شہاب ثاقب
Al-Risala, October 1976, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۳ نومبر ۱۸۳۳ء کو شمالی امریکہ کے مشرقی علاقہ میں ایک مقام پر لوگوں نے دیکھا کہ آدھی رات سے لے کر صبح تک مسلسل شہاب ثاقب گر رہے ان کی تعداد کا اندازہ تقریباً دو لاکھ کیا گیا ہے برہنہ آنکھوں سے اس قسم کا مشاہدہ اگر چہ بہت تاہم دوربین کے ذریعہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی تعداد میں ہر وقت شہاب ثاقب کی بارش ہماری زمین پر ہوتی رہتی ہے۔ اندازہ ہے کہ روزانہ تقریباً دس کھرب شہاب ثاقب اوپر سے آتے ہیں جن میں سے دو کروڑ کے قریب زمین کی فضا میں داخل ہوتے ان کی رفتار رائفل کی گولی سے سیکڑوں گنا زیادہ تیز ہوتی ہے۔ یعنی کم و بیش ۲۶ میل فی سکنڈ بعض اوقات ۵۰ میل فی سکنڈ تک بھی دیکھی
زمین کے گرد ہوا کا کرہ ایک غلاف کی شکل میں تمام دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ ابتدائی بلندی تقریباً چھ میل ہے۔ اس غلاف کی وجہ سے شہاب ثاقب ہماری زمین تک پہنچ نہیں بلکہ کره ہوا کی اوپری سطح تک پہنچتے ہی ہوا کے ساتھ ٹکرا جاتے ہیں اس رگڑ کے سبب سے اتنی حرارت پیدا ہوتی ہے کہ شہاب ثاقب جل اٹھتے یہی جلنے کی روشنی ہے جو ہم کو ٹوٹتے ہوئے تارے کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ سے شہاب ثاقب پاش پاش ہو کر باریک ذرات کی شکل میں ہوا میں منتشر ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ ہوا کا غلاف دنیا کے گرد نہ ہوتا تو شہاب ثاقب بہت بڑی تعداد میں نہایت شدت کے ساتھ زمین پر گرتے جن کے خلاف ہم کوئی بچاؤ نہیں کر سکتے تھے۔ زمین چھلنی ہو کر رہ جاتی۔ چاند کی سطح پر کثرت سے جو غار پائے جاتے ہیں، خیال ہے کہ یہ اسی قسم کے شہابیوں کی بمباری سے پیدا ہوتے ہیں۔
زمین کی طرف آنے والے شہابیوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زیادہ بڑے ہونے کی وجہ سے جل نہیں پاتے اور زمین پر گر پڑتے ہیں۔ چونکہ زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی ہے اور خشکی کا بھی بہت بڑا حصہ جنگل اور بیابان وغیرہ کی شکل میں انسانوں سے اس لئے یہ اتفاقی شہابے عملاً یا تو سمندر میں ڈوب جاتے ہیں یا شہروں سے دور کسی جنگل بیابان میں گر پڑتے ہیں۔ چنانچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے بہت سے پتھر کے ٹکڑے پائے گئے ہیں جو غار میں پڑے ہوئے تھے اور اس طرح سمجھا گیا ہے کہ یہ اوپر سے آتے تھے۔ ان شہابی پتھروں میں ایک وہ ہے جو ایری زونا میں پایا گیا تھا جس کا وزن ۵۴۳۴ پونڈ یہ زمین پر گر کر گیارہ فٹ تک زمین میں دھنس گیا اسی طرح ایک مقام پر ساڑھے ۳۶ ٹن کا ایک آہنی تودہ پایا گیا ہے۔ اس کو بھی اسی قسم کا آسمان سے گرا ہوا مادہ سمجھا جاتا ہے۔ بلاغت کیا ہے عبداللہ بن المقفع (۴۶-۱۰۶ھ) اپنے زمانہ کا اعلیٰ ترین ادیب تھا۔ فارسی اور عربی دونوں میں اس کو غیر معمولی قدرت تھی۔ اس نے بلاغت کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے: "بلاغت یہ ہے کہ جب ایک بات اے سے تو سمجھے کہ وہ بھی اس طرح کی عمدہ عبارت لکھ سکتا ہے:"