وہ ابھی تک دستکاری
Al-Risala, December 1976, pp. 3–10
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ لوگ جو اپنے میں اردو کا امین اور وارث سمجھتے ہیں، ان کے اندر ایک عجیب و غریب خصوصیت ہے جس کو شاید ساری دنیا میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے کے دور میں ہیں مطلب کتابت کو مشینی ضرب دینا ہے۔ ایک ماہر کا تب کے عمل کو جب ٹائپ میں ڈھال دیا جائے تو اتنے ہی وقت میں لاکھوں صفحے اسی خوش نما ڈیزائن کے ساتھ چھپ کے آسکتے وہ کسی گروہ کی برائیوں کو لے لیتے ہیں اور اچھائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
انھوں نے انگریزوں سے ان کی تہذیب لی، مگر ان کی سائنس نہ لی۔ نو آبادیاتی ماحول سے سیاست لی مگر تعمیر نہ لی۔ عیسائیوں سے مناظرہ بازی لی مگر مشنری اسپرٹ نہ لی۔ اسی سلسلے کی ایک مثال یہ ہے کہ اردو کی قوم نے ایرانیوں سے ادبی لفظی اور شاعرانہ تخیل تو اتنی زیادہ لی کہ پوری زبان اس کے سانچے میں ڈھل گئی، مگر جدید دور میں جب ایرانیوں نے کتابت کے طریقے کو چھوڑ دیا اور اس کو آرٹ کے لئے خاص کرتے ہوئے اپنی عام چھپائی کے لئے عربی ٹائپ کو معمولی ترمیم کے ساتھ اختیار کر لیا تو اردو والوں نے اس دوسرے معاملہ میں ایران کی نقل نہ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو آج دنیا کی تمام زبانوں میں سب سے زیادہ پس ماندہ عربی، فارسی اور ہندی جو اردو کی جدّی زبانیں ہیں ٹائپ اختیار کر کے ترقی کر رہی ہیں، اور اردو مشینی عہد میں بھی اب تک دستکاری کے دور سے گزر رہی ہے۔ اردو کی ترقی میں اس کے مزاج پر ادبیت کے غلبہ کے بعد دوسری سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ابھی تک اس میں ٹائپ کا رواج نہ ہو سکا۔ ہیں جتنی دیر میں کاتب نے ایک صفحہ لکھا تھا۔ خوش قسمتی سے اردو کے لئے ہم کو نیا ٹائپ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ عربی اور فارسی کا ٹائپ معمولی تبدیلی کے بعد اردو میں نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے۔
عربی ٹائپ کو اردو کے لئے اختیار کرنے کا مزید جو لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہو جائیں، وہ صرف تاریخ کا موضوع بن کر رہ جاتے ہیں جس طرح دو سو برس پہلے کا یہ ہینڈ پریس اب صرف میوزیم میں دکھائی دیتا ہے۔
ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن کا رسم الخط اور ہماری مادری زبان کا رسم الخط دونوں ایک ہو جاتے ہیں مگر یہ دو طرفہ خوش قسمتی بھی ہمارے لئے کسی اقدام کا محرک نہ بن سکی۔
الرسالہ کے پروگراموں کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ دہلی یا کسی دوسرے مرکزی مقام پر عربی ٹائپ کا پریس قائم کیا جائے ۔ ہندوستان میں ایک اچھے عربی پریس کی شدید ضرورت ہے۔ یہ پریس نہ صرف عربی کتابوں کی طباعت کی ضرورت کو پورا کرے گا۔ بلکہ الرسالہ اور دوسری اردو کتابوں کو ٹائپ میں چھاپنے کا اہتمام بھی ہماری تمنا ہے کہ وہ دن آئے جب ادارہ الرسالہ کی ساری چیزیں ٹائپ میں چھپ رہی ہوں۔ ہمارا یہ اقدام شاید اس دور کا آغاز بن جائے جب کہ اردو زبان کا تمام کام ٹائپ میں ہونے لگے ، اور دوسری لسانی قومیتوں کی طرح ہم دستکاری کے دور سے نکل کر سائنس کے دور میں پہنچ چکے ہوں ۔ اردو قوم کی ایک عجیب وغریب خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ خرید کر پڑھنا نہیں جانتی۔ اگر کسی کو پسند آ جائے تو اگلے دن ایڈیٹر کو ایک خط ملے گا جس میں رسالہ کی تعریف کے بعد فرمائش ہوگی کہ اس کے "ادارہ" کو رسالہ اعزازی طور پر جاری کر دیا ملی تعمیر کا کام سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام ہے بہترین صورت یہ ہے کہ ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں اس کی پسندیدگی اس کے لئے اس بات کا محرک نہیں بنے گی کہ وہ خود باقاعدہ خریدار بنے اور دوسروں کو اس کا خریدار بنائے ۔ وہ اعزازی پرچہ کے حصول کے لئے ایک خط لکھ دینا کافی سمجھتا ہے اور بس ۔ اردو کی ترقی میں یہ دوسرا عامل بھی اتنی ہی بڑی رکاوٹ ہے جتنا کہ پہلا عامل ۔
ایک ایک سرمہ
پانچویں نہ بنو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ایک حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كن عالما او متعلما او مستمعا او محبا ولا تكن الخامس فتهلك تم علم کو جاننے والے بنو یا علم کو سیکھنے والے یا علم کو سننے والے یا علم سے محبت کرنے والے، اور پانچویں نہ بنو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔
اس حدیث میں علم سے مراد وہ علم ہے جو آدمی کو اللہ اور اللہ کی باتوں سے باخبر کرے ۔ کوئی پڑھا لکھا ہوتا ہے، کوئی جاہل کوئی ذہین ہوتا ہے کوئی غبی۔ اس لئے آدمیوں کی مختلف حالت کے اعتبار سے آپ نے چار درجے مقرر کر دیئے ۔ اور فرمایا کہ ہر حال میں تم کو ان چار درجوں میں سے کسی ایک درجہ پر ہونا چاہئے۔
یا تو تم وہ شخص بنو جس نے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرکے دین خداوند ی کو بخوبی سمجھ لیا ہو اور اس کے لئے وہ ضروری محنت و ریاضت کرلی ہو جو آدمی کو صحیح معرفت تک اگر یہ مقام تم کو حاصل نہ ہو تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اپنی اس کمی سے آگاہ ہو اور اس کو پورا کرنے کے لئے علم حقیقی کو سیکھنا شروع کرد و، قرآن وسنت کے طالب علم بن جاؤ۔ اگر تم اپنے حالات کے لحاظ سے یہ بھی نہ کرسکو تو تیسرا درجہ یہ ہے کہ تمھارے اندر اس واقعہ کا اعتراف پیدا ہو جائے کہ تم نہ صاحب علم ہونہ طالب علم۔ ایسی حالت میں تمھارے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم سننے والے بن جاؤ۔ جہاں کہیں خدا کی باتیں ہوں، تم وہاں خاموشی سے بیٹھو اور جو کچھ بتایا جارہا ہو اس کو غور سے سنو۔ پھر اگر کوئی اس درجہ پر بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی اس محرومی کا احساس کرے۔ اور اس احساس محرومی کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں ان لوگوں کے لئے محبت پیدا کرے جو اس متاع علم میں اپنا حصہ پائے ہوئے ہیں جس سے وہ اپنا حصہ نہ پاسکا۔ یہ چوتھا درجہ ہے جہاں کوئی مومن اس دنیا میں ہو سکتا ہے ۔
اس کے بعد جو پانچواں درجہ ہے وہ ہدایت کا نہیں بلکہ گمراہی کا درجہ ہے۔ وہ یہ کہ آدمی علم حقیقت سے باخبر نہ ہو، اس کے باوجود بحث و نزاع کرے، وہ علم دین کے بجائے کسی اور علم کا متعلم بن جائے۔ وہ سننے اور سیکھنے کے لئے ان مجالس کا انتخاب کرے جہاں دین کی باتیں نہیں ہوتیں۔ حتی کہ اس کے دل میں محبت و احترام بھی ان لوگوں کے لئے ہو جائے جو علم دین کے مالک تو نہیں ہیں البتہ دوسری قسم کی مہارتوں میں کمال رکھتے ہیں یہ انسان کی پانچویں حالت ہے اور جو اپنے آپ کو اس حال پر پائے اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹے اور مذکورہ چار میں سے کوئی ایک بننے کی کوشش کرے ۔
وہ سچائی کے ایک معلم کا انتظار کر رہے تھے، مگر جب سچائی کا معلم آیا تو انھوں نے اس کو نہ ماننے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں تلاش کرلیں ۱۹۴۷ کا واقعہ ہے۔ ایک بدوی قبیلے کے کچھ افراد شرق اردن کے علاقہ سے فلسطین کی طرف جا رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس کچھ غیر قانونی اشیاء تھیں، اس لئے انھوں نے عام گزرگاہ کو چھوڑ کر پہاڑی راستہ سے فلسطین میں داخل ہونا چاہا۔ اس سفر میں وہ بحر مردار کے شمال مغربی کنارے پر پہنچ گئے جس کو وادی قمران کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ کچھ دیر آرام لینے کے لئے رکے۔ انھیں قریب کی پہاڑی میں ایک کھوہ نظر آیا۔ ان میں سے بعض افراد کھوہ کے اندر حیرت انگیز طور پر انھوں نے پایا کہ کھوہ کے اندر کچھ مٹی کے برتن رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو نکال کر وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اندر شاید قدیم زمانہ کے سکے ہوں گے۔ مگر ان کے اندر سکوں سے بھی زیادہ قیمتی چیز تھی۔ یہ بائبل کے ابواب تھے جو قدیم طرز کے طومار میں لکھے ہوئے تھے اور ان کو حفاظت کی غرض سے ان برتنوں میں بند کر دیا گیا تھا۔
بدؤوں نے اولاً اس کو فلسطین کے ایک مسلم شیخ کے سامنے پیش کیا۔ اس نے سمجھا کہ یہ سریانی زبان کا کوئی مخطوطہ ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ کئی آدمیوں کے پاس ہوتے ہوئے یروشلم کے ایک یہودی کے پاس یہودی نے دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ یہ عبرانی زبان میں ہے اور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے کچھ اجزاء کو خرید لیا۔ اس وقت سے اب تک ان کے بارے میں علماء کے درمیان زیر دست بحث وتحقیق جاری گول لپیٹے ہوئے چمڑے کے مسودات جو برتن کے اندر رکھے ہوئے ملے۔
یہ کام تمام تر یہودی اور مسیحی علماء نے کیا ہے مسلمانوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ میں گردش کرنے کے بعد اب یہ تاریخی ذخیرہ یروشلم میں اسرائیل کے قبضہ میں ہے۔
چمڑے کے یہ طومار تعداد میں گیارہ ہیں جن میں کل سات کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔ ان کی زبان عبرانی ہے۔ ان میں سے اکثر کتا بیں مثلاًیسعیاہ حبقوق وغیرہ موجودہ بائبل میں شامل ہیں، جو دسویں صدی عیسوی میں مرتب کی گئی تھی۔ دونوں کے متن میں بنیادی یکسانیت کے باوجود مکمل یکسانیت نہیں ہے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے کچھ یہودی علماء نے بائبل کے متن کو محفوظ کرنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی۔ سائنسی طریقوں سے ان کی عمر کا جو اندازہ کیا گیا ہے اس کے مطابق علماء نے ان کا زمانہ ۷۰ ۔ ۶۷ء مقرر کیا ہے۔ یہ اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ جب ان کو کھولنے کی کوشش کی گئی تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
یہ طومار جن کو ”ڈیڈ سی اسکرول“ کہا جاتا ہے،
ثابت کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی کے یہودی ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ موسیٰ کے بعد دو خاص نبی اور آنے والے ہیں ایک ”مسیح“ دوسرا ”سچائی کا معلم“۔ مسیح ”آخری دور میں آنے والے پیغمبر کی راہ ہموار کرے گا، اور سچائی کا معلم“ بدروحوں کو ختم کرے گا، وہ آخری دنوں میں آئے گا۔ کتاب کے مسودے میں آنے والے ”سچائی کے معلم“ کے سات براہ راست حوالے شمار کئے گئے ہیں۔
مختلف نظریات قائم کئے گئے ہیں مگر ابھی تک علماء کا کسی ایک رائے پر اتفاق وہ ہوسکا، ان کے نزدیک مسیح کو اس کا مصداق قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ کیونکہ مسودات صاف لفظوں میں "سچائی کے معلم" کو مسیح سے الگ ایک شخصیت قرار دے رہے ہیں، دوسری کوئی مذہبی شخصیت پچھلے دو ہزار برس کے اندر انھیں نہیں ملتی جس پر وہ عظیم اوصاف چسپاں ہوتے ہوں جو سچائی کا معلم کے لئے مسودات میں بتائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والا سچائی کا معلم دنیا سے بدروحوں کو ختم کرے گا، وہ خدا کی شریعت کو ہمیشہ کے لئے بگاڑ سے محفوظ کر دے گا، نہ خدا کی ابدی سچائی کا اظہار کرے گا، اس کا جلال قیامت تک ختم نہ ہوگا، وغیرہ ۔ یہ الفاظ جس شخصیت پر چسپاں ہوتے ہیں، وہ بلا شبہ وہی ہے جس کو کارلائل نے پیغمبروں کا "ہیرو" قرار دیا ہے، مگر انھوں نے پہلے سے فرض کر لیا ہے کہ یہ شخصیت بہر حال اس ذیل میں نہیں آتی۔
واضح ہو کہ عہد نامہ قدیم کی اکثر کتابیں آٹھویں اور ڈیڈ سی اسکرول پر جن علماء نے تحقیقات کی ہیں ان کے لئے اب تک سب سے زیادہ مشکل مسئلہ یہ رہا ہے کہ ”سچائی کا معلم“ سے مراد کون ہے۔ اس سلسلے میں تیسری صدی قبل مسیح کے درمیان قلم بند کی گئیں۔ تمام کتابوں کے اصل مسودات ضائع ہو چکے ہیں۔ ڈیڈسی اسکرول کی ایک اہمیت، علماء کے قیاس
کے مطابق، یہ ہے کہ شاید ان میں سے بعض متعلقہ کتاب سے منتشر ہو کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ ان کی نسلیں عبرانی زبان بھول گئیں۔ دسویں صدی قبل مسیح میں بائبل کا یونانی ترجمہ تیار کیا گیا۔ اس ترجمہ کے بھی اب صرف نقل در نقل نسخے دنیا میں پائے جاتے ہیں۔
بعد کے دور میں بائبل کے جو قلمی نسخے رائج ہوئے ان میں بہت اختلافات تھے۔ دوسری صدی عیسوی میں کچھ یہودی علماء نے ان مختلف نسخوں کو سامنے رکھ کر ایک مستند متن تیار کیا۔ اسی کا نام آج عہد نامہ قدیم ہے۔
ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے چنالا (دھنباد) میں ایک پرانی کوئلہ کی کان تھی جو ۱۹۴۵ء سے بند تھی ۔ ساڑھے چار سو فٹ گہری اس کان میں دھیرے دھیرے پانی بھر گیا۔ اس سے ۸۰ فٹ کے فاصلہ پر دو سال پہلے ایک اور کان کھودی گئی۔ عالمی بنک اور بیرونی ماہرین کی مدد سے تیار کی ہوئی یہ کان جدید طرز کی مشینریوں سے آراستہ تھی۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء کو اس کان میں ایک بھیانک حادثہ ہوا ۔ دونوں کانوں کے درمیان ۸۰ فٹ کا فاصلہ کافی محفوظ فاصلہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اچانک اس کے اندر تقریباً ۸۰ فٹ چوڑا شگاف ہو گیا اور اس کے اندر سے پرانی کان کا پانی نئی کان میں اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ صرف تین منٹ کے اندر نئی کان بھر گئی ۔ مزدور اور انجینئر جو اس وقت کان کے اندر کام کر رہے تھے ایک سو ملین گیلن سے بھی زیادہ پانی کے سیلاب میں غرق ہو گئے ۔ صرف ایک شخص بھگوان سنگھ (مونگیر) بچا جو حادثہ سے صرف چند منٹ پہلے باہر آ گیا تھا ۔ یہ واقعہ حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی کی تصویر ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے ۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ دیوار ٹوٹ جائے اور آخرت کے حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازی گری کام نہ آئے گی۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہو گا ۔ وہ سارے لوگ ناکامی اور بربادی کے دائمی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے جو دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے تھے۔ ہر وہ شخص جو غاصر نے مالکِ کائنات کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر کرنا ہوگا۔ آپ کے ہو گا ۔
آپکے پاس خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے ہر وقت بتا رہے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔
ایک بزرگ کو ان کے پڑوسی نے تکلیف پہنچائی۔ وہ اس سے سخت ناراض ہو گئے " اب میں نہ اس سے بات کروں گا اور نہ اس سے تعلقات رکھوں گا" انھوں نے اپنے دل میں سوچا۔ اس کے اگلے دن اتفاق سے ان کے لڑکے سے بھی ان کو ایک تکلیف پہنچی۔ وہ اس سے سخت ناراض ہوئے اور غصہ میں گھر سے باہر نکل آئے۔ رات تک ان کا غصہ یہاں تک کہ وہ سو گئے۔ اگلی صبح کو سو کر اٹھے تو انھیں محسوس ہوا کہ ان کے دل میں اپنے بچے کے لئے وہ باز ہی محبت ہے جو پہلے تھی۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو بلایا اور لطف ومحبت کے ساتھ اس سے بات کر کے کل کے غصہ کی
"اگر میں اپنے لڑکے کا قصور معاف کر سکتا ہوں تو کیا اسی طرح میں اپنے پڑوسی کا قصور معاف نہیں کر سکتا" ان کے دل میں خیال آیا، اور اچانک انھیں محسوس ہوا کہ لڑکے کی غلطی کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سبق " اولاد جن مصلحتوں کے تحت دی جاتی ہے ان میں سے ایک مصلحت شاید یہ بھی ہے کہ انسان کو بتایا جائے کہ وہ کس طرح ایسا کر سکتا ہے کہ ایک قصور وار کا قصور معاف کر دے۔ اگر آدمی کو اولاد نہ دی جاتی تو اس اخلاق محبت کا عملی سبق کسی اور طرح اس کو نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اللہ سے معافی مانگی اور اپنے پڑوسی سے مل کر اس کو خوش کیا۔
اگر آدمی کے سینہ میں ضمیر زندہ ہو اور وہ خدا کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہو تو اسی طرح ہر دن وہ اپنے گرد و پیش خدا کی آواز سنتا ہے۔ وہ ہر موڑ پر دیکھ سکتا ہے کہ خدا کے فرشتے کھڑے ہوئے بتا رہے ہیں کہ اس کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آواز صرف ان لوگوں کو سنائی نہیں دیتی جن کے کان خدا کی آواز سننے کے لئے بہرے ہو چکے ہیں۔ وہ خدا کی آواز صرف اس وقت سنیں گے جب اسرافیل کی چنگھاڑ ان کے کان کے پردے پھاڑ دے۔
ایک بزرگ ایک شخص کے یہاں مہمان ہوئے اس آدمی کے گھر سے ملی ہوئی مسجد تھی جس میں نمازی بہت کم آتے بزرگ نے اپنے سکون کی خاطر مسجد میں قیام کو پسند کیا۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ عرصہ سے اس کی صفائی نہیں ہوئی ہے۔ یہ برسات کا زمانہ تھا۔ اس لئے ٹپکنے سے اور بوچھار سے مسجد کی صفیں جگہ جگہ سے بھیگ گئی تھیں اور ان میں بو بھی پیدا ہو گئی تھی۔ اگلے دن سورج نکلا تو بزرگ نے ساری صفیں نکال کر باہر دھوپ میں پھیلا مسجد میں خوب صفائی کی۔ اس کے بعد صفوں کو سکھا کر اور جھاڑ کر اپنی جگہ دوبارہ بچھا دیا۔ بزرگ جب پہلی بار مسجد میں داخل ہوئے تھے تو اس کی حالت دیکھ کر انھیں سخت انقباض ہوا تھا۔ اب جو وہ
اس کی صاف ستھری فضا میں بیٹھے تو ان کے دل کو ایک خاص طرح کی خوشی محسوس ہوئی ۔ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انھیں اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ عین اس وقت ان کے میزبان آگئے ۔ ”اس شخص سے اتنا بھی یں ہو سکتا کہ مسجد کی صفائی کرے “ اس کو دیکھتے ہی ان کے اندر یہ احساس ابھرا ” یہ دین کے اوپر لمبی لمبی تقریریں کرتا ہے۔ مگر عمل کا یہ حال ہے کہ اپنے پڑوس کے خانہ خدا کو درست نہیں کر سکتا ۔ اس احساس نے بہت جلد ان کے لاشعور میں یہ جذبہ ڈال دی کہ دین میں اس سے زیادہ ہوں۔ میری دین داری کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں “ دن گزر گیا۔ شام کو وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اجنبی شخص اندر داخل ہوا۔ اس کا دبلا پتلا چہرہ اور اس کے پھٹے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کوئی غریب مسافر ہے۔ بزرگ نے اس کے سلام کے جواب میں وعلیکم السلام تو کہا مگر دل میں سوچا ” یہ شخص بھی کتنا بے وقت آیا ہے، اب اس کے لئے رات کے کھانے کا انتظام کرنا ہوگا۔ رات بھی شاید وہ اسی مسجد میں گزارے اور میری تنہائی میں خلل ڈالے “ ابھی وہ اسی انقباض میں تھے کہ ان کے میزبان مسجد میں داخل ہوئے۔ مسافر کو دیکھ کر انھوں نے فوراً آگے بڑھ کر اس کو سلام کیا ، اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہاں سے آنا ہوا۔ پھر اس کے حالات معلوم ہونے کے بعد خود ہی بولے ” آج آپ یہیں قیام کریں اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں “ میزبان نے یہ ساری باتیں اس طرح کیں گویا یہ نو وارد ایک غریب مسافر نہیں، ایک نعمت ہے جو خدا نے اس وقت خصوصی طور پر ان کے لئے بھیج دیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد بزرگ نے محسوس کیا کہ ان کے دل میں نئی ہلچل پیدا ہورہی ہے ”مسجد کی صفائی کے معاملہ میں میں نے اپنے میزبان پر سبقت کی تھی۔ مگر مسافر کی خدمت کے معاملہ میں وہ مجھ سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے“ انھوں نے اپنے دل میں کہا ” اگر میرے اندر ایک خصوصیت ہے تو میزبان کے اندر دوسری خصوصیت ہے، اور کیا معلوم مسجد کی صفائی کے مقابلہ میں مسافر کی خدمت اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ اس خیال کا آنا تھا کہ انھوں نے توبہ کی اور سجدہ میں گر کر اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کو اور ان کے میزبان کو ہدایت دے اور اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے۔
ہماری دنیا فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر وقت اندیشہ ہے کہ آدمی کسی گڑھے میں جاگرے۔ مگر اوپر کے واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ نے یہاں بچاؤ اور اصلاح کے بھی بے شمار مواقع رکھ دیئے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر ایمانی جذبہ نہ زندہ ہو تو ہر فتنہ کے وقت اس کو اپنے قریب ہی ایک روشنی مل جائے گی جس سے فائدہ اٹھا کر وہ دوبارہ اپنے نجات کے راستہ کو پا سکتا ہے۔ مگر جب ایمان کی چنگاری بجھ جائے تو وہ بچاؤ کے الہی انتظام سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ وہ پھسلن پر گرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس آخری گڑھے میں پہنچ جاتا ہے جس سے پھر آدمی کو نکلنا نہیں ہے : جو خدا سے ڈرنے والے ہیں جب ان پر شیطان کا گزر ہوتا ہے، وہ چونک جاتے ہیں ۔ پھر انھیں سوجھ آ جاتی ہے اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کسی طرح نہیں تھمتے ۔