ حریف کے خلاف پر جوش تقریریں کرنا، تار اور میمو رنڈم بھیجنا، مطالبات کے ریزولیوشن پاس کرنا، بین الاقوامی اداروں میں اپنا کیس لے جانے کی اسکیمیں بنانا، یہی اس کی تمام سرگرمیوں کا خلاصہ وہی شخص جو اپنی اولاد کے بارے میں جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس طرح ملتی ہے کہ پہلے اس کے لئے صلاحیت اؤر استعداد پیدا کی جائے، وہی شخص قوم کی اولاد کے بارے میں اپنی ساری سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بناتا ہے گویا تقریر اور مطالبات ساری کامیابیوں کا راز ہیں۔ یہ لا حاصل جد و جہد بالآخر جب ناکام ہو جاتی ہے تو وہ بہت نہیں ہارتا۔ اب وہ اپنی مطالباتی مہم کو جاری رکھنے کے لئے نیا لفظ ڈھونڈ لیتا ہے: "ہم کو پس ماندہ قرار دے کر استحقاق کے بغیر ہی تمام مناصب پر بٹھا دو" ایسے لوگوں کو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ دوسرا رکھنے والے لوگ ہیں۔

اس مزاج کے معاملہ میں کسی مسلم قوم کی کوئی خصوصیت نہیں، ہر علاقہ کے مسلمان اسی دہری ذہنیت کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا دوسراسر ایک کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی کا دوسرے کے خلاف۔

مزید حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ بولنے والوں کو لوگ رہنما سمجھتے ہیں اور ان کو قائد ملت، مجاہد قوم امام العالم جیسے خطابات سے نوازتے ہیں۔ گویا خواص ہی نہیں خود عوام بھی دوسرا رکھنے والے لوگ ہیں۔ ایک ذاتی معاملہ کے لئے دوسرا قومی معاملہ کے لئے کوئی نہیں جو ایک سر سے سوچنا ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ میں نے اپنی عمر میں جتنے انسان دیکھے، سب دوسرا والے انسان دیکھے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔

Printed page