Al-Risala · October 1976

سوال و جواب ــــ

Al-Risala, October 1976, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے کلچرل تحفظ کا مسئلہ ہے۔ آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے ۔

جواب: کلچرل تحفظ کی بات کرنے والے لوگ سخت غلطی پر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی الگ کلچر ہی نہیں جس کے تحفظ کی ضرورت ہو، اگر کسی چیز کے تحفظ کی ضرورت ہو سکتی ہے تو وہ دین د اخلاق ہے نہ کہ کلچر ۔

اس قسم کی باتیں اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مسلمان کی اصل حیثیت کو بھول گئے ہیں۔ کی اصل حیثیت داعی اور پیغام بر کی ہے۔ داعی کے مشن کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مدعو سے کلچرل یگانگت پیدا کرے نہ کہ کلچرل بے گانگی لباس اور زبان اور رہن سہن وغیرہ جن کے مجموعہ کو کلچر کہتے ہیں، ان میں اگر داعی اور مدعو الگ الگ ہوں تو دونوں کے انداز اور قربت پیدا نہیں ہوسکتی اور جب تک انس اور قربت نہ ہو، سننے والا نہ سنانے والے کی آواز کو سنے گا اور نہ اس پر دھیان دے گا۔

داعی اور مدعو کے اسی نازک رشتہ کی وجہ سے پیغمبروں کو اسی قوم سے چنا گیا جس کے اندر انھیں دعوتی کام کرنا تھا۔ پیغمبر وہی زبان بولتے تھے جوان کی مدعو قوم بولتی تھی۔ حتیٰ کہ جب کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ نبی کو فرشتہ ہونا چاہئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم فرشتہ بھیجیں تب بھی اس کو تمھارے جیسا آدمی بنا کر بھیجیں گے اور اس کو وہی لباس پہنائیں گے جو تم پہنتے ہو۔ (انعام - ۹)

اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کا کلچر بھی وہی تھا جو غیر مسلموں کا تھا۔ ان کے درمیان جو اختلاف ہوا وہ اعتقاد اور عمل کی بنیاد پر تھا نہ کہ جدید اصطلاح کے مطابق محض کلچر کی بنیاد پر۔

ٹریکٹروں کی ایک کھیپ کابل کے لئے ہوائی جہاز پر چڑھائی جارہی ہے۔ افغانستان سے یہ اس قسم کا دوسرا آرڈر ہے۔ کی مانگ بیرونی ملکوں میں بڑھ رہی ہے افغانستان سے زرعی مشینری کا ایک آرڈر ملا ہے جس کی قیمت ۳ ملین ڈالر ہے۔

Printed page