Al-Risala · October 1976

ایک سفر

Al-Risala, October 1976, pp. 53–91

By Maulana Wahiduddin Khan

وی ۱۹۷۶ کونئی دہلی کے سفارت خانہ کے پریس ایڈوائزر نے مجھے بتایا کہ حکومتِ لیبیا نے آپ کو ندوة الحوار الاسلامی مسیحیی (۱-۵ فروری ۱۹۷۶ء) میں شرکت کے لئے مدعو کیا ہے۔ ۲۲ جنوری کو لیبی سفیر ڈاکٹر رجب التروق سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فوراً ہی ویزا اور ضروری کاغذات دے دیے۔ دیگر رسمی کارروائیوں سے گزرنے کے بعد ۳۰ جنوری کو ایئر انڈیا کے بوئنگ ۷۴۷ سے روانگی ہوئی کویت اور روم ہوتے ہوئے یکم فروری کو ہم طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اترے۔

اس قسم کا سفر میرے لئے ہمیشہ وحشت کا باعث ہوتا ہم دہلی کے ہوائی اڈہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور صنعتی پنجروں‘‘ کی زندگی شروع ہوگئی۔ ہوائی اڈہ سے ہوائی جہاز میں، ہوائی جہاز سے کار میں، کار سے ہوٹل میں، ہوٹل سے آڈیٹوریم میں۔ غرض صنعتی تمدن کے پیدا کردہ خوبصورت پنجروں کا ایک غیر مختتم سلسلہ تھا اور ہم ایک سے دوسرے میں منتقل ہورہے تھے۔ مشینوں کے معجز ے سائنسی کاریگری کے جلوے اور ٹکنکل ترقیوں کے کمالات کے درمیان خود انسان ایک غیر اہم وجود بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر ترقی یہی ہے تو یہ ترقی انسان کو انتہائی مہنگی قیمت پر ملی ہے۔ کھلی دھوپ، تازہ ہوا اور قدرت کی فضا سے محروم ہوکر ہم ایک مصنوعی زندگی میں بند ہو گئے ہیں۔ یہ زندگی بظاہر کتنی ہی حسین اور چمک دار نظر آتی ہو وہ ہماری فطرت کے مطابق نہیں۔ انسان جب قدرتی ماحول میں ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ سے بھی قریب ہوتا ہے اور خدا سے جب کہ صنعتی تمدن کے ماحول میں وہ دونوں چیزوں سے دور ہو جاتا ہے۔

مختلف مذاہب کے مشترکہ اجتماعات میں اسلام کی نمائندگی کرنے کا موقع مجھے کئی بار ملا ہے : آل مذاہب کانفرنس ، سیو ہاره (بجنور) نومبر ۱۹۵۹ء ور شو دھرم سمیلین ، الہ آباد مئی ۱۹۶۰ء ورلڈ فیلو شپ آف ریلیجنز ، نئی دہلی فروری ۱۹۶۵ء مذہب، اخلاق، قانون پر انٹرنیشنل سیمینار ، نئی دہلی دسمبر ۱۹۷۳ ندوۃ الحوار الاسلامی المسیحی ، طرابلس فروری ۱۹۷۶ء طرابلس کے سیمینار کی خصوصیت یہ ہے کہ اس موقع پر دنیا کے دوسرے بڑے مذاہب اس لئے جمع ہوئے کہ وہ باہم اتفاق کی بنیادیں تلاش کریں اور ایک مسیح کے الفاظ میں " ماضی کو غرفتہ المحفوظات میں ڈال دیں " اگر چہ یہ اتفاقیہ ہے کہ اس قسم کی کسی کوشش سے فائدہ وہی گروہ اٹھا سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنی کوئی مثبت جدوجہد منظم کر چکا ہو اور اس کو باقاعدہ چلا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ویٹیکن نے اس موقع پر حکومتِ لیبیا سے یہ اجازت حاصل کر لی کہ وہ بن غازی میں اپنا ایک چرچ قائم کرے۔ جب کہ مسلمان اس سیمینار سے اس قسم کا کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ سیمینار کا خاص مقصد دونوں مذاہب کے درمیان متفقہ بنیاد تلاش کرنا تھا۔ سب سے زیادہ طویل گفتگو جس مسئلہ پر ہوئی وہ یہ کہ مذہب کا تصور کیا ہے۔ مسلم جانب کا زور اس پر تھا کہ مذہب ایک مکمل قانون ہے۔ تمام معاملات اس کے دائرہ میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس مسیحی جانب کا کہنا تھا کہ مذہب ایک روحانی چیز ہے ، وہ بطور ایک قوت محرکہ کے انسان کی سرگرمیوں میں شامل رہتا مگر قوانین و ضوابط کی شکل میں وہ اپنا کوئی مخصوص مقام کچھ لوگوں نے یہ بحث چھیڑ کر مجلس میں کافی گرمی پیدا کی کہ عیسائی حضرات فلسطین اور اس قسم کے دوسرے معاملات میں کھل کر مسلمانوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ " اس قسم کے میں نے اپنے گھر میں اس پر زور دیا کہ اس کام کے سلسلے میں اقدامات ہیں۔ ملاقات میں سرہ کے

تمام مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصل سوال اسلام کے مذہبی استناد کو تسلیم کرنے کا ہے جس کا عیسائی حضرات اب تک انکار کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ایسے عیسائی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ان کا یہ ماننا انفرادی طور پر ہے۔ نے ابھی تک اس کو نہیں مانا ہے۔ لیبیا کے ایک پادری نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ میں حضرت محمد کو سچا رسول مانتا مگر ویٹیکن کے نمائندہ نے یہ کہہ کر اس کی تردید کر دی کہ یہ ان کی انفرادی رائے ہے۔ تاہم اس نے کہا کہ ویٹیکن نے ایک کمیٹی خاص اس مقصد کے لئے مقرر کی ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا ہم حضرت محمد کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کر سکتے ہیں۔

راقم الحروف نے اپنے مقالہ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ وہ بنیادی نکتہ جہاں سے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، وہ ”فارقلیط“ کی تعبیر کا اختلاف ہے۔ یوحنا کی انجیل صاف طور پر بتاتی ہے کہ حضرت مسیح نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میرے بعد خدا ایک تسلی دہندہ (یا ستودہ صفات) بھیجے گا جو ابد تک تمھارے ساتھ رہے گا۔ وہ کل سچائی کو ظاہر کرے گا، وہ دنیا کا سردار ہو گا، وہ ان باتوں کو بھی بتائے گا جو میں نے نہیں بتائیں۔

یہ اور اس طرح کی دوسری پیشین گوئیاں حضرت مسیح کے بعد کی شخصیتوں میں جس کے اوپر صادق آتی ہیں، وہ صریح طور پر پیغمبرِ اسلام کی ذات ہے۔ مگر مسیحیوں نے ”تسلی دہندہ“ کو روح القدس قرار دے کر سارے مفہوم کو الٹ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تسلی دہندہ روح القدس کی شکل میں حضرت مسیح پر ایمان والے کے اوپر آتا ہے اور ان کے ذریعہ ان سچائیوں کو ظاہر کرتا ہے جو حضرت مسیح نے نہیں بتائیں۔ اس تعبیر کے ذریعہ انھوں نے ان تمام اضافوں کو حق بجانب قرار دینے کا جواز ڈھونڈھ لیا جو حضرت مسیح کے بعد ان کے ماننے والوں نے حضرت مسیح کے مذہب میں کیں ۔ اس نے کلیسا کو حضرت مسیح کا دائمی اور مستند نما ئندہ بنا دیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو اس آخری اور ابدی سچائی سے محروم کر لیا جو پیغمبر اسلام کے ذریعے ظاہر کی گئی ہے ”فارقلیط“ کی صحیح تعبیر کی جائے تو اس سے نبوت محمدی کا اثبات ہوتا ہے اور اس کی غلط تعبیر کی جائے تو اس سے کلیسا کا مذہب برآمد ہو جاتا ہے تاہم مسیحی جانب نے اس نقطہ نظر سے بچنے کی کوشش کی اس کی کوشش یہ رہی کہ اس اختلافی بحث کو نظر انداز کر کے اتفاق کی مشترک بنیادیں تلاش کی جائیں ۔

مسیحی جانب کے بعض ذہین لوگوں نے یہ کوشش کی کہ مسیحیت کے جو عقائد اسلام کی نظر میں قابل اختلاف ہیں، ان کی ایسی خوبصورت تاویل کی جائے کہ وہ قابل قبول نظر آنے لگیں مثلاً مسیح کے ابن اللہ ہونے کا معاملہ ۔ ایک مسیحی نمائندہ ڈاکٹر شوبیکل نے کہا کہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا مطلب دراصل بشریت کے اعلیٰ معیار کو مثل کرنا ہے۔ انسان ایک بشر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعہ اس کو خدا جیسا مسیح کا خدا کا بیٹا ہونا اعلیٰ ترین انسانی بلندی کی تمثیل مگر یہاں فوراً یہ سوال تھا کہ مسیح کا ابن اللہ ہونا اگر تمثیلی معنوں میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان خدا کا بیٹا بن سکتا ہے۔ اس تعبیر کے بعد کفارہ کے عقیدہ کے لئے کوئی بنیاد نہیں رہتی جس پر موجودہ مسیحیت کی ساری عمارت قائم ہے ایک ملاقات میں میں نے ڈاکٹر شوبیکل کے سامنے یہ سوال رکھا تو انھوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر بلاشبہ ویٹیکن کے سرکاری عقیدہ کے خلاف ہے۔ مگر ہمارے یہاں فکری آزادی ہے۔

وہ واحد مسئلہ جس پر دونوں فریقوں کا سب سے زیادہ اتفاق ہو سکا وہ ” انحراف الشباب في جانبين“ کا یہ مسلم اور عیسائی دونوں معاشروں کا مشترک مسئلہ

ہے کہ نوجوان طبقہ مذہبی روایات سے کٹ کر الحاد کی طرف متفقہ طور پر یہ رائے سامنے آئی کہ اس مسئلہ کے مقابلہ کے لئے دونوں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ معاملہ میں کوئی ٹھوس پروگرام وضع نہ کیا جاسکا۔ ایک صاحب نے ’’بدار الحوار مع الملحدین‘‘ کی تجویز پیش کی۔ یعنی جس طرح مسلمان اور عیسائی یہاں بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں، اسی طرح ملحدین سے بھی گفتگو کا آغاز کیا جائے؛ مگر یہ کوئی تجویز نہیں اس قسم کی باتیں صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ کے احساس کے باوجود اس معاملہ میں ابھی تک زیادہ گہرائی سے سوچا نہیں جاسکاہے۔

راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ 99 فی صد لوگ وقت اور موضوع کے حدود میں رہ کر بولنا نہیں جانتے۔ سمینار بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا۔ بیشتر تقاریر اور مقالے غیر ضروری طور پر طویل اور موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر یہ کہتا: انی لا احب الاطالة عليكم اور جب اس اظہار کے باوجود اس کی تقریر لمبی ہوجاتی تو آخر میں معذرت کرتا کہ : ايها الاخوة اشكركم علی صبركم۔ ایک شخص اصل موضوع سے ہٹ کر کسی دوسرے موضوع پر لمبی تقریر کر ڈالتا اور پھر یہ کہہ کر حاضرین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا: فما اظن انی قد ابتعدت عن الموضوع۔ مختصر وقت میں اپنی تقریر ختم کردیتا تو یہ اتنی نادر چیز ہوتی کہ صدر جلسہ اس کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی ادا کرتا: اشکر خاصة علی تَقَيُّدِهِ بالوقت المحدد ندوة الحوار الاسلامی المسيحی میں ایک جرمن پادری سے میں نے بائبل کے عربی ترجمہ کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے نہایت عمدہ چھپائی اور نہایت عمدہ جلد کے ساتھ عربی انجیل کا ایک نسخہ مجھے ہدیہ پیش کیا۔ میں نے کہا۔ بائبل عربی میں مل سکتی ہے۔ اس نے کہا ضرور۔ یہاں تو ہمارے پاس اس کا کوئی نسخہ موجود نہیں ہے۔ البتہ آپ اپنا پتہ دے دیجئے، ہم جرمنی سے بھجوادیں گے مسیحی مشنرین اپنی مقدس کتاب ہر زبان میں سارے عالم میں پھیلا رہے ہیں۔ کاش اسی طرح ہم قرآن کو ہر زبان میں ساری دنیا میں پھیلا سکیں۔

فروری کی ۳ تاریخ تھی اور شام ۶ بجے کا وقت۔

طرابلس کے مسرح التحریر میں ۶۰ سے زیادہ ملکوں کے تقریبا پانچ سو مسلمان اور عیسائی جمع تھے۔ اچانک کارروائی رک گئی۔ لوگ گیٹ کی طرف دوڑ پڑے۔ فوٹو گرافر بھاری کیمرے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے مسلسل شاٹ لینے لگے۔ معلوم ہوا کہ لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی آئے ہیں۔ بالکل اچانک آئے تھے۔ لوگوں نے کوشش کی کہ ان کو ڈائس پر لے جائیں۔ مگر وہ عام لوگوں کے ساتھ ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گئے اور نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی

دبلا پتلا سا ایک آدمی، کھلا سر، کالے رنگ کا معمولی کوٹ پتلون جس پر ٹائئ بندھی ہوئی نہیں تھی۔ کے نشان سے خالی ایک معمولی آدمی کی طرح اپنی کرسی پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔

کارروائی بدستور جاری رہی۔ درمیانی وقفہ کے بعد دوسری نشست میں لوگوں نے صدر قذافی سے اصرار کیا تو وہ ڈائس پر گئے۔ وہاں بھی کسی امتیازی نشست پر نہیں بیٹھے بلکہ ایک عام کرسی پر بیٹھ گئے۔ درمیان میں تین بار انھوں نے لوگوں کی فرمائش پر تقریر کی ۔ تینوں تقریریں سادہ الفاظ کے ساتھ کسی تمہید کے بغیر شروع ہوئیں اور بالکل اچانک ختم ہو گئیں ۔ مسیحی جانب نے مذہب کا روحانی تصور پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ مذہب کو حکومت وغیرہ کے معاملات میں دخل نہیں کرنا چاہئے۔ مذہب کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ قوت محرکہ (MOTIVE FORCE) کے طور پر تمام سرگرمیوں میں صدر قذافی نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ویٹیکن میں تو عیسائیوں کی حکومت قائم ہے۔ وہ کیسے ہے۔

متى نستوعب تقاليد العصر من أجل

وحيد الدين خان مفکر اسلامی .. مؤسس مدرسة اسلامية جديدة في الفكر الاسلامى المعاصر .. وهو رئيس تحرير « الجمعيــــــــــــة الاسبوعية » أكبر المجلات الاسلامية في الهِنْدِ وأوسعها انتشارا ، ومؤلف « الاسلام يتحدى » الذي يعد نهجــــــا مستقلا في تقديم الإسلام بأسلوب العصر وعلى ضوء العلم ونتائجه الباهرة ، وهو مؤسس مدرسة اسلامية جديدة قوامها الدعوة الى الدين الاسلامى كما هو دون الخروج به الى ما تعكسه الظروف النفسية للمسلمين في العصر الحديث . وقوامها ايضا فهم العصر كما هو دون الخروج به الى ما تعكسه نفسيات المسلمين نتيجة لِلانْبِهَارِ من جهة ونتيجة للجهل ايضا . فهي ـ اى هذه المدرسة ـ تؤمن بوجوب مواجهة التحديات التى يواجهها المسلمون بنفس المصطلحات والوسائل التي يستخدمها الاعداء .. ونبذ الاتجاه الى تحويل الاسلام من دعوة الى حزب سياسي ، أو من فكر روحي الى فكر سياسي او فكر ايديولوجي مركزا على النواحي العلمية في العصر باعتبارها المدخل الجديد لتقبل الاسلام ، باعتباره الحقائق الوحيدة في هذا العالم في مجال العقيدة . والمفكر الهندى هو الآخر صاحب مشروع المركز الاسلامى وقد عرض هذا المشروع في كتیب صغير بعد أن قام بدراسة عميقة لظاهر تنزيل فى التاريخ الحديث .. وهما اليابان واليهود فى الولايات المتحدة ولقد جاءت قرارات مؤتمر الدعوة الاسلامية اللتي انعقدي طرابلس الغرب فى ديسمبر عام ۱۹۷۰م مماثلة بصورة مدهشة لهذا البرنامج . وكذلك يوجد توافق كبير بين هذه المقترحات وبين قرارات المؤتمر الاسلامي الذي عقده المركز العام لجمعيات الشبان المسلمين فى أبريل عام ۱۹۷۱ م . ولقد كان لقاؤنا بهذا المفكر الهندي المسلم ابان انعقاد الحوار الاسلامى المسيحى فى طرابلس، والذى حضره بصفته مراقبا . ونحن مع تقديرنا له لفتح قلبه لنا .. نتمنى ان يفتح القراء قلوبهم له فهو صاحب رغبة فى ان يفهم فهما سليما بعيدا عن التصورات المسبقة التي تعوق ادراك الانسان عن الحكم ● هناك عدة مسائل نرغب في طرحها أو دها . تأملنا في مؤلفاتكم وبالذات « حكمـــــــة الدين » ـ أى اننا نريد ان نعرف على ماذا تبنون رأيكم فى المركز الاسلامى .. كمشروع هام يجب أن يقوم به المسلمون وفق تصوركم الشامل الذي عرضتموه في منشور خاص .

روزنامہ الفجر الجدید ( طرابلس) کے ہفتہ وار ایڈیشن الاسبوع الثقافی ۲۶، مارچ ۱۹۷۶) میں جو تفصیلی انٹرویو شائع ہوا تھا اس کے ابتدائی حصے کا ترجمہ مقابل کے صفحہ پر درج ہے۔ (۵ فروری ۱۹۷۶) کے صفحہ ملاقات کا پہلا پیراگراف یہ تھا من مفكرى الاسلام المشاركين في اعمال الحوار المفكر الاسلامی وحید الدین خان رئیس تحرير مجلة ( الجمعية الاسبوعية ) التي تصدر في دلهى بالهند وصاحب الكتاب الشهير ( الإسلام يتحدى ) . حول دراساته الاسلامية الحديثة قال ( للجهاد ) انه قد انتهى من اعداد دراسة شاملة تصدر في كتاب يَحْمِلُ عنوان ( الأسلام ) يبرز فيه الحقائق الأساسية للأسلام بين سكر الباكسـتان كتاب ( (إِلَهُ واحد و انسان واحد و نظم واحد ) سمینار کے بعد طرابلس میں دو ماہ قیام رہا۔ لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ بہت سے اجتماعات میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس کا ذکر علیحدہ تفصیل چاہتا ہے ۔ ۶ فروری کو معمر قذافی (صدر جمہوریہ لیبیا) سے بھی ملاقات ہوئی فوراً ہی انھوں نے کہا ’’ میں آپ کی کتاب الاسلام تحدی پڑھ چکا ہوں “ عربی میں یہ کتاب اب تک دس سے زیادہ بار چھپ چکی ہے اور پورے عالم عرب میں پھیلی ہے۔ کتاب کو ایک عظیم کتاب بتایا۔ ملاقات کے دوران صدر قذافی نے اپنے ایک ساتھی سے راقم الحروف کا تعارف کراتے ہوئے کہا: ھو مفکر و مؤلف کبیر وَنَحْنُ نُقَدِّرُهُ۔ الجہاد (طرابلس) ۸ فروری ۱۹۷۶ صدر قذافی انتہائی سادہ آدمی ہیں۔ بظاہر ان کو دیکھ کر کسی قسم کی عظمت کا تصور نہیں ہوتا “ یہی وہ آدمی ہے جو جہازوں تک سے مسلح تھی ، کوئی بھی کارروائی کرنے کی مکمل قدرت رکھتی تھی مگر انھوں نے جان پر کھیل کر ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور اچانک اعلان کر دیا :

قامت قواتک المسلحة آپ کی مسلح فوجوں نے بالاطاحة بالنظام رجعت پسند متخلف اور بدعنوان الرجعي المتخلف المتعفن حکومت پر قبضہ کر لیا ہے وهكذا من الآن تعتبر آج سے لیبیا آزاد اور ليبيا جمهورية حرة بااختیار ہوگا اور اس کا ذات سيادة تحت اسم نام ہوگا " جمہوریہ عربیہ الجمهورية العربية لیبیا الليبية رئیسی ابنی)

اس سمینار کا سب سے زیادہ مؤثر حصہ اس کا دونوں طرف کے نمائندوں نے نہایت مخلصانہ لیبیا کا حکمران ہے جس کے ہاتھ میں پرو ڈالر کے خزانے ہیں “ میں نے سوچا ” اس معمولی سے آدمی میں وہ کون سی خصوصیت ہے جس نے اس کو اس مقام تک پہنچایا؟ اور پھر میرے دل نے جواب دیا ” خطرہ (RISK) مول لینے کی صلاحیت “ یکم ستمبر ۱۹۶۹ء کو جیب قاریونس کے معسکر (بیرک) سے اس معمولی افسراور اس کے ساتھیوں نے بن غازی کی طرف مارچ کیا تو ہر لمحہ ان کے لئے موت کا لمحہ تھا۔ سابق شاہ ادریس اگرچہ اس وقت ترکی میں تھے مگر ان کی سیکیورٹی فورس جو ہوائی جذبات کا اظہار کیا۔ مسلم نمائندہ نے کہا : اذا مشیتم الینا میلاً مشینا الیکم میلین، واذا اتیتم الینا مصافحین هر دلنا الیکم معانقین۔ مسلم نمائندہ نے رواداری کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا : نحن بما عندنا وَأَنْتُمْ بما عندکم ولكل مسیحی نمائندوں کا رویہ بھی نہایت دوستانہ تھا۔ مسلم نمائندہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ وہ فلاں مسیحی نمائندہ سے لاتو گفتگو کے دوران اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بعد مسلم نمائندہ نے یہ آیت پڑھی : وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبُهُم مَّوَدَّةً

لِّلَّذِيْنَ آمَنُوْا ... (مائدہ ۸۳ - کانفرنسوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جنہوں نے کانفرنس ہال کے باہر اپنی عملی بنیاد تیار رکھی ہو تاہم یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ تقریروں کے ساتھ تالیوں کی دھوم تھی۔ مگر جب ایک مسلم نمائندہ نے کہا "ہم گواہی دیتے ہیں کہ عیسیٰ کلمہ اللہ تمام انسانوں کی طرف خدا کے پیغمبر تھے۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف خدا کے پیغمبر ہیں" تو مسلمانوں نے دیر تک تالی بجائی مگر مسیحی نشستوں پر خاموشی طاری رہی۔

۶ فروری کی شام کو سیمینار کا خاتمہ انجیل اور قرآن کی تلاوت پر ہوا۔ دونوں تلاوتیں ایک عیسائی عالم نے کیں۔ پہلے اس نے انجیل (متی باب ۲۵) عربی میں پڑھی۔ پادری نہایت خوش الحان تھا اور خالص عربی لہجہ میں پڑھ رہا اس کے بعد اسی پادری نے قرآن (بقرہ، آخری آیات اور سورہ علق کی کچھ آیات) پڑھیں۔ دونوں تلاوتیں اس نے تجوید اور قرات کے تمام قواعد کے ساتھ کیں۔ قرآن کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کیا اور آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔ اصل انجیل بلاشبہ ایک خدائی کتاب تھی۔ مگر اس کا موجودہ عربی ترجمہ ظاہر ہے کہ انسان کے قلم سے ہے۔ برعکس قرآن کی زبان الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے ایک ساتھ پڑھے گئے تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے اور وہ خدائی کلام۔ انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود کوئی شکوہ پیدا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتلانے کے لئے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے نہ کہ کوئی انسانی کلام۔ مسلم عیسائی سیمینار کے بارے میں یہ عربی کارٹون طرابلس کے اخبار الجہاد (۸ فروری ۱۹۷۶ء) سے لیا گیا ہے۔

اُس کا حکم تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے بولا نہ جائے مگر عمر کے ساٹھویں برس پر پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا اسپین کے ڈکٹیٹر فرینکو کئی دن بیماری سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار اس دنیا سے چل بسے اب اس قسم کے دو لیڈر بچے ہیں، وہ ہیں یوگوسلاویہ طور پر منجمّد کر دیتے علاوہ بریں کیا یہ بات اخلاقی اصول کے مطابق ہے کہ قوم کے کسی لیڈر کی زندگی مصنوعی طور پر لمبی کرنا چاہیے یا کہ اسے لمبا کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ میڈلیشن کی دنیا میں ایک زبردست بحث چھڑنے کا سبب ہو سکتی ہے۔ بہت سے اسکالروں نے اس موضوع پر بحث کی ہے۔

یہ امر غیر معمولی طور پر اتفاقیہ ہے کہ اس معاملہ پر ایک کتاب ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف پر ۱۳ سال لگ گئے تھے۔ مورخ پال مرے کینڈال نے یہ کتاب فرانس کے ۱۱ ویں بادشاہ لوئی کے بارے میں لکھی ہے جسے مرے ۵۰۰ برس ہو چکے ہیں۔ لوئی ایک ایسا بادشاہ تھا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زندگی کو طوالت دی جائے۔ ماؤ، ٹیٹو اور فرینکو کی مانند بادشاہ لوئی ایک ایسی قوم جس کی مرکزی سرکار بہت مضبوط تھی، بنانے کے لئے ذمہ دار تھے۔ اور جو اُن کے آنکھ بند کرنے کے بعد انتشار یا خانہ جنگی کا شکار ہو سکتی تھی اُسے اس بات کا بخوبی علم تھا، جیسا کہ ہمارے جدید کے مارشل ٹیٹو اور چین کے ماؤسی تنگ ۔ عمر ۸۰ برس سے زیادہ ہے۔

فرینکو کا عرصہ حیات لمبا کرنے کی غرض سے سپین میں ڈاکٹروں نے جو رات دن کوشش کی اُس سے میڈیکل حلقوں میں بڑی زبردست بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا اُس وقت جبکہ قدرت کے تمام قوانین کے مطابق اُن کے حواس جواب دے چکے تھے، انہیں کچھ ہفتہ پیشتر ہی مرنے دینا چاہیے تھا؟ یا کیا ڈاکٹر اس بات میں حق بجانب تھے کہ ہر قسم کی میڈیکل امداد اُنہیں مہیا کر کے کچھ دیر تک اور جسمانی طور پر زندہ رکھنے کے لئے اُن کے درجہ حرارت کو خبر رہی زمانہ کے لیڈروں کو علم ہے۔ ایک جیسے مسائل کے لئے اُس کے حل بھی ویسے ہی تھے۔ لوئی کی عمر ۵۸ سال کی تھی جب اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ تب اِس امر کا علم ہو گیا کہ وہ بہت دیر تک زندہ نہ رہ سکے گا۔ کیونکہ اُس کے پریوار میں کوئی بادشاہ اپنا ۶۰ واں جنم دن منا نہ سکا تھا۔

لوئی کسی محفوظ قلعے میں امن و شانتی سے رہنا چنانچہ اُس نے ایک محل میں رہنا شروع کیا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر جنگلے لگا دیئے گئے تھے، اور محل کے چاروں طرف خندق کھوددی گئی تھی۔

چالیس تیر انداز پتھروں کی دیواروں پر بیٹھے ڈیوٹی دیتے انھیں حکم تھا کہ اگر کوئی اجازت کے بغیر محل کے نزدیک آنے کی جرات کرے تو اسے قتل کر دیا علاوہ بریں ۴۰۰ گھوڑ سوار دن رات علاقہ میں گشت کرتے رہتے تھے۔ محل کے اندر لوئی بڑی عیش پرستانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے کمرہ میں خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں، ماہر راگی اپنا راگ سنا کر اسے بڑے بڑے پنجروں میں بند کتے اور پرندے جو وہاں رکھے ہوئے تھے اسے بہت پسند زیادہ تر وقت وہ اپنے جسم کو اکٹھا کئے اور قابل رحم حالت میں آرام کرسی پر ہی گزار تا تا۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت باغ تھا۔ جسے وہ اپنے محل کی دوسری منزل سے دیکھتا رہتا۔

اگرچہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکا تھا۔ قوم کی زندگی اور موت اُس کے اختیار میں تھی۔ پر بھی وہ فکر مند تھا کہ اپنی رعایا پر یہ امر کیسے واضح کرے کہ وہ سب سے بڑا حکمران ہے۔ اُس کو سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اختیارات کا خواہشمند کوئی امیر، اُس کے ہم عصر ایک مورخ نے اُس کی نسبت تحریر کیا ہے۔ ” اُس نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ ابھی تک حکمران ہے ہر قسم کی چال چلی۔ وہ افسروں کو ڈسمس کر دیتا اور اُن کی جگہ نئے افسر مقرر کر دیتے جاتے۔ کسی کی وہ تنخواہ کم کر دیتا تو کسی کی تنخواہ میں اضافہ اُس نے اپنا وقت افسروں کو مقرر کرنے اور اُن کا بھٹہ بٹھانے میں صرف کیا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ کافی نہ تھا۔ ایک عظیم شکاری تھا۔ جانوروں سے وہ بہت انس کرتا تھا۔ اِس نے گھوڑے اور کتے منگانے کے لئے یورپ بھر میں اپنے نمائندے بھیجے ۔ مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ دے کر اُنہیں خریدا۔ چنانچہ اٹلی، سویڈن اور جرمنی سے گھوڑے اور کتے آنے شروع ہو گئے۔ جب وہ اُس کے محل میں پہنچ جاتے، اُس کی صحت کمزوری کے سبب اس امر کی اجازت نہ دیتی کہ وہ انھیں دیکھ بھی سکے۔ جو لوگ اُن کو خرید کر لائے ہیں اُن سے بات تک بھی کر سکے۔ لیکن اِسے علم تھا کہ سارے یورپ میں منصب دار اسے ہٹا کر خود اقتدار نہ سنبھال لے اور اُسے اپنے آخری ایام ایک دیوانہ بوڑھے کی مانند گزارنے نہ پڑیں۔

اپنے بڑھاپے میں لوئی ہر ایک پر شبہ کرنے اُسے اپنے پرانے ملازموں پر بھی شک تھا۔ چنانچہ انہیں ہٹا کر اُن کی جگہ اُس نے غیر ملکی بھرتی کر لئے تھے۔ اور پھر اُن کو اور اُن افسروں کو بھی جو اس اُس کی اِس خبر بیداری پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وہ ابھی تک زندہ تھا۔

اپنی صحت بحال کرنے کا وہ اتنا آرزومند تھا کہ اُس نے اِس امر کا حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اُس کے سامنے بولا ہی نہ جائے۔ اُس کا ذاتی معالج اِس کے ایک نوکر کی مانند کام کرتا تھا۔ کا وہ پسندیدہ بن گیا تھا۔ اُسے ... ر ... ا سنہری کراؤن کی حفاظت کے لئے مامور تھے۔ وہ متواتر تبدیل کرتا وہ اُن سے یہی کہا کرتا کہ قدرت کو تبدیلی بہت پسند ہے؟ سرکار کے کام کاج میں حصہ لینے کے لئے وہ کافی بوڑھا ہو چکا تھا۔ اُسے یہ فکر دامنگیر تھی کہ شاید ر مایا اس بات کو بھی بھول جائے کہ وہ ابھی تک ماہوار دیے جانے لگے تھے۔ اس وقت یورپ کے کسی میدان جنگ میں ۴۰ برس کام کر کے بھی ایک فوجی افسر اتنی رقم کما نہ سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اُس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ کر سکے تو وہ اپنا سارا خزانہ لٹانے کو تیار تھا۔ ۲۳ جولائی ۱۸۸۳ء

اس کی پرارتھنا سہل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت تاہم لوئی اسے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہشمند تھا کہ اس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اس جوگی کے لئے سنگترے خریدنے کے لئے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے ضرور

لوئی پر پھر فالج کا حملہ ہوا اور ۳۰ اگست کو وہ اس دنیا سے چل پڑا۔ اس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے۔

”میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ فرانس کے عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ کس طرح سے اپریل ۱۹۷۴ء میں صدر جارج پومپیڈو نے جب وہ کینسر کی وجہ سے مر رہے تھے اپنے آخری بیان میں کہا تھا۔

”میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔ آخرکار ۱۱ ویں لوئی کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔

کو جب اُس کا ۶۰ واں جنم دن نزدیک آنے والا تھا وہ اور بھی فکر مند ہوگیا۔ اُس وقت وہ اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ وہ مشکل سے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔

اٗس کے دل میں ایک خیال آیا۔ ہزاروں سنہری سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع اُس نے تین بحری جہاز دے کر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ کو بھیجے، تاکہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اِس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔

اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاجپوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم کا تلک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ کریم ۱۹۷۶ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے اس مقصد کے لئے جٹایا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے۔ آخر کار نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اس کے محل میں لایا گیا کہ ایجنسی کی شرائط الرسالہ کی جتنی تعداد ہرماہ مطلوب ہو، اس کے مطابق پوری رقم بطور ضمانت دفتر الرسالہ میں (مثلاً ماہانہ دس پرچوں کے لئے ۲۰ روپے) کم از کم دس پرچوں پر ایجنسی دی جائے گی۔ کمیشن ۲۵ فیصد مطلوبہ پرچے کمیشن وضع کرکے ہرماہ بذریعہ وی۔ پی روانہ ہوں گے۔ ڈاک اور پیکنگ خرچہ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔

Printed page