ایک واقعہ
Al-Risala, October 1976, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو بکر بن عباس خوارزمی (۳۸۳ھ) ذہانت و حافظہ میں ضرب المثل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ارجان میں صاحب بن عباد وزیر سے ملنے گئے۔ دروازہ پر پہنچے تو دربان اندر گیا اور صاحب سے جاکر کہا کہ دروازہ پر ایک ادیب آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ وزیر نے کہا ان سے کہو۔ یہ میں نے طے کر لیا ہے کہ میرے پاس کوئی ادیب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اسے عرب کے ۲۰ ہزار اشعار زبانی یاد نہ ہوں" خوارزمی نے یہ بات سنی تو دربان سے کہا کہ جاؤ ان سے دریافت کرو کہ ۲۰ ہزار اشعار مردوں کے یا عورتوں کے۔
یہ سنکر وزیر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا۔ " یہ ابو بکر خوارزمی معلوم ہوتے ہیں" اور فوراً اندر بلا لیا۔
ان کا مقصد اللہ کے بچھڑے ہوئے بندوں کو اللہ سے ملانا تھا جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی ی اللہ عنہ کو خیبر فتح کرنے کے لئے بھیجتے ہیں حضرت علی رضی نے پوچھا۔ "یا رسول اللہ! کیا جاتے ہی قتال شروع حضور نے فرمایا۔ " وہاں جاکر ٹھہرو اور لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی طرف بلاؤ۔ اگر نہ مانیں تو دوسرا معاملہ کرنا، اس لئے کہ لان یهدی الله منك لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرنا تھا رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر نوے لاکھ مسلمان ان کے پاس کیا تھا ؟ کوئی فوج تھی ؟ اللہ کی معرفت کا خزانہ تھا۔ ہر جگہ اللہ کے سچے بندے رجلاً خير لك من الدنيا ومافيها۔ آدمی کو بھی تمھارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہدایت کر دے تو وہ تمھارے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ روایت میں ہے کہ تم کو جوان اونٹوں کے ملنے سے بھی یہ بہتر ہے۔ مولاناسید حسین احمد مدنی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رض عرب سے کیوں نکلے ؟ وہ عراق میں شام، ایران، افغانستان سندھ، یوپی، بہار اور جنوب میں دکن تک پہنچے۔ یہاں تک کیوں پہنچے ؟ ان کا مقصد کیا تھا ؟ کیا ملک فتح کرنا تھا ؟ لوٹنی تھی ؟ ہرگز نہیں ! ان کا اصلی مقصد صرف لا الہ الا اللہ کی دعوت دینا تھا۔ دنیا کو سچے دین پر لانا تھا۔ اللہ کے بچھڑے ہوئے بندوں کو اللہ سے ملانا اور دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرنا تھا۔ بعد والوں نے بے وقوفوں کی کہ دنیا کے سمجھ بیٹھے۔ گزرے ہیں جنہوں نے دین کی تبلیغ کی۔ میں نے تاریخ ترکی میں دیکھا کہ ترک قوم کے تین لاکھ خاندان ایک دن میں مسلمان ہوئے۔ اللہ کا کرم کہ تبلیغ کی کوشش وہ پھل لائی کہ ایک زمانے میں بعض حکام کو یہ تدبیر کرنی پڑی کہ وہ اپنی رعایا کو مسلمان ہونے سے روکیں میں خلافت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں خراسان کے حاکم کو یہ خطرہ ہوا کہ جزیہ بند ہونے سے خزانہ خالی ہو جائے گا۔ اس لئے اعلان کرنا پڑا کہ کسی کا اسلام اس وقت تک قبول نہ کیا جائے گا۔ تک کہ وہ ختنہ نہ کرلے۔ بوڑھوں کے لئے تکلیف دہ اس حکم کے جاری ہونے سے اسلام کی ترقی رک گئی۔ اب خلیفہ کو اطلاع ملی کہ والی خراسان نے اسلام پر پابندی لگا دی ہے تو آپ نے اس کو معزول کر کے دوسرے کو مقرر کر دیا۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ اس کو پے پے پے پے کر دیا۔ کیا رہ گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہند میں باہر سے آنے والے مسلمانوں کی تعداد صرف چار یا پانچ لاکھ تھی مگر تقسیم ہند کے وقت دس کروڑ پچیس لاکھ مسلمان تھے ۔
ہمارے بزرگ اسلاف نے اور اولیاء کرام نے تبلیغ دین کے لئے بہت ہی کوششیں کیں۔ انگریز سمتھ لکھتا ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی لیا ظہور ہی اللہ تعالیٰ کے آنے کے اس پر اسلام کو موقوف رکھا جائے ؟
ہمارے اسلاف کی کوششوں سے اہلِ اللہ علماء کرام اور عام مسلمانوں کی کوششوں سے دس کروڑ پچیس لاکھ مسلمان ہو گئے۔ اگر غلط کاری نہ ہوئی ہوتی تو یقیناً ملک کا اکثر حصہ مسلمان ہو جاتا۔ تقریر بمقام آرکونم (مدراس) ۲۶ جولائی ۱۹۵۷ء